اخبارسدا بہار

کے ٹو:علی سدپارہ سمیت لاپتہ کوہ پیماؤں کا کیا ہوا؟؟؟ ہیلی کاپٹر کیوں واپس؟؟؟

گلگت بلتستان: ٹورزم پولیس کا کہنا ہے کہ پاکستانی کوہ پیماعلی سدپارہ اور دیگر دو کوہ پیماؤں سے گذشتہ 24 گھنٹوں سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا جبکہ ریسکیو آپریشن کے لیے ہیلی کاپٹرز شام کو یا کل دوبارہ جائیں گے۔

گلگت بلتستان کی ٹورزم پولیس کا کہنا ہے کہ پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ اور دیگر دو کوہ پیماؤں سے گذشتہ 24 گھنٹوں سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا ہے جبکہ ریسکیو کے لیے بھیجے گئے آرمی ہیلی کاپٹرز بھی واپس آگئے ہیں۔ یہ کوہ پیما دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ’کے ٹو‘ کو موسم سرما میں سر کرنے کی کوشش میں تھے۔

گلگت ٹورزم پولیس کے اہلکار محمد اقبال شگری، جو بین الاقوامی کوہ پیماؤں کی ڈیوٹی پر مامور ہیں، نے بتایا کہ ’پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ، چلی کے جان سنوری اور آئس لینڈ کے جے پی موہر پریتو جمعے سے لاپتہ ہیں جبکہ علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارا جو ان کے ساتھ اس مشن میں موجود تھے کے ساتھ رابطہ ہو گیا ہے۔‘

شگری نے بتایا کہ ’ساجد سدپارہ کیمپ تھری سے واپس بیس کیمپ اترنا شروع ہو گئے ہیں، ان کے ساتھ ٹور آپریٹرز رابطے میں ہیں اور شام تک یا صبح تک ان کے بیس کیمپ پہنچنے کی امید ہے جبکہ علی سد پارہ اور ان کے ساتھیوں کو ڈھونڈنے کے لیے بھیجے گئے آرمی کے دو ہیلی کاپٹرز واپس آگئے ہیں اور انہیں کوہ پیماؤں کے حوالے سے کوئی آثار نہیں ملے۔‘

شگری نے مزید بتایا کہ ریسکیو آپریشن کے لیے ہیلی کاپٹرز شام کو یا کل دوبارہ جائیں گے۔

کیا علی سدپارہ نے ساتھیوں سمیت کے ٹو کو سر کیا؟ اس کے جواب میں شگری کا کہنا تھا کہ وہ باٹلنیک تک پہنچ گئے تھے۔ باٹلنیک 8200 میٹر کے بلندی پر واقع ہے اور اس کے بعد کے ٹو کی چوٹی تک پہنچنے والا فاصلہ نہایت دشوار گزار ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ باٹلنیک تک پہنچنے کو سمٹ مکمل کرنا تصور کیا جاتا ہے تاہم وہاں پہنچنے کے بعد چوٹی تک پہنچا تقریباً چھ سو میٹر کے فاصلے پر ہوتا ہے لیکن علی سدپارہ اور ساتھیوں کے ساتھ آخری رابطہ باٹلنیک پر ہوا تھا اور اس کے بعد سے رابطہ منقطع ہے۔

محمد اقبال شگری نے بتایا کہ کے ٹو سر کرنے کے لیے تین گروپ نکل گئے ہیں جن کے پاس تین تھرایا سیٹیلائٹ فون موجود ہیں اور تینیوں سٹیلائٹ فون پر ان کے ساتھ رابطہ نہیں ہو رہا۔

علی سدپارہ کے ٹوور آپریٹر ’جیسمین ٹورز پاکستان‘ کے سربراہ علی اصغر پوریک نےبتایا کہ کل سے علی سدپارہ کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے جبکہ ساجد سدپارہ آکسیجن اور دیگر آلات میں مسئلے کی وجہ سے بیس کیمپ کی جانب واپس آ رہے ہیں۔

ہفتے کی صبح علی سدپارہ کی ٹیم نے اپنی ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ’ہم ابھی بھی علی، جان سنوری اور جے پی موہر کی جانب سے رابطے کے منتظر ہیں جبکہ ریسکیو کی صورت میں تمام احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب ساجد اور بیس کیمپ کے درمیاں آج صبح 01:00 بجے اور 04:00 بجے رابطہ قائم ہوا تھا۔‘

Tags

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button