اخبارسب کے لیے سب کچھ

بجلی کے بریک ڈاؤن کی تحقیقات مکمل، سی سی ٹی وی نے پورے ملک کا مجرم پکڑوا دیا

لاہور: بجلی کے ملک گیر بریک ڈاؤن کی وجوہات جاننے کے لیے سینٹرل پاور جنریشن کمپنی کی قائم کردہ کمیٹی نے تحقیقاتی رپورٹ مکمل کرلی۔

تفصیلات کے مطابق بجلی کے ملک گیر بریک ڈاون کی انکوائری مکمل ہوگئی، فرانزک چھان بین میں قصور وار افسران بے نقاب ہو گئے، غفلت برتنے پر 600 میگا واٹ گدو پاور پلانٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر الیکٹریکل سوئچ یارڈ فائق حسین شاہ کو معطل کردیا گیا۔

سینٹرل پاور جنریشن کمپنی کی قائم کردہ کمیٹی نےفرانزک شواہد اکٹھے کیے تو سی سی ٹی وی فوٹیج نے قصور وار افسر کو بے نقاب کردیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج سے انکوائری کمیٹی پر انکشاف ہوا کہ 600 میگاواٹ پاور پلانٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر سید فائق ڈائریکٹر الیکٹریکل سوئچ یارڈ فائق حسین شاہ حاضری لگا کر ڈیوٹی سے چلے گئے اور بریک ڈاؤن کے بعد اندھیرے میں واپس آئے۔

واپس آکر فائق حسین شاہ نے یہ ظاہر کرنے کہ کوشش کی کہ وہ موقع پر موجود ہیں لیکن سی سی ٹی وی فوٹیج میں وہ بریک ڈاؤن کے بعد واپس آتے دیکھے گئے جس سے ڈپٹی ڈائریکٹر الیکٹریکل سوئچ یارڈ کی مجرمانہ غفلت ثابت ہوگئی۔

انکوائری کمیٹی کی سفارش پر چیف ایگزیکٹو گدو تھرمل پاور سٹیشن حماد عامر ہاشمی نے ڈپٹی ڈائریکٹر کی معطلی کا آرڈر جاری کردیا۔ کمیٹی نے دو روز قبل ابتدائی تحقیقات کے بعد گدو پاور پلانٹ کے سات افسران و اہلکاروں کو معطل کردیا تھا۔ ابتدائی رپورٹ میں ہی یہ بات سامنے آگئی تھی کہ بجلی کا ملک گیر بریک ڈاؤن گدو پاور پلانٹ کے اولڈ یونٹ میں غلط سوئچنگ سے پیدا ہوا۔

اب سینٹرل پاور جنریشن کمپنی کی قائم کردہ کمیٹی نے انکوائری مکمل کی تو اس میں ملنے والے فرانزک شواہد سے ڈپٹی ڈائریکٹر الیکٹریکل سوئچ یارڈ فائق حسین شاہ کی غفلت ثابت ہوگئی۔ یہ انکوائری رپورٹ وزارت توانائی کو بھجوا دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ بجلی کے ملک گیر بریک ڈاؤن کی تحقیقات کے لیے این ٹی ڈی سی، وزارت توانائی نے بھی انکوائری کمیٹیاں بنائی ہیں تاہم ان تین سرکاری انکوائری کمیٹیوں کے علاوہ اس بریک ڈاؤن کی آزادانہ انکوائری بھی کروا ئی جارہی ہے لیکن سب سے پہلے سینٹرل پاور جنریشن کمپنی کی قائم کی گئی کمیٹی نے انکوائری مکمل کرکے ذمہ داران کا تعین کرکے انہیں معطل کر دیا ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button