اخبارسب کے لیے سب کچھ

فیصل واؤڈا سے پرویز رشید اور سیف اللہ سے رؤف صدیقی تک۔۔۔ کاغذاتِ نامزدگی کا کیا بنا؟؟؟

الیکشن ٹریبونل نے سینیٹ  الیکشن کے لیے فیصل واوڈا کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف درخواست پر وفاقی وزیر سے جواب طلب کرلیا۔

سندھ ہائیکورٹ میں الیکشن ٹریبونل نے  سینیٹ الیکشن کے لیے پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈاکےکاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف اپیل پر سماعت کی۔

درخواست گزار قادر مندوخیل کے وکیل رشید اے رضوی نے دلائل دیے اور  وفاقی وزیر فیصل واوڈا کے دہری شہریت رکھنے سے متعلق دستاویزات ٹریبونل میں پیش کیں۔

اس موقع پر جسٹس آغا فیصل نے سوال کیا کہ  فیصل واوڈا کی جانب سے کوئی آیا ہے؟ اس پر فیصل واوڈا کے وکیل حسنین چوہان نے بتایا کہ فی الحال مجھےکیس نہیں دیا گیا ہے۔

دورانِ سماعت قادر خان مندوخیل نے کہا کہ فیصل واوڈا نے امریکی شہریت سے متعلق حقائق چھپائے، ریٹرننگ افسرکے سامنے اعتراضات دائر کیے مگر انہوں نے سننے سے انکار کردیا لہٰذا  فیصل واوڈاکو سینیٹ الیکشن کے لیے نااہل قرار دیا جائے۔

الیکشن ٹریبونل نے درخواست گزار کے دلائل پر الیکشن کمیشن اور فیصل واوڈاکو نوٹس جاری کرتے ہوئے  فریقین سے کل تک جواب طلب کرلیا۔

علاوہ ازیں الیکشن ٹریبونل نے وفاقی وزیر فیصل واوڈاکو پیش ہوکر وضاحت دینے کا بھی  حکم دیاہے۔

اس کے علاوہ الیکشن ٹریبونل نے سینیٹ الیکشن  کے لیے (ن) لیگ کے رہنما پرویز رشید کےکاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے پر  جواب طلب کرلیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے الیکشن ٹریبونل نے سینیٹ انتخابات میں پرویزرشیدکےکاغذات نامزدگی مستردکرنےکیخلاف درخواست پر سماعت کی۔

پرویز رشید کی طرف سے وکیل احسن بھون اور اعظم نذیر تارڑ پیش ہوئے اور مؤقف اپنایا کہ ریٹرننگ افسر نےسینیٹ انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی نادہندہ ہونےکی بنیاد پر مستردکیے،  ریٹرننگ افسر کے فیصلے میں 96 لاکھ روپے کا نادہندہ ہوناجواز بنایا گیا۔

ا س موقع پر پرویز رشید نے مؤقف اپنایا کہ پنجاب ہاؤس سے 2019 میں واجب الادا رقم کا کوئی نوٹس بھی نہیں ملاتھا جب کہ واجب الادا رقم کی ادائیگی کے لیے ریٹرننگ افسر کو درخواست دی مگر مسترد کردی گئی، ریٹرننگ افسرکوکراس چیک سے رقم ادائیگی کی بھی یقین دہانی کرائی مگرمؤقف تسلیم نہیں کیا گیا۔

پرویز رشید نے استدعا کی کہ پنجاب ہاؤس کی واجب الادا رقم جمع کرانے اور ریٹرننگ افسر کو درخواستگزار کے کاغذات نامزدگی منظور کرنےکاحکم دیاجائے۔

بعد ازاں الیکشن ٹریبونل نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کر کے کل جواب طلب کر لیا۔

مزید الیکشن ٹریبونل نے  پی ٹی آئی رہنما سیف اللہ ابڑو کے ٹیکنوکریٹ کے لیے کاغذات نامزدگی مسترد کرتے ہوئے انہیں سینیٹ الیکشن میں حصہ لینے سے روک دیا۔

الیکشن ٹریبونل میں پی ٹی آئی رہنما سیف اللہ ابڑو کے سینیٹ الیکشن میں ٹیکنو کریٹ کی نشست پر حصہ لینے سے متعلق کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔

دورانِ سماعت ان کے وکیل نےکہا کہ  سیف اللہ ابڑو کے خلاف الیکشن ٹریبونل میں اپیل ناقابل سماعت ہے، الیکشن قوانین کے مطابق اپیل کنندہ کی اپیل کو سنا بھی نہیں جاسکتا جب کہ  سیف اللہ ابڑو کے خلاف اپیل کرنے والے مصطفیٰ میمن خود امیدوار بھی نہیں۔

اس موقع پر وکیل اپیل کنندہ رشید اے رضوی نے کہا کہ اگر ٹھیکیدار کو ٹیکنوکریٹ کا امیدوار تسلیم کریں گے تو کل سینیٹ ٹھیکیداروں سے بھری ہوئی ہوگی، رشید رضوی کے دلائل پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔

بعد ازاں الیکشن ٹریبونل نے سیف اللہ ابڑو کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کےخلاف اپیل منظور کرلی اور انہیں سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا۔

الیکشن ٹریبونل نے ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم قراردیتے ہوئے کہا کہ  سیف اللہ ابڑو کے خلاف اپیل میں لگائے گئے اعتراضات ثابت ہوچکے ہیں اور وہ ٹیکنوکریٹ کے معیار پر پورا نہیں اترتے ہیں۔

الیکشن ٹریبونل نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما رؤف صدیقی کو سینیٹ انتخابات لڑنے کے لیے نااہل قرار دےدیا۔

الیکشن ٹریبونل نے ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما رؤف صدیقی کی اپیل مسترد کر دی۔

رؤف صدیقی کے وکیل الیکشن ٹریبونل کو مطمئن نہ کر سکے جس کے باعث الیکشن ٹریبونل نے ریٹرننگ افسر کا فیصلہ برقرار رکھا۔

یاد رہے کہ آر او نے رؤف صدیقی کے سینیٹ الیکشن کے لیے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے تھے۔

ریٹرننگ آفیسر کا اعتراض تھا کہ رؤف صدیقی کی تعلیم 16 برس کی نہیں ہے جبکہ رؤف صدیقی نے ریٹرننگ افسر کے فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

اس کے علاوہ الیکشن ٹریبونل نے سینٹ انتخابات کے لیے ٹیکنوکریٹ کی نشست پر ایم کیو ایم پاکستان کےخضر زیدی کی اپیل بھی مسترد کر دی اور کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا ریٹرننگ افسر کا فیصلہ برقرار رکھا۔

Tags

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button