fbpx
اخبارایتھلیٹ کارنر

عمر اکمل کی سزا تین سال سے کم کر کے ڈیڑھ سال کر دی گئی

جولائی 29, 2020 | 9:12 صبح

 سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج فقیر محمد کھوکھر نے یہ فیصلہ بدھ کے روز لاہور میں سنایا، جو اس معاملے میں آزاد منصف کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ سماعت کے موقع پر عمر اکمل بھی موجود تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے رواں سال 20 فروری کو پاکستان سپر لیگ کے آغاز کے موقع پر عمراکمل کو مشکوک افراد سے روابط کے الزام پر معطل کر دیا تھا۔ بعدازاں کرکٹ بورڈ کے ڈسپلنری پینل نے ان پر تین برس کے لیے کرکٹ سے متعلق کسی بھی سرگرمی میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی تھی۔

عمر اکمل پر عائد تین سالہ پابندی کا آغاز 20 فروری 2020 سے ہوا تھا اور سزا میں کمی کے بعد اب یہ پابندی اگست 2021 میں ختم ہو جائے گی۔

سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمر اکمل نے ان کی اپیل سننے والے جج کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے اُن کے وکیل کے مؤقف کو اچھی طرح سُنا۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں اور مستقبل قریب میں پابندی کی مدت میں مزید کمی کے لیے دوبارہ اپیل کریں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن یونٹ نے عمراکمل کے سامنے اُن کے مشکوک افراد سے روابط کی تفصیلات رکھی تھیں۔

عمراکمل کو بتایا گیا تھا کہ انھوں نے دو مختلف مواقع پر مشکوک افراد سے ملاقاتیں کی تھیں اور کسی بھی موقع پر انھوں نے اس بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ اور اینٹی کرپشن یونٹ کو مطلع نہیں کیا۔

عمر اکمل نے اس معاملے کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن ٹریبونل کے سامنے چیلنج نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد یہ معاملہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے انضباطی پینل کو بھیج دیا گیا تھا اور عمراکمل سے کہا گیا تھا کہ وہ 27 اپریل کو پینل کے سامنے پیش ہوں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈسپلنری پینل کے سربراہ جسٹس (ریٹائرڈ ) فضل میراں چوہان نے دو اپریل کو مختصر سماعت کے بعد عمر اکمل پر کرکٹ سے متعلق کسی بھی قسم کی سرگرمی میں حصہ لینے پر تین سال کی پابندی عائد کر دی تھی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر تفضل حیدر رضوی کا کہنا تھا کہ عمر اکمل کو اپنی صفائی پیش کرنے کا بہت موقع دیا گیا لیکن وہ مبہم انداز میں وضاحت پیش کرتے رہے۔

آٹھ مئی کو پابندی کے بارے میں تفصیلی فیصلہ سامنے آیا تھا، جس میں جسٹس (ریٹائرڈ) فضل میراں چوہان نے لکھا کہ عمراکمل نے اس پورے معاملے میں نہ تو ندامت کا اظہار کیا اور نہ ہی معافی مانگی۔ انھوں نے اس سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن یونٹ سے بھی تعاون نہیں کیا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button