اخبارسب کے لیے سب کچھ

حلیم عادل شیخ پر تشدد کا معاملہ، جیل لانے کی تصویروں سے کیا ثابت؟ وفاقی حکومت کا آئی جی سندھ کی تبدیلی پر غور

کراچی / اسلام آباد : حلیم عادل شیخ پر تشدد کا معاملہ، جیل لائے جانے کی تصویریں سامنے آ گئیں۔ دوسری طرف وفاقی حکومت نے آئی جی پولیس سندھ کو تبدیل کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق رہنما تحریک انصاف حلیم عادل شیخ کو جیل لائے جانے کی تصویریں لمحہ نیوز نے حاصل کر لیں، حلیم عادل کو دیکھتے ہی قیدیوں نے نعرے بازی کی تھی۔

پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ کو تصویروں میں جیل میں داخل ہوتے دیکھا جاسکتا ہے ، ان کے ہمراہ ایک پولیس افسر اور7اہلکارنظر آ رہے ہیں۔ جیل حکام کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی رہنما کو دیکھتے ہی قیدیوں نے نعرے بازی کی تھی، ملزم حلیم عادل شیخ کو جیل میں بی کلاس سہولیات فراہم کی گئیں۔

وفاقی وزیرمواصلات مراد سعید نے حکومت سندھ کے زیرحراست حلیم عادل شیخ کے اہلِ خانہ سے رابطہ کیا ، انہوں نےسندھ میں حکومتی سرپرستی میں پیپلزپارٹی کی غنڈہ گردی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اوباش، بدمعاش، لٹیرے اور قاتل سندھ میں اقتدار پر قابض ہیں، سیاسی بدمعاشیہ سندھ میں تمام جمہوری اقدارروندتے ہوئے بدترین حربے آزما رہا ہے، طاقت کے بل پر مخالف اور تنقیدی آوازیں دبانا ان بدمعاشوں کا وطیرہ ہے، عزیز میمن جیسے کئی ان کی غنڈہ گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، حلیم عادل شیخ نے انکے خونخوارچہروں سے جمہوریت کا نقاب کھینچ دیا ہے۔

حلیم عادل شیخ ایف آئی آر میں نامزد ملزم ہیں، ترجمان سندھ حکومت

کراچی: ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ  ایک ایف آئی آر میں نامزد ملزم ہیں۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  ملیرالیکشن میں کسی وزیر کو مہم چلانے کی اجازت نہیں تھی، کوئی الیکشن قوانین کی خلاف ورزی کرے تو کیا پولیس خاموش رہے؟ پولیس قانون کے مطابق کارروائی کررہی ہے۔

وفاقی وزیر شبلی فراز کی پریس کانفرنس پر رد عبل دیتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پولیس کو برا کہنے کیلئےآئینی عہدوں کو استعمال کر رہے ہیں اور یہ قانونی معاملات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم ایک بار بھی ضلع ملیرنہیں گئے۔

ترجمان سندھ حکومت کے مطابق ہم ایک بار بھی ضلع ملیر نہیں گئے، الیکشن کمیشن نے ایس ایس پی ملیر کو خط لکھا، الیکشن کمیشن نے لکھا کہ حلیم عادل مسلح ہو کر پولنگ سٹیشن آئے۔ حلیم عادل شیخ نے 16 فروری کو ملیر پولنگ سٹیشن کا دورہ کیا۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پولیس کو اندازہ تھا کہ یہ بیان بازی کریں گے اس لیے انہیں ایک کمرے میں رکھا گیا۔ 18 اور 19 فروری کے بیچ میں 10 افراد حلیم عادل شیخ سے ملنے آئے۔ اگر پولیس ان کیخلاف ہوتی تو کیا 10 افراد ان سے ملاقات کرسکتے۔

ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب حلیم عادل شیخ نے الزام لگایا کہ ایک سانپ آیا جس کو میں نے مار دیا، وزیراعلیٰ سندھ نے معاملے کی تحقیقات کا آرڈر دیا۔ گزشتہ رات خبر ملی کہ حلیم عادل شیخ کی طبیعت خراب ہے اور ان کو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

ترجمان سندھ حکومت کے مطابق کہیں بھی کوئی حکومت شخص اس معاملے میں ملوث نہیں ہوا۔ جس ہسپتال کی کاکردگی پر سوال اٹھاتے تھے حلیم عادل شیخ اسی ہسپتال سے علاج کرارہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ دل کی تکلیف ہونے کے باعث حلیم عادل شیخ ایمبولینس کی آگے کی سیٹ پر بیٹھ کر گئے۔ کہا گیا تھا کہ حلیم عادل شیخ کو اتنا مارا کہ وہ چل نہیں سکتے، لیکن وہ چل کر ہسپتال گئے، راجہ اظہر، جمال صدیقی صاحب نے ہسپتال میں حلیم عادل شیخ کا استقبال کیا۔

