سب کے لیے سب کچھ

کامیاب جوان پروگرام ،گھر بیٹھے لاکھوں روپے قرضہ حاصل کریں اور اپنا کاروبار شروع کریں، مہوش وجاہت اب کتنا کمارہی ہیں؟اپنی کہانی شئیر کر دی

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)کامیاب جوان پروگرام کے تحت کراچی کی خاتون مہوش وجاہت نے چند دنوں میں اپنے ہنر کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا اور وزیراعظم عمران خان سمیت سربراہ کامیاب جوان پروگرام کا شکریہ ادا کیا۔تفصیلات کے مطابق کامیاب جوان پروگرام کے تحت کاروباری قرضہ جات کی فراہمی جاری ہے ، وفاقی حکومت نے نوجوانوں میں 21 ارب روپے کی تقسیم کا عمل مکمل کر لیا ہے

جبکہ بینکوں کی جانب سے اسکروٹنی اور رقم کی فراہمی کا عمل بھی تیز کردیا گیا ہے۔اس حوالے سے گورنر سندھ عمران اسماعیل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دئیے، جس کے مطابق ملک بھر کے نوجوانوں میں 2 ہفتوں میں مزید 2 ارب 60 کروڑ روپے تقسیم کر دئیے ، کامیاب جوان پروگرام کے ذریعے روزگار حاصل کرنے والے نوجوانوں کی تعداد 33 ہزار تک پہنچ گئی ، نوجوان کیسے اپنے ذاتی کاروبار کا خواب پورا کر رہے ہیں؟گورنر سندھ عمران اسماعیل نے سماجی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کامیاب جوان کی کامیاب کہانی ٹویٹ کر دی ، کراچی کی رہائشی خاتون مہوش وجاہت نے چند دنوں میں اپنے ہنر کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا۔

مہوش وجاہت نے کہا بیوٹی سیلون کا کام سیکھا لیکن کاروبار کے آغاز کیلئے سرمایہ کاری نہیں تھی، کامیاب جوان پروگرام کے ذریعے قرض کیلئے اپلائی کیا تو چند دنوں میں مطلوبہ رقم مل گئی، اب میرا اپنا کاروبار ہے جسے اپنی مرضی کے مطابق وسعت دے رہی ہوں۔مہوش کا کہنا تھا کہ کامیاب جوان پروگرام کے ذریعے میرے خوابوں کی تعبیر ہوئی،وزیراعظم عمران خان اور سربراہ کامیاب جوان پروگرام کی شکرگزار ہوں۔پارٹنر بینکوں کی کارکردگی پر معاون خصوصی عثمان ڈار نے اظہار اطمینان کیا۔گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ نوجوانوں کو نیشنل جاب مارکیٹ میں شامل کرنا حکومت کی پہلی ترجیح ہے،نوجوانوں کو کامیاب دیکھنا وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کی تکمیل ہے۔عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ آہستہ آہستہ تکنیکی رکاوٹیں ختم کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں، انشااللہ تمام نوجوانوں کی وسائل کی یکساں اور مرٹ پر فراہمی ممکن بنائیں گے،نوجوانوں کا بزنس پلان جتنا موثر اور واضح ہوگا، اتنا جلد قرض ملے گا۔

Tags

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button