fbpx
آج کا ایشواخبارسب کے لیے سب کچھ

نون لیگی وفد کی بلاول سے ملاقات، عید کے بعد اے پی سی بلانے پر اتفاق

جولائی 20, 2020 | 10:44 صبح

لاہور میں مسلم لیگ نون کے وفد کی پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو سے ملاقات ہوئی جس میں عید کے بعد آل پارٹیز کانفرنس بلانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

مسلم لیگ نون کم تین رکنی وفد احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق اور ایاز صادق پرمشتمل تھا۔

بلاول ہاؤس لاہور میں  ہونے والی اس ملاقات میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ قمر زمان کائرہ اور  دیگر پارٹی رہنما بھی موجود تھے۔

ملاقات کے بعد دونوں پارٹیوں کی جانب سے کی گئی مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ عید کے بعد آل پارٹیز کانفرنس بلانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ جوائنٹ اپوزیشن کمیٹی بنانے پر بھی اتفاق ہوا ہے، جس میں  مسلم لیگ نون کے ایاز صادق، خواجہ آصف، مریم اورنگ زیب شامل ہوں گے۔

قمر زمان کائرہ نے بتایا کہ توقع ہے عید سےقبل ہوم ورک مکمل کرلیں گے، عید کے بعد لیڈرشپ کی سطح پر اے پی سی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی اپوزیشن جماعتیں اس بات  پر متفق ہیں کہ یہ حکومت خود ایک بڑا مسئلہ ہے،ہماری کوشش ہے ان کو جلد سے جلد فارغ کیا جائے، نیب کے ہتھکنڈے واضح ہوتے جارہے ہیں،انہوں نے کہا کہ نیب جتنا چاہے تشدد کرلے ہم نے آمروں اور مارشل لاؤں کا سامنا کیا ہے جو کسی قانون کو نہیں مانتے تھے، جو باوردی اور ان سے کئی گنا طاقتور تھے۔

قمر زمان کائرہ نے مزید کہا کہاس معاملے پر اپوزیشن جماعتوں  میں کوآرڈینشن کافی دیر سے جاری تھی،اب ملک کو بحرانوں سے نکالنے کےلیے مشترکہ حکمت عملی ترتیب دی جائے گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ اسمبلی کے اندر  بڑی اہم قانون سازی ہونے جارہی ہے اور اپوزیشن جماعتیں عوام کی فلاح کےلئے قانون سازی کی حمایت کریں گی۔

اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے میں رہنما مسلم لیگ نون  احسن اقبال نے کہا کہ میں پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ اور بلاول بھٹو کا مشکور ہوں، شہباز شریف کی ہدایت بلاول بھٹو سے ملاقات کی ہے۔

احسن اقبال نے کہاکہ پاکستان پر کالے قانون مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ہر آنے والے دن نیب نیازی گٹھ جوڑ مزید واضح ہوتا جارہا ہے

انھوں نے مزید کہا کہ اس حکومت نے مہنگائی بے روزگاری کا زہر گھول دیا ہے، موجودہ حالات میں گاڑیوں والے موٹر سائیکل پر آگئے ہیں، مزدور کسان اور ڈگری ہولڈر نوجوان پریشان ہیں،

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان کو 72 سال کے بعد تجربہ گاہ نہیں بنایا جاسکتا ہے،ماضی میں ایسے تجربات نے پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے،معیشت تباہ ہوگئی، عوام کو بہتر معیار زندگی دینا دور کی بات ہوگئی ہے۔

احسن اقبال نے بتایا کہ ایسا قانون بنایا جارہا ہے جو نیب کا باپ نہیں دادا ہے،دو سال میں یہ حکومت اپکسپوز ہوگئی ہے، ہم نے حکومت کے کلہاڑوں کا مقابلہ کیا ہے،ہماری قیادت سے نچلی سطح تک سب نے جیلیں بھگتی ہیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ کورونا نے عمران خان کو بچایا ہے،اس وباء نے حکومت کو لائف لائن اور آکسیجن دی ہے،ہم کورونا کی موجودگی میں عوامی زندگیوں سے نہیں کھیل سکتے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے، وہ بھارتی مظالم کا تن تنہا مقابلہ کررہے ہیں۔ ملک میں آزادی اظہار رائے کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

لیگی رہنما نے کہا کہ یہ حکومت ملکی شیرازہ بکھیر رہی ہے،موجودہ حکومت کی وجہ سے پاکستان کو داخلی اور خارجی خطرات کا سامنا ہے۔ اس حکومت سے نجات حاصل کرنا عوام کی امنگوں کی ترجمانی ہے،تمام جماعتوں سے مشاورت سے عید کے بعد اے پی سی ہوگی۔

 

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button