fbpx
اخبارسوشل میڈیا

کیمبرج متنازعہ نتائج ڈاؤن گریڈنگ, مطلوبہ یونیورسٹیز میں داخلے خطرے میں پڑ گئے۔

اگست 15, 2020 | 8:03 صبح
کیمبرج بورڈ نے بغیر امتحانات کے جون سیریز کے جو نتائج جاری کیے ہیں۔ اس میں ایک محتاط اندازے کے مطابق بڑی تعداد میں اے اور او لیول کے طلبا کو ڈاؤن گریڈ کردیا ہے جن طلبہ کے او لیول کے ابتدائی دو برسوں اور اے لیول کے پہلے سال ( اے ایس) میں مختلف مضامین میں ” اے اسٹار سے لے کر اے اور بی گریڈ” تھے انھیں ان ہی متعلقہ مضامین میں او لیول اور اے لیول سال آخر میں بظاہر بغیر کسی جواز کے ” بی ، سی اور ڈی گریڈ ” تک دے دیے گئے ہیں۔

بتایا جارہا اسکولوں اور کالجوں کی جانب سے کیمبرج کو بھجوائے گئے متوقع predicted grade اس کے برعکس بہتر تھے جس پر کیمبرج کی جانب سے اعتماد نہیں کیا گیا بات یہیں تک نہیں رکی بلکہ کچھ ایسے کیسز بھی سامنے آئے ہیں جن میں طلبہ کو کچھ مضامین میں “U” گریڈ دے کر un grade کردیا گیا ہے جس کا مطلب کیمبرج میں فیل تصور کیا جاتا۔

کیمبرج کی جانب سے اس متنازعہ نتائج کے اجرا  کے بعد  بیرون ملک  اور پاکستانی جامعات میں داخلے لینے والے سیکڑوں طلبہ اپنے اے لیول کے نتائج میں ڈاؤن گریڈنگ کے سبب مطلوبہ یونیورسٹیز میں داخلوں سے محروم ہوگئے ہیں ان کے داخلے خطرے میں پڑ گئے ہیں۔

اس صورتحال کے سامنے آنے کے بعد وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے ” سی اے آئی ای” کو ٹویٹ کرتے ہوئے پاکستانی طلبہ کی اس بے چینی پر نوٹس لینے کی سفارش بھی کردی ہے۔

جبکہ کراچی کے متاثرہ طلبہ نے اس صورتحال پر ہفتہ 15 اگست کو کیمبرج کے نتائج کے خلاف کراچی پریس کلب پر احتجاج کا پروگرام بھی ترتیب دیا ہے۔

برٹش کونسل کے ذرائع بتا رہے ہیں کہ کراچی سمیت ملک بھر کے کیمبرج اسکولوں اور کالجوں سے اس سلسلے میں اسلام آباد میں کیمبرج کے کنٹری آفس کو نتائج کے حوالے سے  لا تعداد شکایتیں موصول ہوچکی ہیں جس میں اسکولوں کی جانب سے نتائج پر شدید عدم اعتماد کیا گیا ہے اور ذرائع کہتے ہیں کہ سب سے زیادہ شکایات اے لیول ( اے ٹو) کے نتائج کے حوالے سے موصول ہوئی ہیں۔

یاد رہے کہ کیمبرج اسسمنٹ انٹرنیشنل ایجوکیشن نے کورونا کے سبب جون سیریز کے امتحانات منسوخ کرکے براہ راست گریڈنگ کا اعلان کیا تھا اور نتائج کا طریقہ کا وضع کرتے ہوئے طلبہ کی کارکردگی کی بنیاد پر متعلقہ اسکولوں اور کالجوں سے متوقع یا predicted grade  مانگے گئے تھے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button