Tickerاخبارشہر شہر سے

شوکت ترین کو کون سا عہدہ ملنے والا ہے؟ اس سے پہلے کیا ہوگا؟؟؟

اسلام آباد ذرائع کے مطابق حکومت نے معروف معاشی ماہر شوکت ترین کو وفاقی سطح پر اہم عہدہ دینےکا فیصلہ کر لیا گیا ہے، ان کی اس اہم عہدے پر تعیناتی جلد ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی طرف سے سابق وزیرخزانہ شوکت ترین کو وزارت خزانہ کا اہم ترین قلم دان سونپے جانے امکان ہے۔ حماد اظہر کو عارضی طور پر وزارت خزانہ کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔ ملک کے معروف بینکر شوکت ترین، اس سے پہلے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بھی وفاقی وزیر خزانہ رہے ہیں اور انہوں نے اس زمانے میں قومی محاصل کی تقسیم کے این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں سال 2009 میں شوکت ترین کو سینیٹر منتخب کرایا گیا اور پھر وہ وزیرخزانہ بنائے گئے۔ اب ایک بار پھر شوکت ترین کو پہلے 6 ماہ کے لیے وزیر خزانہ بنایا جائے گا اور پھر انہیں سینیٹ کی کسی نشست سے سینیٹ کا الیکشن لڑایا جائے گا۔

شوکت ترین معاشی امور پر گہری دسترس رکھتے ہیں اور خاص طور پر فنڈنگ ریزنگ اور محاصل کو بڑھانے میں نت نئی مہارت رکھتے ہیں۔ شوکت ترین 1953 کو ملتان میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے معاشی امور خاص طور پر بینکنگ کے معاملات پر دسترس رکھتے ہیں اور سٹی بینک سمیت کئی غیر ملکی اور مقامی بینکوں میں اعلی عہدے پر بھی خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت 29 مارچ کو ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا جس میں وفاقی کابینہ میں تبدیلیوں کیساتھ ساتھ عبدالحفیظ شیخ کو بھی وزیر خزانہ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

اس کے بعد اس عہدے پر پاکستان تحریک انصاف کے نوجوان رکن اسمبلی حماد اظہر کو تعینات کیا گیا، انہوں نے گزشتہ روز ہی اپنی وزارت کے عہدے کا حلف اٹھایا انہوں نے آج ایک اہم اجلاس کی صدارت بھی کی تھی۔

خیال رہے کہ اس وقت حماد اظہر کے پاس وزارت صنعت وپیداوار کا عہدہ بھی موجود ہے۔ بطور وزیر خزانہ تعیناتی پر انہوں نے ایک ٹویٹ کے ذریعے وزیراعظم عمران خان کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت اس اہم عہدے پر تین تعیناتیاں کر چکی ہے۔ یہ عہدہ سب سے پہلے اسد عمر کے حصے میں آٰیا تھا، اس کے بعد انھیں ہٹا کر عبدالحفیظ شیخ کو یہ ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔ اس کے بعد یہ قرعہ نوجوان وفاقی وزیر حماد اظہر کے نام نکلا تھا اور اب خبریں ہیں کہ انھیں بھی ہٹا کر اس عہدے پر شوکت ترین کو لایا جا رہا ہے۔

Tags

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button