ترجمان سندھ حکومت کے مطابق کہا گیا پولیس افسران کے ہوتے ہوئے حلیم عادل شیخ پر تشدد کیا گیا۔ آئی جی پنجاب نے کہا جو ہو رہا ہے قانون کے مطابق ہورہا ہے۔ انہوں نے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کرنی تھی جو انہوں نے کی۔

ترجما ن سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب کے مطابق وزیر ٹویٹر علی زیدی گوادر میں کرکٹ کھیلتے ہوئے ہر چیز کی تحقیقات کر لیتے ہیں۔ خدا کیلئے یہ ڈرامہ چھوڑیں اور پولیس کو اپنا کام کرنے دیں۔

ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ عدالت فیصلہ کرے گی کہ جرم ہوا یا نہیں ہوا، میں یا آپ فیصلہ نہیں کرسکتے۔ یہ تمام چیزیں تحقیقات پر اثرا نداز ہونے کیلئے کی جارہی ہیں۔ عوام فیصلہ کرلیں کہ کیا پی ٹی آئی قانون کے تابع ہے یا نہیں؟

50 سے 60 قیدیوں نے تشدد کا نشانہ بناڈالا، حلیم عادل  شیخ

سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل  شیخ نے الزام لگایا ہے کہ  قیدیوں نے جیل میں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔

جناح ہسپتال میں وہیل چیئرمین پر موجود حلیم عادل شیخ  نے الزام لگایا کہ 50 سے 60 قیدیوں نے  ان پر حملہ  کیا اور مکوں اور تھپڑوں سے ان کی کمر پر زخم آ ئے ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ جس پیر پر چوٹیں آئی ہیں، اس میں راڈ ڈلی ہوئی ہے جبکہ جسم کے دیگر اعضاء پر بھی چوٹیں آئیں۔  جیل انتطامیہ  مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں دکھا رہی ہے۔

جیل میں مبینہ تشدد کے بعد حلیم عادل شیخ کو جناح ہسپتال  میں داخل  کردیا گیا ہے۔ اس حوالے سےجناح ہسپتال  کی  ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیمی جمالی نے بتایا ہے کہ حلیم عادل شیخ کی ٹانگ پر چوٹیں آئی ہیں، ٹیسٹ رپورٹ آنے پر مزید کچھ کہا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب کراچی سینٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ حسن سہتو  نے کہا ہے کہ حلیم عادل  کو کسی نے ہاتھ لگایا اور نہ تھپڑ یا پتھر مارا۔ انہیں ہفتے کی شام 4 بجے جیل  منتقل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ بی  کلاس  وارڈ  منتقلی  کے  دوران   وہ  جیل  عملے  کے ہمراہ  انتظار گاہ سے گزر رہے تھے، جہاں  کچھ قیدوں نے نعرے بازی کی۔ انہیں واپس  سپرنٹنڈنٹ  آفس  لانے  کے  بعد  سیکیورٹی  وارڈ   منتقل کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ تحریری درخواست  پر حلیم عادل شیخ کو  قومی ادارہ برائے امراض قلب  لے جایا گیا۔ جیل انتظامیہ نے حلیم عادل کے جیل کے اندر داخل ہونے اور مبینہ نعرے بازی کے بعد تیزی سے باہر  نکلنے کی  سی سی ٹی وی فوٹیج بھی جاری کردی ہے۔  حلیم عادل شیخ کی  12 پولیس افسروں  اور اہلکاروں کے حصار میں ہائی سیکورٹی زون منتقلی کی فوٹیج  بھی سامنے آگئی۔

وفاقی حکومت کا آئی جی سندھ تبدیل کرنے پر غور۔

دوسری طرف وفاقی حکومت نے آئی جی سندھ کی تبدیلی پرغورشروع کردیا ہے جبکہ وزرا کی جانب سے سندھ حکومت سے نہ ڈرنے والے کو آئی جی لگانے کا مطالبہ سامنے آیا۔

اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ کے معاملے کے بعد آئی جی سندھ کی تبدیلی کا مطالبہ زور پکڑگیا ، وفاقی حکومت نےآئی جی سندھ کی تبدیلی پرغورشروع کردیا ہے اور اس سلسلے میں وفاقی وزرا سمیت پی ٹی آئی ارکان اسمبلی میں مشاورت جاری ہے۔

سندھ میں اکیس گریڈ کا افسر آئی جی لگانے اور کے پی، پنجاب کےافسر کوآئی جی سندھ بنانےپرغور کیا جا رہا ہے ، سندھ حکومت سے نہ ڈرنے والے کو آئی جی لگانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری کےکردارسے پی ٹی آئی سندھ مایوس ہیں ، اس حوالے سے وفاقی حکومت تک ایم این ایزوایم پی ایزکےتحفظات پہنچائے گئے، اگلے کچھ عرصے میں سندھ میں بڑی تبدیلیوں کا امکان ہے۔

