fbpx
آج کا ایشواخبار

ملک میں عملاً صدارتی نظام نافذ ہے، پرویز رشید

جولائی 26, 2020 | 11:22 صبح

سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ اگر احتجاج کی کال دینا ہوتی تو 25 جولائی 2018ء کو ہی دے دیتے، سیاسی جماعتوں نے سیکھ لیا ہے کہ احتجاج کے باعث جمہوریت لپیٹ دی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ عوام انتخابات کو شفاف نہیں سمجھتے اسی لیے سلیکٹڈ حکومت کہا جاتا ہے، جو تجربہ کیا گیا وہ منہ کے بل زمین پر گر چکا ہے، اب 2018ء کے تجربے کو دہرانا مشکل ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اِن ہاؤس تبدیلی کے لیے اپوزیشن کے پاس نمبر پورے نہیں ہیں، سیاسی جماعتیں بار بار نئے الیکشن کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

نون لیگی رہنما نے کہا کہ ملک کو جس دلدل میں پھنسایا گیا، اس کا واحد حل انتخابات ہی ہیں، کہنے کو پارلیمانی لیکن عملاً صدارتی نظام نافذ ہے۔

پرویز رشید نے مزید کہا کہ حکومت میں دہری شہریت اور مفادات کے ٹکراؤ والے لوگ موجود ہیں، سیاسی جماعتوں کو عوام کے جذبات کی ترجمانی کرنا پڑے گی۔

پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما و سینیٹر پرویز رشید کا یہ بھی کہنا ہے کہ اے پی سی میں سڑکوں پر آنے کا فیصلہ باہمی مشاورت سے کریں گے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button