اخبارسب کے لیے سب کچھ

جنگ، جیو حملہ کیس:کِس نے کیا کیا ؟ کس نے کیا کہا؟ حملہ آوروں کا کیا بنا؟

کراچی:  انسداد دہشت گردی عدالت کے منتظم جج نے جیو اور جنگ کے دفتر پر حملہ کیس میں گرفتار 13 ملزمان کو 7 مارچ تک کے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

جیو اور جنگ کے دفتر پر حملہ کیس کی سماعت پر پولیس نے گرفتار 13 ملزمان کو انسداد دہشت گردی عدالت کے منتظم جج کے روبرو پیش کیا۔ دوران سماعت تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ مفرور ملزمان کو گرفتار کرنا ہے، ملزمان کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

عدالت نے تمام ملزمان کو 7 مارچ تک عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجتے ہوئے کیس کے تفتیشی افسر کو چالان پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔

ملزمان کے خلاف میٹھا در تھانے میں انسداد دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے، مقدمے میں دھمکیاں دینے، املاک کو نقصان پہنچانے، اقدام قتل اور ہنگامہ آرائی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

تفتیشی افسرکے مطابق گزشتہ روز جیو نیوز کے دفتر کے باہر مظاہرین نے ہنگامہ آرائی کی تھی، مظاہرین کو اشتعال دلانے والا نامزد ملزم مشتاق سرکی مفرور ہے۔

صحافتی تنظیموں کی جنگ اور جیو کے مرکزی دفتر پر حملے کی شدید مذمت

ملک بھر کی صحافتی تنظیموں نے  جنگ اور جیو  نیوز کے مرکزی دفتر پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن نے ایک بیان میں کہا کہ پُرامن احتجاج سب کا حق ہے  لیکن قانون کو ہاتھ میں لینا اور توڑ پھوڑ کرنا قابلِ مذمت ہے۔

آل پاکستان نیوز پیپر سوسائٹی (اے پی این ایس) کا کہنا ہے واقعہ صحافت پر حملہ ہے، مظاہرین نے اپنے مطالبات کے بجائے دفتر میں توڑ پھوڑ کی اور عملے کو ہراساں کیا۔

ایسوسی ایشن آف الیکٹرونک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز نے کہا کہ احتجاج کے بہانے تشدد ناقابل قبول اور قانون کی خلاف ورزی ہے لہٰذا صوبائی حکومت حملہ آوروں کے خلاف ایکشن لے۔

کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی نے کہا کہ احتجاج کی آڑ میں میڈیا ہاؤس پر حملہ، توڑ پھوڑ اور عملے پر تشدد کی اجازت نہیں دی جاسکتی جبکہ صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری نے کہا کہ سندھ حکومت ملزمان کو فوری گرفتار کرے۔

کراچی یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹری فہیم صدیقی نے کہا کہ یہ آزادی صحافت پر حملہ ہے ۔

کراچی پریس کلب کاجنگ اور جیو پر حملےمیں ملوث مشتاق سرکی کی ممبرشپ معطل کرنےکا فیصلہ

کراچی پریس کلب نے جنگ اور جیو کے دفتر پر حملے میں ملوث مشتاق سرکی کی ممبر شپ معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کراچی پریس کلب کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جیو نیوز کے خلاف مظاہرے میں مشتاق سرکی پیش پیش تھا ۔

پریس کلب کے مطابق  اسی مظاہرے میں شامل مظاہرین نے جیو اور جنگ کے دفتر پر نہ صرف حملہ کیا بلکہ ملازمین کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا ۔ پریس کلب کا کہنا ہےکہ  مشتاق سرکی کو شوکاز نوٹس جاری کیا جارہا ہے ،کسی صحافی کی جانب سے مظاہرے کے نام پر میڈیا ادارے میں توڑ پھوڑ ناقابل برداشت ہے۔

خیال رہے کہ کراچی میں مشتعل افراد نے جیو اور جنگ گروپ کے مرکزی دفتر پر حملہ کیا اور اس دوران عملے پر تشدد کیا اور دھکے بھی دیے۔ مظاہرین نے واک تھرو گیٹ اورمرکزی دروازہ سمیت دفتر کے شیشے بھی توڑ دیے۔

جنگ اورجیو کے دفتر پر حملے کے واقعے کی خود چھان بین کروں گا، وزیراعلیٰ سندھ

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے  جیو اور جنگ کے مرکزی دفترپر حملےکی مذمت کی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھاکہ جنگ اور جیو  کے مرکزی دفتر پر حملے کے واقعے کی خود چھان بین کروں گا۔انہوں نے ہدایت کی کہ سندھ پولیس جنگ اور جیو دفتر پر حملے کی مکمل تحقیقات کر کے ذمے داروں کا تعین کرے۔

سندھ پولیس کارروائی کرے۔شہباز گِل

وزیراعظم عمران خان کے  معاونِ خصوصی شہباز گِل نے کہا ہےکہ کراچی میں جیو نیوزکے آفس پر حملے کی مذمت کرتے ہیں، امید ہے سندھ پولیس واقعےکا فوری نوٹس لےکر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرےگی۔

خیال رہے کہ کراچی میں مشتعل افراد نے جیو اور جنگ گروپ کے مرکزی دفتر پر حملہ کیا اور  اس دوران عملے پر تشدد کیا اور دھکے بھی دیے۔ مظاہرین نے واک تھرو گیٹ اورمرکزی دروازہ سمیت دفتر کے شیشے بھی توڑ دیے۔

Tags

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button