Tickerسائنس و ٹیکنالوجی

بیرون ملک سے نئی گاڑیاں منگوانے پر ٹیکس کم کردیا ، اب الیکٹرک کار کتنے میں پاکستان منگوائی جا سکتی ہے ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں کی مقبولیت پاکستان سمیت دنیا بھر میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ معروف الیکٹرک کار ساز کمپنیاں جدید سہولیات والی سستی الیکٹرک گاڑیاں بنانے کی دعویدار ہیں۔عام پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والوں کاروں کے مقابلے میں دنیا بھر میں الیکٹرک کاروں کی دستیابی تاحال اس قدر عام نہیں اور چونکہ انھیں جدید ٹیکنالوجیسے تیار کیا جا رہا ہے اس لیے ان کی قیمتیں بھی کچھ زیادہ ہوسکتی ہے۔ نامور صحافی عمیر سلیمی اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔اور اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو صارفین پاکستان میں ہیں، وہ الیکٹرک کار کیسے منگوا سکتے ہیں اور آیا ان گاڑیوں کی قیمتیں ملک میں دستیاب پٹرول والی گاڑیوں سے کم یا زیادہ ہوں گی۔انجن کے بغیر ان کاروں کا زیادہ انحصار الیکٹرک بیٹری پر ہوتا ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں میں ایندھن کا استعمال نہ ہونے سے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ فضائی آلودگی میں کمی کا باعث بن سکتی ہیں اور اسی وجہ سے اس کار کو ماحول دوست بتایا جا رہا ہے۔چینگ لی الیکٹرک کار علی بابا کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ پاکستانی صارفین کے لیے اس کی قیمت فی الحال 153,275 سے 197,610 روپے بتائی جا رہی ہے۔کمپنی کے نمائندے سے رابطہ کر کے اسے پاکستان میں آرڈر کرنے اور اس میں بہتری یا ترجیحات کے حوالے سے بات کی جاسکتی ہے۔چینی کمپنی سے 930 ڈالر کی قیمت پر فروخت ہونے والی اس کار کی درآمد پر ٹیکس اور ڈیوٹی بھی ادا کرنا ہوں گی جو ہر ملک میں مختلف ہیں۔ اور یہ ٹیکس کار کی قیمت سے بھی زیادہ ہوسکتے ہیں۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مطابق ملک میں نئی گاڑیاں باآسانی درآمد کی جاسکتی ہیں بشرط یہ کہ آپ اس کے لیے کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکسز ادا کریں جو درآمد کے عمل اور تقاضوں کے لیے ضروری ہے۔درآمد کا طریقہ کار سمجھنے کے لیے ہم اسی گاڑی کی مثال لے سکتے ہیں۔

Tags

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button