fbpx
آج کا ایشواخبار

کرپشن مقدمات پر 30 دن میں فیصلہ ممکن نہیں، چئیرمین نیب

جولائی 25, 2020 | 10:15 شام

سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا چیئرمین نیب  نے کہا ہے کہ کرپشن مقدمات پر 30 دن میں فیصلہ ممکن نہیں، موجودہ احتساب عدالتیں مقدمات کا بوجھ اٹھانے کے لئے ناکافی ہیں، ہر احتساب عدالت اوسط 50 مقدمات سن رہی ہے، لاہور، کراچی، راولپنڈی، اسلام آباد اور بلوچستان میں اضافی عدالتوں کی ضرورت ہے، سٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا کہ حکومت کو کئی مرتبہ کہہ چکے کہ نیب عدالتوں کی تعداد بڑھائی جائے۔ 120 ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز نہیں تو ریٹائرڈ جج بھی تعینات ہو سکتے ہیں، احتساب عدالتوں کیخلاف اپیلیں سننے کے لئے بھی ریٹائرڈ ججز کی خدمات لی جا سکتی ہیں۔

انھوں  نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ بیرون ممالک سے قانونی معاونت ملنے میں تاخیر بھی بروقت فیصلے نہ ہونے کی وجہ ہے، عدالتوں کی جانب سے “سیاسی شخصیات” کے لفظ کی غلط تشریح کی جاتی ہے، غلط تشریح کے باعت سیاسی شخصیات کا مطلب غیر ملکی اداروں کو سمجھانا مشکل ہوجاتا ہے۔

چیئرمین نیب نے کہا ہے کہ 50،50 گواہ بنانا قانونی مجبوری ہے، عدالتیں ضمانت کے لئے سپریم کورٹ کے وضع کردہ اصولوں پر عمل نہیں کرتیں، ملزمان کی متفرق درخواستیں اور اعلی عدلیہ کے حکم امتناع بھی تاخیر کی وجہ ہے، اس کے علاوہ ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کا طریقہ کار بھی وقت طلب ہے۔ احتساب عدالتیں ضابطہ فوجداری پر سختی سے عمل کرتی ہیں اور ضابطہ فوجداری پر عمل نہ کرنے کا اختیار استعمال نہیں کرتیں۔ سپریم کورٹ نیب کو رضاکارانہ رقم واپسی کا اختیار استعمال کرنے سے روک چکی ہے، رضاکارانہ رقم واپسی کی اجازت ملے تو کئی کیسز عدالتوں تک نہیں پہنچیں گے۔

یاد رہےچیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے 8 جولائی کو کوئلے کے پلانٹ میں غیر قانونی تقرریوں سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت کے دوران وفاقی سیکرٹری قانون کو متعلقہ حکام سے ہدایات لے کر نئی عدالتیں قائم اور نئے ججز کی تعیناتی کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے ریمارکس دیئے تھے کہ20، 20  سال سے نیب ریفرنسز زیر التوا ہیں۔ نیب ریفرنسز کا جلد فیصلہ نہ ہونے سے نیب قانون بنانے کا مقصد ختم ہو جائے گا۔ ہر احتساب ریفرنس کا فیصلہ 3 ماہ میں ہو جانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button