آج کا ایشواخبار

یہ پہلی بار نہیں، حکومتی دعوؤں کا پس منظر کیا ؟؟؟ اب تک تحقیقات کیوں نہ ہو سکیں ؟؟؟

اسلام آباد /لاہور: سابق وزیراعظم نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس کے  معاملے پرحکومت کی جانب سے اس طرح کا دعویٰ پہلی بار سامنے نہیں آیا ، اور نہ ہی حکومتی شخصیات میں یہ لڑائی پہلی بار ہوئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف کو بیرون ملک بھجوانے کی بنیاد بننے والی میڈیکل رپورٹس کو لے کراس سے پہلےیاسمین راشد اور فواد چوہدری بھی آمنے سامنے آگئے تھے ۔

یاسمین راشد نےتب بھی کہا تھا کہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ کی100بار انکوائری کرالیں، فواد چوہدری ڈاکٹر نہیں، ان کیلئے رپورٹ کو سمجھنا مشکل ہوگا۔

فواد چوہدری نےڈاکٹر یاسمین راشد کے بیان پر جواب میں کہا تھا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد گائناکالوجسٹ ہیں، میرا نہیں خیال نواز شریف کو کوئی ایسا پرابلم تھا جس کا حل گائنا کالوجسٹ کے پاس ہو لہٰذا یاسمین راشد سے بھی تحقیقات ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کے فیصلے کو قبول کرنا چاہیے کیونکہ یہ کابینہ کا فیصلہ تھا۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے شیخ رشید نے ہاتھ کھڑے کرکے نواز شریف کو بیرون ملک جانے دینے کے حق میں رائے دی تھی۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف 19 نومبر 2019 سے علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہیں۔

گزشتہ دنوں سابق وزیراعظم نواز شریف کی لندن کی اسٹریٹس پر بیٹے کے ساتھ چہل قدمی کی نئی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس پر حکومت کی جانب سے تنقید کی گئی ۔ اس تصویر کے وائرل ہونے کے بعد حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ نواز شریف بیماری کا بہانہ بناکر چلے گئے، انہیں واپس لانا ضروری ہوگیا۔

جب کہ نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس سے متعلق بھی بعض حکومتی وزرا نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے تاہم وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد نے نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس میں جعل سازی کی تردید کی ہے۔

پس منظر

میاں نوازشریف کی طبیعت21 اکتوبر 2019 کو خراب ہوئی اور ان کے پلیٹیلیٹس میں اچانک غیر معمولی کمی واقع ہوئی، ہسپتال منتقلی سے قبل سابق وزیراعظم کے خون کے نمونوں میں پلیٹیلیٹس کی تعداد 16 ہزاررہ گئی تھی جو ہسپتال منتقلی تک 12 ہزار اور پھر خطرناک حد تک گرکر 2 ہزار تک رہ گئی تھی۔

نوازشریف کو پلیٹیلیٹس انتہائی کم ہونے کی وجہ سے کئی میگا یونٹس پلیٹیلیٹس لگائے گئے لیکن اس کے باوجود اُن کے پلیٹیلیٹس میں اضافہ اور کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ نوازشریف کی صحت کے معاملے پر ایک سرکاری بورڈ بنایا گیا تھا جس کے سربراہ سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (سمز) کے پرنسپل پروفیسر محمود ایاز تھے جب کہ اس بورڈ میں نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان بھی شامل تھے۔

سابق وزیراعظم نوازشریف 16 روز تک لاہور کے سروسز ہسپتال میں زیر علاج رہے جس کے بعد انہیں 6 نومبر کو سروسز سے ڈسچارج کرکے شریف میڈیکل سٹی منتقل کیا گیا تاہم شریف میڈیکل سٹی جانے کی بجائے ان کی رہائش گاہ جاتی امرا میں ہی ایک آئی سی یو تیار کیا گیا جس کی وجہ سے وہ اپنی رہائش گاہ منتقل ہوگئے۔

سابق وزیراعظم کی بیماری تشخیص ہوگئی ہے اور ان کو لاحق بیماری کا نام اکیوٹ آئی ٹی پی ہے، دوران علاج انہیں دل کا معمولی دورہ بھی پڑا جبکہ نواز شریف کو ہائی بلڈ پریشر، شوگراور گردوں کا مرض بھی لاحق ہے۔نواز شریف کو لاہور ہائیکورٹ نے چوہدری شوگر ملز کیس میں طبی بنیادوں پر ضمانت دی ہے اور ساتھ ہی ایک ایک کروڑ کے 2 مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے 26 اکتوبر کو ہنگامی بنیادوں پر العزیزیہ ریفرنس کی سزا معطلی اور ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی اور انہیں طبی و انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 29 اکتوبر تک عبوری ضمانت دی تھی جس کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم کی سزا 8 ہفتوں تک معطل کردی۔

اس مقدمے میں سابق وزیراعظم کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔8 نومبر کو شہباز شریف نے وزارت داخلہ کو نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست دی اور 12 نومبر کو وفاقی کابینہ نے نوازشریف کو باہر جانے کی مشروط اجازت دی۔

ن لیگ نے انڈيمنٹی بانڈ کی شرط لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردی اور 16 نومبر کو لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی جس کے بعد 19 نومبر کو نواز شریف علاج کے لیے لندن روانہ ہوگئےتھے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button