fbpx
آج کا ایشوسدا بہار

گوگل کا ڈوڈل، خوجک سرنگ اور اس سے جڑی کہانیاں

اگست 14, 2020 | 10:26 صبح

ہر سال کی طرح اس سال بھی دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل نے اپنا ڈوڈل پاکستان کے نام کیا اور جنوبی ایشیا کی سب سے طویل سرنگوں میں سے ایک سرنگ ’خوجک‘ کو دکھایا ہے۔

  یہ ریلوے سرنگ  کوئٹہ کے مغرب میں 113 کلومیٹر دور بلوچستان کے علاقے قلعہ عبداللہ میں واقع ہے اور سطح سمندر سے اس کی بلندی ایک ہزار 945 میٹر کے قریب ہے۔ اس سرنگ کی لمبائی 3.91 کلومیٹر ہے۔ یہ سرنگ 1888 سے 1891 کے درمیان درہ خوجک کے نیچے تعمیر کی گئی تھی اور اس سرنگ کا نام بھی اسی درے کے نام پر خوجک سرنگ رکھا گیا۔

یہ جنوبی ایشیا کی سب سے طویل سرنگوں میں سے ایک سرنگ ہے جبکہ دنیا کی طویل ترین سرنگوں میں خوجک کا نمبر چوتھا ہے۔

اس تاریخی سرنگ کو خوجک سرنگ کے علاوہ کھوجک سرنگ یا شیلا سرنگ بھی کہا جاتا ہے۔

یوم آزادی، گوگل ڈوڈل پر موجود مقام آخر ہے کہاں؟

تقریباً تین سال میں مکمل ہونے والی سرنگ کے حوالے سے ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اتنے بڑے منصوبے کا نہ کسی نے سنگ بنیاد رکھا نہ کسی نے اپنے نام کی تختی لگائی۔

پاکستان کی سب سے بڑی سرنگ خوجک کے حوالے سے کئی کہانیاں مشہور ہیں۔

ایک مشہور قصہ تو یہ ہے کہ سرنگ کی تعمیر کے آغاز میں ہی ایک دن 800 مزدور جان بحق ہوگئے۔

ایک اور قصہ یہ ہے کہ روشنی نہ ہونے ، مٹی کے تیل کے چراغوں کی روشنی میں کام،  موسم کی سختیوں اور بہت زیادہ ہلاکتوں کی وجہ سے مزدور دل برداشتہ ہوگئے تھے۔ اس لیے مزدوروں کا دل بہلانے کے لیے شیلا نامی بہت خوبرو رقاصہ کو بلایا گیا جو روزانہ رات کو رقص کرتی تھی۔ اسی کے نام سے علاقے کو شیلا باغ کہا جاتا ہے،

یوم آزادی، گوگل ڈوڈل پر موجود مقام آخر ہے کہاں؟

اس سُرنگ کے حوالے سے مقامی لوگوں میں یہ قصہ بھی مشہور ہے کہ اس سرنگ کے تعمیری منصوبے کے چیف انجینیئر نے اپنے اس شاہکار کے مکمل ہونے سے پہلے خود کشی کر لی تھی۔

یوم آزادی، گوگل ڈوڈل پر موجود مقام آخر ہے کہاں؟

خوجک سرنگ کی تصویر بند ہوجانے والے 5 روپے کے نوٹ کے پیچھے بنی ہوئی تھی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button