Tickerسب کے لیے سب کچھ

اسرائیل کو تسلیم کرنے کا دباؤ، وزیراعظم عمران خان نے بڑا اعلان کر دیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے غیر ملکی ویڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امریکی فوج کے جانے کے بعد خلا رہے گا۔افغانستان میں امن اور استحکام خطے کے لیے ناگزیر ہے۔افغانستان میں صورتحال کشیدہ ہوئی تو اثرات دور دور تک جائیں گے۔افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت آ چکی ہے۔افغانستان میں افغان کو مختلف قسم کے مسائل کا سامنا ہے۔

طالبان حکومت افغانستان میں صورتحال سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔افغانستان میں صورتحال پر قابو پانے کے لیے موثر اقدامات اٹھانا ہوں گے۔امریکی فوج کے انخلا کے بعد افغانستان میں انسانی بحران کا خدشہ ہے۔پاکستان چاہتا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک افغان عوام کو تنہا نہ چھوڑیں۔پاکستان افغانستان کا ہمسایہ ملک ہے وہاں کے حالات ہم پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
افغانستان میں مضبوط طالبان حکومت دہشتگرد تنظیموں سے نمٹ سکتی ہے۔امریکا نے 20 سال افغانستان میں رہ کر دیکھ لیا کہ مسائل کا حل کیا ہے۔افغانستان تمام ہمسایہ ممالک کے لیے اہم تجارتی گزرگاہ ہے۔وسط ایشیائی ممالک افغانستان کے راستے پاکستان تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔پاکستان خطے میں اقتصادی تعاون کا فروغ چاہتا ہے۔افغانستان میں خانہ جنگی سے بہت تباہی ہوئی۔طالبان نے بیس سال بعد حکومت سنبھالی ہے۔دنیا کو ہر صورت افغانستان کے ساتھ بات چیت کرنی چاہئیے۔طالبان نے واضح کیا ہے کہ وہ تعلیم ، خواتین کے حقوق اور دیگر مسائل کو حل کریں گے۔پاکستان چاہتا ہے کہ دیگر ممالک افغانستان کو تنہا نہ چھوڑیں۔کابل میں کرپٹ حکومت کی وجہ سے طالبان کو شہرت ملی۔امریکا کو افغانستان کی صورتحال سے دھچکا لگا۔ہمیں ماضی میں قربانی کا بکرا بنایا گیا اور ہمارے ساتھ ناانصافی کی گئی۔اب وقت آ گیا کہ امریکا قائدانہ کردار ادا کرے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ چین سے اچھے تعلقات ہیں اور چین خطے میں ابھرتی ہوئی طاقت ہے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔مقبوضہ کشمیر پاکستان اور بھارت کا حل طلب مسئلہ ہے۔مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہئیے۔بھارت دیگر خفیہ ایجننسیوں کیے ساتھ مل کر پاکستان پر حملے کرتی ہے،الزامات کے ثبوت آج تک پیش نہیں کیے۔وزیراعظم نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے سوال پر کہا کہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق کسی عرب ملک کا دباؤ نہیں ہے۔

Tags

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button