fbpx
اخبارگلوبل ویلیج

بیروت دھماکوں کے بعدحکومت مخالف مظاہرے، سرکاری عمارتیں کس کے قبضے میں؟

مظاہرین نے وزارت ماحولیات کی عمارت کو نذر آتش کر دیا۔

اگست 9, 2020 | 11:55 صبح

فرانسسی خبر رساں ادارے  کے مطابق مظاہرین کے ایک گروپ نے ہفتے کی رات مرکزی بیت میں وزارت خارجہ سمیت چار اہم سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

فوج کے ریٹائرڈ افسران کی سربراہی میں مظاہرین کے اس گروپ نے وزارت خارجہ کی عمارت پر دھاوا بول کر اسے اپنی ’انقلابی تحریک‘ کا صدر دفتر قرار دے دیا تھا لیکن تین گھنٹے بعد فوج نے بڑی کمک کی آمد کے بعد عمارت میں کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 200 مظاہرین کو وہاں سے بے دخل کردیا۔

منگل کے کو ہونے ہولناک دھماکے سے اب تک 158 افراد کی ہلاک، چھ ہزار سے زیادہ زخمی اور تین لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس حادثے کے بعد مشتعل عوام حکومت کو اس غفلت کا مرتکب سمجھتے ہوئے سڑکوں پر احتجاج کے لیے باہر نکل پڑے۔

سکیورٹی فورسز نے شہدا سکوائر پر احتجاج کرنے والوں اور سرکاری عمارتوں پر قابض مظاہرین کے خلاف آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا جس سے کم از کم 110 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مظاہرین کے ایک اور گروپ نے وزارت ماحولیات کی عمارت کو نذر آتش کر دیا۔

مظاہرین نے وزارت اقتصادیات، لبنان میں بینکوں کی ایسوسی ایشن کے دفتر اور وزارت توانائی پر بھی قبضہ کر لیا تھا تاہم کچھ دیر بعد ہی فوج نے انہیں نکال باہر کیا۔

مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیےبیروت میں سکیورٹی فورسز کو  تعینات کر دیا گیا ہے۔

مظاہروں  کے بعدلبنان کے وزیر اعظم حسن دیب نے ٹیلیویژن پر قوم سے خطاب میں قبل از وقت انتخابات کی تجویز پیش کی ہے۔

دوسری جانب آج (اتوار کو) فرانس کی میزبانی میں بین الاقوامی ڈونر کانفرنس کا آغاز ہو گا جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت عالمی رہنما اور امدادی تنظیمیں لبنان کے لیے امدادی پیکج کا اعلان کریں گے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button