fbpx
آج کا ایشواخبار

کیا آپنے فلم جودھا اکبر دیکھی ہے ؟ساتویں جماعت کے بچوں سے سوال

اگست 21, 2020 | 11:57 صبح

نجی سکولوں میں زیرِ تعلیم بچوں کے والدین کی ایک نمائندہ تنظیم ’پیرینٹس ایکشن کمیٹی‘ کے صدر کاشف اسماعیل بھی کتابوں پر پابندی کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

اپنے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’صرف وہ کتابیں جن پر اب پابندی عائد کی گئی ہے ان ہی میں غلطیاں نہیں ہیں بلکہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی اپنی شائع کی جانے والی کتابوں اور ایسی کتابیں جنھیں حکام نے این او سی دیا ہے، ان میں بھی غلطیاں موجود ہیں۔‘

ایسی چند کتابوں میں سے ایک کتاب جو کہ ایک نجی سکول میں ساتویں جماعت کو پڑھائی جانے والی تاریخ کی کتاب تھی اس میں انڈین اداکارہ ایشوریا رائے کی تصویر کے ساتھ بتایا گیا تھا کہ سنہ 2008 میں مغل بادشاہ اکبر اور ان کی اہلیہ جودھا بائی پر فلم بنائی گئی تھی جس میں ایشوریا رائے اور ان کے شوہر اداکار ابھیشک بچن نے کام کیا تھا۔

اس تصویر کے ساتھ بچوں سے سوال پوچھے گئے تھے کہ کیا آپ نے جودھا اکبر فلم دیکھی ہے؟ کیا آپ اس کے کسی گانے کے بارے میں جانتے ہیں؟ ایشوریہ رائے کی تصویر کو دیکھیں کیا آپ کو لگتا ہے کہ جودھا ایسی دکھائی دیتی ہوں گی؟

کاشف اسماعیل کے مطابق یہ اور اس طرح کی مزید کتابیں بھی ان نجی سکولوں میں اب بھی پڑھائی جا رہی ہیں۔انھوں نے بتایا کہ والدین اور نمائندہ تنظیمیں طویل عرصے سے حکومت کی توجہ نصابی کتب میں غلطیوں کے مسئلے کی طرف دلواتے رہے ہیں تاہم اس پر کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے۔

’قومی اور اسلامی نظریات کے خلاف اگر کوئی بات ہو گی تو ہم بھی اس کی مخالفت کریں گے لیکن یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ یہی کتابیں استعمال کرنے کی اجازت دی کس نے اور کیسے۔ ان کے خلاف بھی کارروائی ہونے چاہیے۔‘

کاشف مرزا کا کہنا تھا کہ کتابوں کی جانچ پڑتال اس وقت کیوں نہیں کی جا سکتی جب وہ پہلی بار مارکیٹ میں آتی ہیں یا شائع کی جاتی ہیں۔ ’حکومتی اداروں کا نظام مؤثر نہیں نظر آتا اور ان کی پالیسی میں یکسانیت نہیں ہے۔‘

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button