Tickerشہر شہر سے

جسمانی ریمانڈ کے بعد طالب علم کاتازہ ترین بیان سامنے آگیا ، پڑھ کر آپ بھی افسردہ ہوجائینگے،ناقابل یقین انکشافات

لاہور (نیوز ڈیسک) طالبعلم صابرشاہ نے تھانہ شمالی چھائونی میں درج کرائی جانے والی ایف آئی آر میں کہا تھا کہ میں جامعہ منظورالاسلامیہ لاہورکا طالبعلم ہوں، تین سال قبل مفتی عزیزالرحمن نے مجھ پر امتحانات میں جعلسازی کا الزام لگا کر تین سال تک وفاق المدارس میں امتحان کیلئے نااہل قراردلوا دیا، منت سماجت کرنے پر مفتی نے کہا کہ مجھے خوش کر دیا کرو تو پابندی ہٹوا دوں گا۔ اسکے بعد 3 سال سے مسلسل ہر جمعہ ز ی یا د تی کا نشانہ بناتا رہا ،تفصیلات کے مطابق مدرسے میں طالبعلم سے ز ی یا د تی کیس میں مفتی عزیزالرحمن کو
بیٹے سمیت میانوالی شہر سے گرفتارکرلیا گیا جبکہ دو بیٹوں کو لاہورکے مختلف علاقوں سے حراست میں لیا گیا۔سی آئی اے پولیس ذرائع کے مطابق رات دو بجے کے قریب پولیس کی بھاری نفری نے میانوالی کی مذہبی درسگاہ اور جے یو آئی کے ضلعی مرکز موتی مسجد مین بازارپرچھاپہ مارا اورمفتی عزیزالرحمن اور اسکے بیٹے الطاف الرحمن کو حراست میں لے کرنامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ پولیس نے مفتی عزیز الرحمن کے دوسرے بیٹے عتیق الرحمن کو کاہنہ لاہور، تیسرے بیٹے کو بیدیاں سے گرفتار کیا جبکہ اسکے ساتھی عبداللہ کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس کی جانب سے کل ملزموں کو عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔قبل ازیں طالبعلم صابرشاہ نے تھانہ شمالی چھائونی میں درج کرائی جانے والی ایف آئی آر میں کہا تھا کہ میں جامعہ منظورالاسلامیہ لاہورکا طالبعلم ہوں، تین سال قبل مفتی عزیزالرحمن نے مجھ پر امتحانات میں جعلسازی کا الزام لگا کر تین سال تک وفاق المدارس میں امتحان کیلئے نااہل قراردلوا دیا، منت سماجت کرنے پر مفتی نے کہا کہ مجھے خوش کر دیا کرو تو پابندی ہٹوا دوں گا۔ اسکے بعد 3 سال سے مسلسل ہر جمعہ ز ی یا د تی کا نشانہ بناتا رہا جس پر میں نے چوری چھپے ویڈیو بنانی شروع کر دی۔مقدمہ کے اندراج کے بعد آئی جی پنجاب انعام غنی نے ملزمان کی فوری گرفتاری کے لیے خصوصی ہدایات جاری کیں جس پر مفتی عزیز الرحمن اور اسکے بیٹوں کو سی آئی اے پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کر لیا ۔ دوران تفتیش ملزم نے جو وائرل ہونیوالی وڈیوزکی سچائی کا اعتراف کر لیا۔ ٹوئٹر پر انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب انعام غنی نے ملزم مفتی عزیز الرحمن کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ہم اس مجرم کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ہم معاملے کو ٹیسٹ کیس کے طورپر لیں گے ۔ اس سے پوچھ گچھ کریں گے اور سائنسی طریقہ کے تحت تفتیش کی جائے گی۔ قانون کے تمام تر تقاضے پورے کرتے ہوئے ملزم کو عدالت سے سزا دلوائیں گے کیوں کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے ایسے درندوں سے محفوظ رہیں تاکہ اپنے معاشرے کے مستقبل کو محفوظ بنا سکیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button