اخبارسوشل میڈیا

فیس بُک نے آسٹریلوی خبروں پر کیوں پابندی لگا دی؟؟؟

دنیا بھر میں سماجی رابطے کی سب سے بڑی ویب سائٹ فیس بک نے آسٹریلوی حکومت کے ساتھ چلنے والے تنازع کی وجہ سے آسٹریلیا میں اپنے نیوز فیڈ کے پیجز بلاک کردیے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق فیس بک نے آسٹریلوی صارفین کے لیے مقامی و بین الاقوامی خبریں پڑھنے اور شیئر کرنے کے اپنے پلیٹ فارم کو بند کردیا ہے۔

میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیس بک کا یہ اقدام آسٹریلوی حکومت کی جانب سے خبریں شائع کرنے کے عوض پبلشرز کو پیسے دینے پر مجبور کرنے کے خلاف چلنے والی مہم کا حصہ ہے۔

فیس بک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آسٹریلوی حکومت کا مجوزہ قانون ہمارے پلیٹ فارم اور ان پبلشرز کے درمیان تعلقات کے بنیادی حقوق کے مطابق نہیں جو اپنی خبریں ہمارے پلیٹ فارم کے ذریعے شیئر کرتے ہیں۔

فیس بک کا کہناہےکہ حکومت کے مجوزہ قانون کا پابند کرنے کی کوشش فیس بک اور پبلشرز کے تعلقات کی حقیقت کو نظر انداز کرتی ہے اس لیے آسٹریلوی حکومت کے اس اقدام نے ہمیں یکطرفہ فیصلے پرلاکھڑا کردیا ہے کہ ہم آسٹریلیا میں خبروں کے مواد کو شیئرکرنے کی اجازت اب ختم کردیں۔

خیال رہے کہ آسٹریلوی حکومت فیس بک اور گوگل سمیت ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی ویب سائٹ پر نیوز شیئرنگ کے عوض پیسے دینے کے لیے راضی کرنے کی کوشش کررہی ہے جب کہ اس قانون کے تحت کمپنیوں کو مجبور کیا جائے گاکہ وہ میڈیا کمپنیوں کے ساتھ ڈیل کریں اور ان کے لیے فیس مقرر کریں۔

آسٹریلوی حکومت کے اس اقدام پر گوگل نے بھی آسٹریلیا میں اپنی سروس بند کرنے کی دھمکی دی ہے جب کہ ساتھ ہی ریونیو شیئرنگ کے لیے پبلشرز کے ساتھ معاہدے بھی شروع کردیے ہیں۔

دوسری جانب آسٹریلوی وزیراعظم نے فیس بک کے اقدام پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ آسٹریلیا فیس بک کے صارفین کے لیے نیوز فیڈ بند کرنے سے فیس بک کی دھمکی میں نہیں آئے گا۔

سکاٹ موریسن نے فیس بک کے اس اقدام کو مایوس کن، متکبر قرار دیا۔

Tags

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button