fbpx
آج کا ایشواخبار

وزیراعظم عمران خان کے حکم پر وفاقی کابینہ میں موجود 5 مشیران اور 15 معاونین خصوصی کے اثاثوں کی تفصیلات جاری کر دی گئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق 20 میں سے 14 مشیران اور معاونین کے غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس میں 1.45 ارب روپے مالیت کی فارن کرنسی موجود ہے۔

جولائی 18, 2020 | 2:10 شام

مشیران و معاونین کے 1.45 ارب روپے میں سے 1.08 ارب روپے (75 فیصد) بیرون ملک میں ہیں جب کہ باقی 0.36 ارب روپے (25 فیصد) پاکستان کے بینک اکاؤنٹس میں موجود ہیں۔

کابینہ ڈویژن کی ویب سائٹ پر موجود کابینہ کے ان 20 اراکین کے اثاثہ جات کی تفصیلات کے مطابق کل 55 غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس 14 مشیران و معاونین اور ان کی بیگمات کے نام ہیں۔ ان اکاؤنٹس میں سے 36 بیرون ملک جب کہ 18 پاکستان میں موجود ہیں۔ سردار یار محمد رند کے بھی غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس ہیں مگر انہوں نے ان کی تفصیلات نہیں دیں کہ کتنے اکاؤنٹس ہیں، صرف کل رقم درج کی ہے۔

غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس میں سب سے زیادہ رقم وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پاور ڈویژن شہزاد سید قاسم کے پاس ہے۔ غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس میں ان کے پاس 43 کروڑ، 38 لاکھ روپے ہیں اور ان کے پاکستان کے علاوہ پانچ مختلف ممالک میں اکاؤنٹس موجود ہیں۔

دوسرا نمبر وزیراعظم کے قریبی دوست اور معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی سید ذوالفقار عباس بخاری (ذلفی بخاری) کا ہے۔ ان کی اور ان کی اہلیہ کے چار اکاؤنٹس میں 35 کروڑ، 60 لاکھ روپے کے قریب موجود ہیں۔

تیسرا نمبر معاون خصوصی معاملات برائے وزارت آبی وسائل سردار یار محمد رند کا ہے جنہوں نے بتایا ہے کہ ان کے پاس غیر ملکی اکاؤنٹس میں 20 کروڑ، 23 لاکھ روپے ہیں۔ چوتھا نمبر مشیر خزانہ حفیظ شیخ ہے جن کے پانچ اکاؤنٹس میں 14 کروڑ، 16 لاک روپے مالیت کی غیر ملکی کرنسی موجود ہے۔

کابینہ ڈویژن کی جانب سے اثاثوں سے متعلق جاری تفصیلات

زلفی بخاری

برطانوی شہریت رکھنے والے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز زلفی بخاری پاکستان میں 1300 کنال سے زائد اراضی کے مالک ہیں۔

جاری دستاویز کے مطابق اسلام آباد میں زلفی بخاری کے 34 کنال اراضی پر مشتمل پلاٹس ہیں جب کہ لندن میں 48 لاکھ 50 ہزار پاؤنڈز کی جائیداد کے بھی مالک ہیں۔ ان کے بیرون ملک پانچ کمپنیوں کے شیئرز بھی ہیں۔

دستاویزمیں بتایا گیا ہے کہ زلفی بخاری کی اہلیہ کے پاس 5 لاکھ پاؤنڈ مالیت کا سونا ہے اور دونوں کے پاس پاکستان میں 24 لاکھ روپے بینکوں میں موجود ہیں۔ زلفی بخاری کی بیرون ملک بینکوں میں 17 لاکھ پاونڈ رقم اس کے علاوہ ہے۔

عاصم سلیم باجوہ

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات عاصم سلیم باجوہ 15 کروڑ روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں اور دستاویز کے مطابق ان کے پاس گلبرگ گرین، اسلام آباد میں سات کروڑ روپے مالیت کا پانچ کنال کا مکان بھی ہے۔ اس کے علاوہ وہ رحیم یار خان اور بہاولپور میں 65 ایکڑ اراضی کے بھی مالک ہیں۔

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ کراچی، لاہور اسلام آباد میں معاون خصوصی اطلاعات کے پاس پانچ پلاٹس بھی ہیں۔ ان کے بینک اکاونٹ میں تقریبا تین لاکھ روپے کے علاوہ چار ہزار سے زیادہ ڈالرز بھی ہیں۔

