fbpx
آج کا ایشواخبار

اکستانیوں کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں ہونے دیں گے, بلاول بھٹو

جولائی 30, 2020 | 8:21 شام

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت انسدادِ دہشت گردی ایکٹ ترمیمی بل 2020 کے حوالے سے کنفیوژن پیدا کر رہی ہے، ہم پاکستانیوں کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں ہونے دیں گے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ آج جو حکومت نے کیا ہے وہ سمجھ سے باہر ہے۔

انھوں نے اسپیکر قومی اسمبلی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اسپیکر اسد قیصر نے آج جو کردار ادا کیا وہ مناسب نہیں تھا، لگتا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی کو یہ سب کرنے کا حکم ملا تھا۔

بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی اپنا کام ٹھیک طریقے سے نہیں کر رہے، اسپیکر کسی بھی جماعت کا حمایتی نہیں ہوتا۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ایک بل جو غیر متنازع ہوسکتا تھا آپ نے متنازع کردیا۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ہم ترمیم لے کر آئے تھے، لیکن حکومت چاہتی ہے کہ اپوزیشن بولے ہی نہیں، حکومت میری یا اپوزیشن کی زبان بند نہیں کرسکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ سے ملک کے اتحاد کے لیے کام کیا، پیپلزپارٹی نے دہشتگردی کا مقابلہ کیا، ہم جمہوریت اور انسانی حقوق کے حق میں ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے دیا گیا بل عوام کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔ حکومت اس بل کے حوالے سے کنفیوژن پیدا کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے اس حکومت کے آنے سے پہلے انتہا پسندی کا مقابلہ کیا، پیپلز پارٹی نے پاکستان کے گرین پاسپورٹ کی عزت بنائی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستانیوں کے حقوق کے خلاف کوئی بھی قانون سازی نہیں ہونے دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے بل کے نام پر حکومت نے آمرانہ طرز عمل اختیار کیا، حکومت نے اس بل کے حوالے سے پارلیمنٹ میں اپوزیشن کو بات نہیں کرنے دی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم کسی فرد کو 6 ماہ کے لیے لاپتہ بنانے کا کام نہیں ہونے دیں گے، ہم ہر بل کو دیکھ رہے ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی ہر بل کو دیکھے گی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button