اخبارصحت افزا

دوتہائی مریضوں میں کووڈ 19 کی بعض علامات لمبے عرصے تک برقرار رہتی ہیں

بیجنگ: کووڈ 19 کے تناظر میں ایک تازہ خبریہ آئی ہے کہ اس سے شفایابی کے 6 ماہ بعد بھی مرض کی کم ازکم ایک علامت یا تکلیف برقرار رہتی ہے۔

ماہرین نے اس ضمن میں بہت سے مریضوں کو ایک طویل وقت تک نوٹ کیا ہے جس میں دو تہائی افراد میں شفا یابی کے باوجود بھی کرونا علامات پائی گئی ہیں اور وہ مسلسل برقرار رہتی ہیں اور اسے ’طویل کووڈ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ان میں سے بعض علامات اس وقت کی ہیں جب وہ کرونا میں مبتلا ہوکر ہسپتال میں تھے اور بعض افراد میں بس ان کی شدت کم ہوئی تاہم علامات برقرار رہیں۔

اس ضمن میں چین کے شہر ووہان کے 1733 ہسپتالوں کے مریضوں کا جائزہ لیا گیا۔ بیجنگ میں چین جاپان دوستی ہسپتال سے وابستہ، امراضِ تنفس کے ماہر بِن چیاؤ نے کہا ہے کہ بعض مریض ہسپتال سے فارغ ہونے کے بعد اب بھی کووڈ 19 کی بعض علامتوں کے ساتھ زندہ ہیں۔ جن افراد کا تجربہ بہت شدید رہا ان میں اس کی علامات اب بھی زیادہ ہیں۔

سروے کے مطابق  76 فیصد مریضوں نے بتایا کہ کووڈ 19 کی ایک کیفیت ان میں نصف سال کے بعد بھی برقرارہے۔ ان میں 63 فیصد افراد نے غنودگی اور پٹھوں کی کمزوری کی شکایت کی ہے۔ 25 فیصد مریضوں نے ڈپریشن اور نیند کی کمی کی شکایت کی ہے۔

آدھے مریضوں کے ایکس رے لیے گئے تو ان کے سینے میں انفیکشن نما اثرات نظر آئے جو بیماری کے دیرینہ اور شدید اثرات کو ظاہر کرتے ہیں۔دوسری جانب کنگز کالج لندن کے پروفیسر فرانسس ولیمز نے کہا کہ کرونا وائرس کے اثرات شاید کئی برسوں تک برقرار رہے۔

 ماہرین نے کہا ہے کہ مریضوں میں سانس لینے کی دقت اعصابی اور دماغی بھی ہوسکتی ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button