fbpx
اخبارسب کے لیے سب کچھ

باپ اور بیٹوں نے اپنے ہی گھر کے 11 افراد کو قتل کرنے کی وجہ بتادی

پنو عاقل میں گھر کے سربراہ کی جانب سے اپنے بیوی بچوں سمیت کنبے کے 11افراد کو قتل کرنے کرنے کی وجہ سامنے آگئی ہے۔

اگست 20, 2020 | 2:51 شام

ملزم وہاب اللہ نے پولیس کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ اس نے زمین کے جھگڑے پر مخالفین پر الزام لگانےکے لیے اپنے بیٹوں کے ساتھ مل کر گھر والوں کو قتل کیا۔

پولیس کو ابتدائی ویڈیو بیان میں ملزم نے اعتراف کیا ہےکہ اپنی بیوی اور بیٹی کو میں نے جب کہ دیگر 9 افراد کو میرے بیٹےکلیم اللہ نےقتل کیا۔

ملزم کے مطابق  اس نے اپنے بھائیوں سے جھگڑے اور صدمےکی وجہ سے بیوی اور بیٹی کو تیزدھار آلے سے قتل کیا۔

پولیس کے مطابق ملزم کے4 بیٹے بھی قتل میں ملوث ہیں اور انہوں نے بھی اعتراف جرم کرلیا ہے۔

ملزم کلیم اللہ نے بھی پولیس کو دیے گئے بیان میں 9 افراد کو قتل کرنےکا اعتراف کیا ہے۔

ملزم کے چھوٹے بیٹے نے پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس کے والد اور بڑے بھائی نےتمام افراد کوقتل کیا،قتل کے وقت ہم 3 بھائی پہرے داری کررہے تھے اور قتل کے بعد والد اور ہم چاروں بھائی گھوٹکی چلےگئے۔

اس کا مزید کہنا ہے کہ والد مجھے بھی قتل کرنا چاہتے تھے تاہم جب میں نے ساتھ دینے کا کہا تو مجھے چھوڑ دیا۔

پولیس کے مطابق تمام ملزمان کے بیان ریکارڈ کرلیےگئے ہیں اور مزید تفتیش جاری ہے۔

واضح رہے کہ  یہ افسوس ناک واقعہ پنو عاقل کے گاؤں محمد حسن انڈھڑ میں پیش آیا تھا جہاں گھرکے سائباں ہی قاتل بن گئے اور اپنے ہی اہلخانہ کے گلوں پر چھریاں پھیر دیں۔

ایس ایس پی عرفان سموں کے مطابق مقتولین میں ملزم وہاب انڈھڑ کی بیوی رقیہ، 18سال کی بیٹی اقراء،8سال کی اسرا،6سال کی سریہ،5 سال کی حاجانی، 4سال کا بیٹا اسد، 3سال کا بیٹا احسن جب کہ بہو 19سالہ نسیمہ، 3سال کی پوتی نازیہ اور 1 سال کا پوتا علی شامل ہے۔

اہل علاقہ کاکہنا ہےکہ ملز م نے2011ء میں بھی اپنے بھائی کو قتل کیا تھا اور قتل کے جرم میں سزا کاٹ چکا ہے اوراس کے گھر والوں سے اکثر جھگڑے ہوتے رہتے تھے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button