معید یوسف

معاون خصوصی برائے نیشنل سکیورٹی ڈویژن معید یوسف بھی لاہور میں والد سے تحفے میں ملے ہوئے پانچ کنال کے مکان کے مالک ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے دادی کے تحفے میں ملی رقم سے فتح جنگ میں زرعی اراضی خریدی تھی جبکہ نیشنل ڈیفنس سرٹیفیکیٹس بیچ کر انہوں نے ڈی ایچ اے لاہور میں ایک پلاٹ بھی خرید رکھا ہے۔

ندیم بابر

معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر 2 ارب 75 کروڑ روپے کے مالک ہیں جب کہ ان کی پاکستان اور بیرون ملک جائیدادیں ہیں اور اس کے علاوہ بیرون ملک دو درجن سے زائد کمپنیوں میں شیئرز ہیں۔

دستاویز کے مطابق ندیم بابر پاکستان میں 12 کروڑ97 لاکھ روپے کی کمرشل اراضی کے بھی مالک ہیں۔

شہباز گل

اعزازی حیثیت میں خدمات سرانجام دینے والے امریکی گرین کارڈ ہولڈر شہباز گل کے ذمے 2 کروڑ 42 لاکھ کے واجبات ہیں تاہم ان کے موجودہ اثاثوں کی مالیت 9 کروڑ 44 لاکھ روپے ہے۔

دستاویز کے مطابق شہباز گل پاکستان میں ایک پلاٹ، فارم ہاؤس اور بیرون ملک ایک مکان کے مالک ہیں۔

شہزاد سید قاسم

معاون خصوصی برائے پاور ڈویژن کے دبئی میں تین ماکانات کی مالیت دو کروڑ درہم سے زائد ہے۔ ان کی امریکہ میں پراپرٹی کی قیمت 8 لاکھ 65 ہزار ڈالرز ہے۔ شہزاد سید قاسم کے امریکہ میں بینک اکاؤنٹس میں 21 لاکھ ڈالرز کی رقم موجود ہے جبکہ دبئی میں بینک اکاؤنٹس میں 18 لاکھ درہم موجود ہیں۔

شہزاد سید قاسم کے پاس 97 لاکھ روپے مالیت کے چار پلاٹ ہیں اور انہوں نے پاکستان میں 12 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر

پشاور سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے اپنے حلفی بیان میں کہا ہے کہ ان کے آبائی شہر میں صدر روڈ پر ان کا 14 مرلے کا ایک مکان کسی کے ساتھ مشترکہ ملکیت ہے۔ ان کے بیرون ملک کوئی اثاثے نہیں ہیں۔

ان کی پاس ایک گاڑی ہے جو ان کے شوہر کے نام پر ہے اور پانچ لاکھ کے زیورات ہیں۔ ان کے اپنے ایک بینک اکاونٹ میں محض ساڑھے چھ لاکھ روپے نقد پڑے ہیں تاہم ان کے شوہر کے مختلف بینکوں میں رقوم ایک کروڑ اکتالیس لاکھ کی رقم موجود ہے۔

شہزاد اکبر

ریکوری یونٹ کے سربراہ شہزاد اکبر کو گوجر خان میں تین مکانات اور اراضی ورثے میں ملیں اور وہ ان کے شریک مالک ہیں۔ اسلام آباد میں بھی ان کا گلبرگ گرین میں ایک پلاٹ میں 65 لاکھ روپے کا آدھا حصہ ہے۔ تاہم انہوں نے رقم میں ان اثاثوں کی مالیت نہیں بتائی۔

ان کے اپنے تو بیرون ملک اثاثے نہیں لیکن ان کی اہلیہ کا انہوں نے سپین میں ورثے میں ملا ہوا فلیٹ ڈکلیر کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے پاس بینک میں 45 لاکھ روپے پڑے ہیں۔

محمد شہزاد ارباب

سابق سرکاری افسر محمد شہزاد ارباب کے اثاثوں میں پشاور اور اسلام آباد میں میں دس کروڑ روپے سے زائد کے مکانات اور اراضی ہے۔ ان کے پاس آٹھ لاکھ روپے سے زائد کیش ان ہینڈ ہیں جبکہ 57 لاکھ روپے سے زائد بینکوں میں پڑے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button