fbpx
اخبارسب کے لیے سب کچھ

وزیراعظم کو کس نے اسرائیل کو تسلیم کرنے نہ دیا

وزیراعظم عمران خان نے واضح طور پر کہا ہے کہ پاکستان اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کرسکتا

اگست 19, 2020 | 11:10 صبح

 نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کرسکتا، اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے میرا ضمیر کبھی راضی نہیں ہوگا کیوں کہ فلسطین کے معاملے پر ہمیں اللہ کو جواب دینا ہے۔

سعودی عرب سے خراب تعلقات کی خبریں بے بنیاد ہیں، سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا،ہم سعودی عرب کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، ہمارا مستقبل چین کیساتھ جڑا ہے۔

چین نے ہر برے وقت میں ہمارا ساتھ دیا ہے، چین کو بھی ہماری ضرورت ہے، آگے چل کر کوئی بھی ملک چائنات کا مقابلوہ نہیں کرسکتا، پنجاب میں جولائی میں چینی دگنی بیچی گئی ،پتا چلا کہ پنجاب سے چینی سندھ جارہی ہے سندھ میں تو ہماری حکومت نہیں یہ سندھ میں چینی کا ذخیرہ کررہے ہیں ، عثمان بزدار پر شراب کے لائسنس کا الزام مذاق ہے۔

جس پر بڑے صوبے کے چیف ایگزیکٹو کو بلایا گیا، کراچی کیلئے جو کرسکتے ہیں وہ کرنے والے ہیں، اس سے شہر کے حالات بہتر ہونگے، پچھلے سات سے آٹھ سال میرے ساتھ سب سے زیادہ جدوجہد جہانگیر ترین نے کی، میری جدوجہد کا مقصد پاکستان کو حقیقی فلاحی ریاست بنانا ہے، اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کا مقصد حکومت کو غیرمستحکم کرنا ہے۔

احتساب کے معاملے سے پیچھے ہٹے تو ملک کا کوئی مستقبل نہیں ہو گا ۔ منگل کو حکومت کے دو سال مکمل ہونے پر ایک نجی ٹی وی چینل کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب حکومت سنبھالی تو ملکی معیشت دیوالیہ ہونے کے قریب تھی، 20 ارب ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا،کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کر کے 3 ارب ڈالر پر لے آئے ہیں۔

تجارتی خسارہ 40 ارب ڈالر ہو تو روپے کی قدر گرتی ہے، روپے کی قدر گرتی ہے تو مہنگائی ہوتی ہے، حکومت کے پہلے دو سالوں کے دوران دو ہزار ارب ملک کے قرضوں کی قسطوں میں چلے گئے، خسارہ بڑھے تو اخراجات کم کرنے پڑتے ہیں، ہم نے اخراجات کم کئے، دو سال بعد ہم نے پرائمری بجٹ کو بیلنس کیا۔

انہوں نے کہا کہ دوسرا مسئلہ انرجی کا تھا، سابقہ حکومتوں نے بجلی کے مہنگے معاہدے کئے، ہم دنیا کی مہنگی ترین بجلی بنا رہے ہیں، حکومت اور آئی پی پیز کا معاہدوں میں نظرثانی کیلئے متفق ہونا بڑی کامیابی ہے، مہنگی بجلی کا سب سے بڑا نقصان انڈسٹری کو ہوتا ہے، آئی پی پیز سے ازسرنو زبردست معاہدہ ہوا ہے، آئی پی پیز کا معاہدے پر شکریہ ادا کرتا ہوں، مثبت قدم ہے۔

جب تک بجلی کی پیداواری لاگت کم نہیں ہو گی مسائل حل نہیں ہوں گے، ماضی کے معاہدوں میں واضح کرپشن نظر آ رہی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم توانائی کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے جامع پاور پالیسی لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کی اشرافیہ نے کبھی بھی ملکی قانون، قواعدوضوابط کو تسلیم نہیں کیا، ایلیٹ کلاس خود کو قانون سے بالاتر سمجھتی ہے۔

