Tickerسب کے لیے سب کچھ

حکومت کا شیرازہ بکھرنے کو؟ دو اتحادی ناراض، تیسرے کا لائحہ عمل کیا

حکومت کا شیرازہ بکھرنے کو؟ دو اتحادی ناراض، تیسرے کا لائحہ عمل کیا

کراچی(ویب ڈیسک)  تحریک انصاف کی دو اہم اتحادی جماعتوں نے انتخابی اصلاحات پر اعتماد میں نہ لیے جانے پر حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے بھی صورتحال کا نوٹس لے لیا۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) کے ذرائع  کیمطابق متحدہ نے انتخابی اصلاحات پراعتماد میں نہ لینے پر وفاقی حکومت سے شدید نارضگی کا اظہار کیا ہے۔

ایم کیو ایم ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی حکومت کیطرف  سےمسلسل نظرانداز کیےجانے پررابطہ کمیٹی کااجلاس طلب کرنے کافیصلہ ہو چکا اور اس کے لیے ایم کیو ایم کے تمام اراکین اسمبلی اور سینیٹرز کو فوری کراچی پہنچنے کی ہدایت بھی کردی گئی ہے۔

ذرائع کیمطابق ایم کیو ایم نے حکومت کی حالیہ پالیسیوں پر کارکنان کو اعتماد میں لینے کیلئے جنرل ورکرزاجلاس طلب کرنےاورعوام میں جانے کا فیصلہ بھی کیاہے۔

ایم کیو ایم ذرائع کے مطابق بہادر آباد سے متصل پارک میں آج جنرل ورکرز کا اجلاس کیا جائیگا جس میں سیاسی صورتحال سمیت دیگر امور پر ان کی رائے لی جائیگی اورپھرمستقبل کےحوالےسےاہم اعلان کیا جائے گا۔

صرف ایم کیو ایم نہیں بلکہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس(جی ڈی اے)نےبھی انتخابی اصلاحات میں اعتماد میں نہ لینے کے معاملے پر ایم کیو ایم کے مطالبے کی حمایت کر دی ہے۔

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق نے کہا،’’ہم اتحادی ہیں، حکومت کا فرض ہے کہ وہ ہمیں انتخابی اصلاحات سمیت دیگر میں ہمیں اعتماد پر لیں‘‘۔

سارے معاملہ سامنے آنے پر وزیراعظم عمران خان نے ایم کیو ایم کے شکوےکوجائز قراردیتے ہوئے انتخابی اصلاحات پراعتماد میں لینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

 سیاسی ناقدین کا کہنا ہے کہ فی الحال ان دو اتحادیوں کیجانب سے سیاسی پریشر بڑھانے کیلئے یہ سب کیا جا رہا ہے جبکہ حکومت کی تیسری انتہائی اہم جماعت مسلم لیگ ق کیجانب سے ابھی تک کسی قسم کا بیان سامنے نہیں آیا  تاہم اگر مسلم لیگ ق کیجانب سے بھی ایسا کوئی لائحہ عمل اختیار کیا گیا تو حکومت کے لیے مسائل شدید ہو سکتے ہیں۔

مسلم لیگ ق کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کے قائدین اور سینئر لیڈرزصورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں  تاہم پارٹی میں ابھی تک ایم کیو ایم یا جی ڈی اے جیسے کوئی پیشرفت دیکھنے میں نہیں آئی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button