fbpx
آج کا ایشو

بلاول بھٹو بڑی عید کے بعد بڑی خوشخبری سنائیں گے

جولائی 28, 2020 | 6:59 شام

بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے دعوت دی اور چائے بھی پلائی۔

انھوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت پر تنقید کے نشتر چلاتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی حکومت ہر پاکستانی کی صحت و زندگی کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں، عوام ایک پیج پر ہیں، اس حکومت کو نکالنا پڑے گا، عوام آج مشکل وقت سے گزر رہے ہیں، ہمیں ان کو ریلیف دینا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ تاریخ میں پہلی حکومت ہے جس میں آٹا، چینی اور پیٹرول میں چوری ہوئی، جو کرپشن اسکینڈل پی ٹی آئی کی حکومت میں ہو رہے ہیں اس پر کوئی تحقیقات نہیں ہو رہی۔

بلاول بھٹو زرداری کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم مل کر پاکستان کے عوام کے مسائل پر روشنی ڈال رہے ہیں، عید کے بعد رہبر کمیٹی اور اے پی سی میٹنگ میں عوام کے لیے خوشخبری ہوگی۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ جتنے این آر او اس وزیراعظم نے دیے کسی نے نہیں دیے، حکومت کے ساتھ جو بات چیت ہورہی اس میں اپوزیشن کوئی ریلیف نہیں مانگ رہی۔

بلاول نے کہا کہ اِن ہاؤس تبدیلی یا مِڈ ٹرم الیکشن کی بات ہم نے ٹیبل پر رکھی ہے، ساری سیاسی جماعتوں کو ایک بات پر متفق ہونا پڑے گا کہ کیا کرنا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر انھیں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے ملاقات نہیں کرنی ہوتی تو وہ قومی اسمبلی میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو جواب دیتے۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ اپوزیشن کا موقف واضح ہے، ہم نیب اور ایف اے ٹی ایف قانون میں ترمیم کی حمایت نہیں کریں گے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ عمران خان کے ساتھ عوام نہیں تھی، جب ہم باہر نکلتے ہیں تو دھرنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی، ہم آدھے راستے پر پہنچیں گے اور عمران خان کی حکومت گر جائے گی۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف ہمارے انقلاب کی سربراہی کرنے کو تیار ہیں۔

اس موقع پر لیگی صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کا اتفاق ہے کہ حکومت نے 2 سال معیشت کو بے پناہ نقصان پہنچایا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں آج مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے، دنیا میں کورونا وبا کے بعد قیمتیں زمین بوس ہوگئیں جبکہ پاکستان میں بڑھ گئیں، حکومت کے پاس اس مہنگائی کا کوئی جواب نہیں۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ گندم کی کٹائی کا سیزن ختم نہیں ہوا اور ملک میں بحران پیدا ہوچکا، آج وزیرِ زراعت کہتے ہیں کہ ہمیں سمجھ نہیں آئی گندم کہاں گئی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک میں کئی ہفتے پٹرول ملا نہیں، پھر قیمت میں تاریخ کا سب سے زیادہ اضافہ کیا، اس مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن کردی۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر نے کہا کہ حکومت کے پچاس لاکھ گھر بنانے کے دعوے کہاں گئے؟ لاکھوں لوگ آج بیروز گار ہوچکے ہیں، کہاں گئے نوکریاں دینے کے دعوے؟

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ملک کی جی ڈی پی 2018 میں 5.8 پر آچکی تھی اور اب یہ 1.9 پر آگئی ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ کاروبار تباہ ہوگیا، اتنے یوٹرن ہوچکے ہیں کہ تاجر کسی یقین دہانی پر تیار نہیں، اس حکومت کے بس کی بات نہیں کہ حالات سدھار سکے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اب کہنا ضروری ہوگیا ہے کہ عمران خان کی حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی، اس حکومت کا مزید رہنا ملک اور عوام کے لیے خطرے سے کم نہیں۔

انھوں نے کہا کہ احتساب کے نام پر بدترین انتقام لیا جارہا ہے لیکن بی آر ٹی پشاور کا کیا حشر ہوا، 30 ارب سے 100 ارب روپے لگ گئے، کوئی پوچھنے والا نہیں جبکہ آج بھی بی آر ٹی کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے۔

شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے قوم کے اربوں کھربوں ضائع کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ مالم جبہ اسکینڈل ہے، چینی،  گندم اور پٹرول کے اسکینڈل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے حکومت سے کبھی ریلیف کی بھیک نہیں مانگی نہ ہی اپوزیشن احتساب سے بھاگ رہی ہے، لیکن یہاں وچ ہنٹنگ ہو رہی ہے۔

لیگی صدر نے بتایا کہ عید الاضحیٰ کے بعد اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا اجلاس ہوگا جس کے بعد کل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) میں ایجنڈا لے جایا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button