نیب جب ایلیٹ کلاس کو بلاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ملک تباہ ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میری زندگی کا مقصد مافیا کا مقابلہ کرنا ہے، شوگر کمیشن نے چینی بحران کی تحقیقات کیں تو اس میں جہانگیر ترین کا نام آیا جس پر مجھے افسوس ہوا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایک اچھے لیڈر کو صادق اور امین ہونا چاہیے جس میں یہ صلاحیتیں نہ ہوں وہ لیڈر نہیں ہو سکتا۔ کراچی کی صورتحال کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کراچی پاکستان کا معاشی انجن ہے، شہر کی حالت دیکھ کر دکھ ہوتا ہے، 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو اختیارات منتقل کئے گئے، 80 کی دہائی میں اگر لسانیت اور تشدد فروغ نہ پاتا اور الطاف حسین جو گند کلچر لایا وہ نہ ہوتا تو کراچی دبئی سے زیادہ ترقی کرتا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان معاشی انجن ہے، ہم اس شہر کو میٹروپولیٹن سٹی بنانا چاہتے ہیں جس سے شہر کی ترقی ہو گی، کراچی کی بہتری کیلئے جو کر سکتے ہیں کرنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بارشوں کے بعد نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو کراچی بھیجا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے ترقی یافتہ شہروں نیویارک، لندن اور پیرس میں بھی میٹروپولیٹن نظام ہے، تہران کی مثال ہمارے سامنے ہے جن کا اپنا بجٹ ہوتا ہے اور اسی طرح ہم کراچی کو ترقی یافتہ شہر بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں لوکل گورنمنٹ سسٹم ہونا چاہیے جو اس کا آئینی حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ کے ماڈل پر مسلمانوں نے ترقی کی، مدینہ کی ریاست پہلی فلاحی ریاست تھی، ملک کو فلاحی ریاست بنانے کی کوشش کر رہا ہوں، مدینہ کی ریاست منفرد ریاست تھی سب کیلئے قانون برابر تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ترقی کرنی ہے تو غریب طبقے کو اٹھانا ہے، پاکستان میں چھوٹے سے طبقے کیلئے سہولیات ہیں، غربت کے خاتمے کیلئے چین کے تجربات سے استفادہ کیا، چین نے 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شوگر کمیشن رپورٹ میں سامنے آیا کہ شوگر کارٹل بنا ہوا ہے، طاقتور پیسے دیکر سارے کام کروا لیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میری ساری عمر جدوجہد میں گزری، سیاسی زندگی میں بھی 22 سال سے مسلسل جدوجہد کر رہا ہوں، گزشتہ دو سال میری زندگی کے سب سے زیادہ جدوجہد میں گزرے، جدوجہد کا مقصد ملک کو ان مقاصد کی طرف لیکر جانا تھا جس کی بنیاد پر ملک بنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبے پر اس لئے توجہ دی کہ اس سے عام آدمی کا روزگار وابستہ ہے، تعمیراتی صنعت سے لوگوں کو روزگار ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ مکمل لاک ڈاؤن کی وجہ سے سپین اور اٹلی میں کورونا کیسز بڑھے، نریندر مودی نے بھارت میں کرفیو لگا دیا۔

بھارت نے وہ کیا جو اپوزیشن جماعتیں مجھے کہہ رہی تھیں لیکن نتیجہ الٹ نکلا، لاک ڈاؤن کی وجہ سے بھارت میں لوگوں کو سخت مشکلات ہوئیں اور لوگ سڑکوں پر مرنے لگے مگر ہم نے ایسا نہیں کیا کیوں کہ مجھے غریبوں اور دیہاڑی دار مزدوروں اور رکشے والوں کی فکر تھی جو اپنے اور اپنے خاندان کیلئے روزی کماتے ہیں۔

اگرچہ سندھ میں سخت لاک ڈاؤن لگایا اور میں نے اس کی مزاحمت کی تھی تاہم جن علاقوں میں وائرس کی نشاندہی ہوئی وہاں اسمارٹ لاک ڈاؤن لگایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اللّٰہ کا خاص کرم ہے کہ پاکستان میں صورتحال اتنی خراب نہیں ہوئی، پڑوس میں ایران بھی وائرس سے شدید متاثر ہوا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں ثانیہ نشتر کو احساس ایمرجنسی کیش پروگرام شروع کرنے پر داد دیتا ہوں، بل گیٹس نے بھی کورونا بحران کے دوران ہماری حکمت عملی کی تعریف کی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button