Tickerآج کا ایشو

وزیراعلیٰ بلوچستان کو بڑی حمایت مل گئی، جام کمال نے اپنا فیصلہ بھی واپس لے لیا

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک)بلوچستان حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی نے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا حصہ نہ بننے کا اعلان کردیا۔جبکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے بلوچستان عوامی پارٹی کی صدارت سے مستعفی ہونےکا فیصلہ واپس لے لیا۔اس بات کا اعلان عوامی نیشنل پارٹی

کے پارلیمانی لیڈر اصغر اچکزئی ، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے عبدالخالق ہزارہ ، جمہوری وطن پارٹی کے پارلیمانی لیڈر نواب زادہ گہرام بگٹی نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں نیوز کانفرنس میں کیا۔پارلیمانی لیڈر اے این پی اصغر اچکزئی نے کہا کہ یہ صورتحال حکومت کی تشکیل کے دن سے ہمیں درپیش ہے، اپوزیشن ترقی کیخلاف پہلے دن سے سازش کررہی ہے، اپوزیشن نے ہمیشہ بجٹ کے حوالے سے رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کیخلاف ہر غیر جمہوری عمل کا مقابلہ کریں گے، بلوچستان کی مخلوط حکومت متحد ہے۔دوسری جانب سربراہ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی عبدالخالق ہزارہ کا کہنا تھا کہ بطور اتحادی ہمارا فرض تھا ناراض دوستوں کو منائیں، نہ جانے کن وجوہات پر ہمارے ساتھی ضد میں ہیں۔ جام کمال نے بلوچستان عوامی پارٹی کی صدارت سے مستعفی ہونےکا فیصلہ واپس لینے کا اعلان وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کے ذریعے کیا۔اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی، ہزارہ ڈیمو کریٹک پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی کے علاوہ بلوچستان عوامی پارٹی کے حمایتی اراکین اسمبلی بھی موجود تھے۔جام کمال نے کہا کہ ان کے پاس وزارت اعلیٰ سے مستعفی ہونےکا بھی کوئی آپشن نہیں ہے اور وہ ہر طرح کے سیاسی بحران کا سامنا کریں گے، صوبے کی حکومت چل رہی ہے،کابینہ کا اجلاس بھی ہوا ہے۔وزیراعلیٰ کا کہناتھا کہ تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے نمبر گیم سب کے سامنے آجائےگا، پی ٹی آئی کے ایک ممبر کے علاوہ تمام ممبران ہمارا ساتھ دے رہے ہیں جب کہ دیگر اتحادی بھی ہمارے ساتھ ہیں، ہم ہر طرح کے سیاسی بحران کا سامنا کریں گے اور 5 سال تک ہم معاملات چلاتے رہیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کی 3 برسوں میں آصف زرداری سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی لہٰذا اس حوالے سے خبریں درست نہیں ہیں۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ میں نے پارٹی کے چیف آرگنائز جان جمالی سے کہا ہے کہ وہ تمام پارلیمانی اراکین کو بٹھائیں ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

Tags

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button