ایم پی ایزکے اجلاس میں پہلی بارآئی جی کی تبدیلی کامطالبہ سامنےآیا تھا ، ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نےمطالبےپرغور کرنے کی یقین دھانی کرائی تھی۔

یاد رہے  وزیر اعظم عمران خان نے گورنر سندھ عمران اسماعیل سے ٹیلیفونک رابطہ کیا تھا ، جس میں عمران اسماعیل نے وزیراعظم کو حلیم عادل شیخ پرپولیس تحویل میں تشدد اور غیر انسانی برتاؤ کی تفصیل سےآگاہ کرتے ہوئے شکایت کی تھی کہ  سندھ پولیس آئی جی کی سربراہی میں جانبداری کامظاہرہ کر رہی ہے، آئی جی سندھ سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

وزیر اعظم سے آئی جی سندھ تبدیل کرنے کی درخواست کی ہے۔ گورنر سندھ

گورنر ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران عمران اسماعیل نے کہا کہ آج مجھے بانی ایم کیوایم کا دور یاد آرہا ہے ، جس طرح وہ غنڈوں کے ذریعے شہر کو کنٹرول کرتے تھے، وہی اب سندھ پولیس کررہی ہے ، چند روز سے کراچی میں ایک عجیب تماشا جاری ہے، ہر ضمنی الیکشن کے بعد حلقے کے لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارے جاتے ہیں۔ سندھ میں پولیس کے ذریعے غنڈہ کرائی جارہی ہے، پولیس عدالت کا حکم ماننے کے لئے تیار نہیں، تحریک انصاف کے قید کارکنوں کے گھروں میں گھس کر برا سلوک کیاگیا، ہمارے لوگوں کے گھروں میں جا کر چادر چار دیواری کا تقدس پامال کیا جارہا ہے۔ کیا سندھ میں الیکشن میں حصہ لینا جرم ہے ،کہہ دیں کہ سندھ میں کوئی الیکشن میں حصہ نہ لے۔

عمران اسماعیل نے کہا کہ ایس ایس پی اپنے ٹرانسفر سے ڈرتے ہیں ، پولیس افسران کو وارننگ دیتا ہوں کسی کو خوش کرنے کے لئے کام نہ کریں ، وہ حق و انصاف سے فرائض انجام دیں، اگر ایسا نہیں ہوا تو وفاق اپنی رٹ کو استعمال کرے گا ، چیف سیکریٹری اور آئی جی سندھ وفاق کے نمائندے ہوتے ہیں، وہ صوبے اور وفاق کے درمیان کوآرڈینیشن کو بہتر کریں۔

گورنر سندھ نے کہا کہ آئی جی سندھ اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام نظر آتے ہیں، وہ سیاسی وابستگی رکھتے ہیں، میں نے وزیر اعظم کو صورت حال سے آگاہ کیا ہے، ان سے آئی جی کو تبدیل کرنے کی درخواست کی ہے۔ اب پانی سر سے گزر چکا ہے، مجبورنہ کریں کہ انتہائی قدم اُٹھایا جائے ،ہم پولیس کے تمام معاملات کا جائزہ لے رہے ہیں، سندھ میں گورنر راج کا وفاق کا کوئی ارادہ نہیں ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ حق و انصاف کی حکمرانی ہو، ہمارا انتہائی قدم آئی جی پولیس کو ہٹانا ہوسکتا ہے۔

سندھ حکومت حلیم عادل کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے، شبلی فراز

وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز  نے کہا ہے کہ سندھ حکومت اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کو نااہلیوں کی نشاندہی کرنے پر سزادے رہی ہے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے شبلی فراز کا کہنا تھاکہ پیپلزپارٹی نے پولیس میں بھرتیاں سیاسی بنیادوں پر کی ہیں، سندھ حکومت حلیم عادل شیخ کو نااہلیوں کی نشاندہی کرنے پر سزا دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت حلیم عادل شیخ کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے، حلیم عادل شیخ پرکیے جانے والے تشدد کا اخلاقی اور قانونی جواز نہیں۔شبلی فراز نے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت اپوزیشن لیڈرحلیم عادل شیخ کو فوری رہا کرے۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا  کہنا تھاکہ کم تعداد ہونے کے باوجود پیپلزپارٹی کس بنیاد پرسینیٹ انتخابات میں جیت کے دعوے کررہی ہے، پیسے کی سیاست سے جمہوریت کو ہمیشہ نقصان پہنچا، تحریک انصاف نے سینیٹ انتخابات میں کرپشن ختم کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے۔

ان کا کہنا ہے کہ عوام جانتے ہیں کون کرپشن کے ساتھ اور کون شفافیت کے ساتھ ہے؟ اپوزیشن کے نزدیک جوالیکشن جیت جاؤ وہ ٹھیک جس میں ہارجائیں وہ غلط ہے۔

Tags

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button