اخباروومنزہ

’جب خود بائیک چلائی تو لگا جیسے کوئی پرانی خواہش پوری ہوگئی‘

’عورت اگر کرنے پر آئے تو بہت کچھ کر سکتی ہے۔‘ یہ الفاظ تھے عابدہ کے جو پِنک رائیڈرز نامی تنظیم سے موٹر سائیکل چلانے کی تربیت حاصل کر رہی ہیں۔

عابدہ راولپنڈی سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے خاندان میں خواتین کا کوئی بھی غیر روایتی کام کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے لیکن عابدہ سب کے خلاف جا کر بائیک چلانا سیکھ رہی ہیں۔

’بائیک چلانے کے کئی فوائد ہیں۔ ہم خود آ جا سکتی ہیں۔ اپنے بچوں کو سکول چھوڑ سکتے ہیں اور واپس پِک کر سکتے ہیں۔ گھر میں ہاتھ بٹا سکتے ہیں۔‘

عابدہ جیسی کئی خواتین ہیں جن کے لیے بائیک چلانا ایک بڑا خواب ہے۔

پِنک رائیڈرز کے ڈائریکٹر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کے پاس ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین بائیک چلانے کی تربیت لینے آتی ہیں۔ پچھلے دو سالوں میں انہوں نے پاکستان کے مختلف علاقوں سے چار ہزار سے زائد خواتین کو بائیک چلانے کی تربیت دی ہے۔

’ہمارے پاس طلبا بھی بائیک چلانا سیکھنے آتی ہیں تاکہ وہ یونیورسٹی آ جا سکیں۔ گھروں میں کام کرنے والی خواتین بھی بائیک چلانا سیکھ رہی ہیں لیکن زیادہ تر ہمارے پاس وہ خواتین آتی ہیں جن کی ملازمت کے اوقات کار زرا ہٹ کر ہیں۔ جیسا کہ نرسز، شاپنگ مال کا سٹاف، ایئر پورٹ کا عملہ۔‘

انہوں نے بتایا کہ یہ خواتین کبھی صبح  جلدی اور کبھی رات دیر تک ملازمت پر جانا ہوتا ہے اور ایسے میں انہیں پبلک ٹرانسپورٹ نہیں ملتی تو یہ بائیک چلانا اس وقت بہت کام آتا ہے۔ لیکن بائیک چلانا آنا بہت سی خواتین کی ضرورت ہی نہیں بلکہ ان کا شوق بھی ہے اور یہ ایک اہم بات ہے۔

نسٹ یونیورسٹی کی ایمن نے بتایا کہ انہیں بائیک چلانے کا بچپن سے شوق تھا اور جب انہوں نے پہلی بار اکیلے خود بائیک چلائی توانہیں لگا جیسے ان کی کوئی پرانی خواہش پوری ہو ر گئی ہو۔

پہلی مرتبہ ہائی وے پر بائیک چلانے والی طوبیٰ بتاتی ہیں کہ انہیں خود سے امید نہیں تھی کہ وہ اتنی اچھی بائیک چلا پائیں گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’لڑکی کو بائیک چلاتا دیکھ کر لوگ مڑ مڑ کر دیکھ رہے تھے تو ظاہر ہے مجھے عجیب ضرور محسوس ہوا لیکن افسوس ہے کہ ہم عورتوں کو اس چیز کی عادت ہو گئی ہے۔‘

 ’میں نے اس چیز پر توجہ تو نہیں دی لیکن میں کہتی ہوں کہ زیادہ سے زیادہ باہر آئیں اور بائیک چلائیں تاکہ ہم سب کی ہمت بندھے اور پاکستان میں ایک لڑکی کا بائیک چلانا عام ہو جائے۔‘

Tags

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button