اخبارشہر شہر سے

اسامہ ستّی قتل کیس کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ سامنےآگئی۔ وزیر اعظم نے کیا ہدایت کر دی ؟؟؟

 اسلام آباد : اسامہ ستّی قتل کیس کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ سامنے آگئی، جس میں لرزہ خیز انکشافات کیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسامہ کو گولیاں ایک اہلکار نے نہیں بلکہ 4 سے زائد اطراف سے ماری گئیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ  اسامہ کو گولیاں جان بوجھ کر قتل کرنے کی نیت سے ماری گئیں، اسامہ کے قتل کو 4 گھنٹے فیملی سے چھپایا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ  موقع پر افسران نے وقوعہ کو چھپانے اور اسے ڈکیتی کی واردات بنانے کی کوشش کی، سینئر افسران کو اندھیرے میں رکھا گیا۔

مقتول کو ریسکیو کرنے والی گاڑی کو غلط لوکیشن بتائی جاتی رہی، موقع پر موجود افسر نے جائے وقوعہ کی کوئی تصویر نہیں لی، اسامہ ستّی کا کسی ڈکیتی یا جرم سے کوئی واسطہ ثابت نہیں ہوا۔

رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ڈیوٹی افسر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملے کا حصہ بن گیا، گولیوں کے 18 خولوں کو 72 گھنٹے بعد فارنزک کے لیے بھیجا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسامہ ستّی کی لاش کو پولیس نے روڈ پر رکھا جبکہ پولیس کنٹرول نے 1122 کو غلط ایڈریس بتایا، موقع پر پہنچنے والے پولیس افسران کی جانب سے ثبوت مٹانے کی کوشش کی گئی۔

وزیراعظم عمران خان کی ہٹائے گئےتمام افسروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت

اسلام آباد میں اسامہ قتل کی تحقیقات کے معاملے پر وزیراعظم  عمران خان نے وزیر داخلہ کو اسامہ قتل کیس کی جوڈیشل انکوائری کی سفارشات پر عملدر آمد کی ہدایت کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق جوڈیشل انکوائری کی سفارش پر ایس پی اے ٹی ایس، نائٹ ڈیوٹی پر ایس پی انویسٹی گیشن، ڈی ایس پی نائٹ ڈیوٹی، ایس ایچ او تھانہ رمنا اور ایس ایچ او کراچی کمپنی کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے ہٹائے جانے والے تمام افسران اور اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی ہدایت کی ہے۔

 

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button