fbpx
آج کا ایشواخبار

کوکورونا وائرس میں جینیاتی تبدیلی، ہلاکت خیزی میں کمی یا اضافہ؟

بین الاقوامی سوسائٹی برائے متعدی امراض کے نئے صدر کے مطابق یورپ، شمالی امریکہ اور ایشیا کے کچھ حصوں میں کورونا وائرس میں جو میوٹیشن یا جینیاتی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے، وہ اسے مزید متعدی تو بنا سکتی ہے لیکن یہ اس وائرس کو کم ہلاکت خیز بھی بنا رہی ہے۔

اگست 19, 2020 | 9:31 صبح

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کے سینیئر ڈاکٹر اور بین الاقوامی سوسائٹی برائے متعدی امراض کے نئے صدر پال ٹیمبیا نے بتایا کہ ’اس بات کے ثبوت ملے ہیں کہ کچھ علاقوں میں کورونا کے D614G میوٹیشن کے پھیلاؤ کے بعد وہاں ہلاکتوں کی شرح کم ہوئی ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ جینیاتی تبدیلی کے بعد وائرس کا جو روپ ہے وہ کم خطرناک ہے۔‘

ڈاکٹر ٹیمبیا نے روئٹرز کو بتایا کہ ’وائرس کا زیادہ متعدی لیکن کم جان لیوا ہونا اچھی بات ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’زیادہ تر وائرسز میں جیسے جیسے جینیاتی تبدیلی آتی ہے، ویسے ویسے وہ کم خطرناک ہوتے جاتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ وائرس کے حق میں ہوتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو متاثر کرے لیکن انھیں مارے نہیں کیونکہ وائرس کا کھانے اور رہائش کے لیے انحصار اپنے میزبان یا متاثرہ جسم پر ہوتا ہے۔‘

عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ سائنسدانوں نے فروری میں ہی پتا لگا لیا تھا کہ کورونا وائرس میں جینیاتی تبدیلی ہو رہی ہے اور وہ یورپ اور امریکہ میں پھیل رہا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ایسے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں جن کی بنیاد پر کہا جائے کہ جینیاتی تبدیلی کے بعد وائرس زیادہ خطرناک ہو گیا ہے۔‘

اتوار کو ملائیشیا کے محکمہ صحت کے ڈی جی نور حشام عبداللہ نے حال ہی میں سامنے آنے والے دو ہاٹ سپاٹس میں کورونا وائرس کے D614G میوٹیشن پائے جانے کے بعد لوگوں کو اور زیادہ خبردار رہنے کی ہدایت کی تھی۔

سنگاپور کے سائنس، ٹیکنالوجی اور ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے سیباسچیئن مارر سٹروہ نے کہا کہ کورونا وائرس کی یہ شکل سنگاپور میں پائی گئی ہے لیکن وائرس کی روک تھام کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے سبب وہ زیادہ پھیلنے میں ناکام رہا ہے۔

ملائیشیا کے نور حشام نے کہا کہ ’کورونا وائرس کی D614G قسم جو وہاں پائی گئی تھی وہ دس گنا زیادہ تیزی سے پھیلنے والی تھی۔ اور ابھی جو ویکسین تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ہو سکتا ہے کورونا وائرس کے اس نئی شکل پر وہ اتنی موثر نہ ثابت ہو۔‘

لیکن ٹیمبیا اور مارر سٹروہ نے کہا کہ میوٹیشن کے سبب کورونا وائرس میں اتنی زیادہ تبدیلی نہیں ہو گی کہ اس کے خلاف جو ویکسین بنائی جا رہی ہے اس کا اثر کم ہو جائے۔

مارر سٹروہ نے بتایا کہ ‘وائرس میں تبدیلی تقریباً ایک جیسی ہے۔ تبدیلی میں وائرس کا وہ حصہ نہیں بدلا جو ہمارا مدافعتی نظام پہنچانتا ہے، اس لیے کورونا وائرس کی جو ویکسین تیار کی جا رہی ہے اس پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button