بلاگ ولاگ

نواز شریف کی جانب سےصدرِ مملکت کے عہدے کی پیشکش کیوں قبول کی اور پھر نواز شریف کیوں مُکر گئے ؟ ڈاکٹر عبدالقدیر کا زندگی کے آخری ایام میں حیران کن انکشاف

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نامور صحافی جاوید چوہدری اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ میری ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے آخری ملاقات جہاز میں ہوئی اور مجھے ان سے بات کرنے کا موقع مل گیا۔ باتوں باتوں میں میں نے پوچھ لیا کہ ’’آپ کے بارے میں مشہور ہے آپ کو غصہ بہت آتا ہے اور آپ صدر پاکستان بھی بننا چاہتے تھے‘‘ وہ مسکرائے‘ غور سے میری طرف دیکھا اور فرمایا ’’یہ دونوں باتیں درست ہیں‘‘ میں حیرت سے ان کی طرف دیکھنے لگا‘ وہ بولے ’’میاں نواز شریف مجھے صدر بنانا چاہتے تھے اور میں بھی راضی تھا‘

آپ اب مجھ سے پوچھیں گے‘ کیوں؟ بات پھر وہی ہے‘ سفر! میں صدربننے کے بعد بھارتی صدر عبدالکلام کی طرح ٹریول کر سکتا تھا اور یہ میرے لیے بہت بڑا تحفہ ہوتا لیکن پھر یہ ہو نہ سکا‘ نواز شریف مکر گئے بلکہ انہوں نے مجھے کے آر ایل سے بھی ریٹائرکرنے کا فیصلہ کر لیا‘‘ میں نے ٹوک کر پوچھا ’’اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے‘‘ وہ سنجیدگی سے بولے ’’میاں صاحب کانوں کے کچے ہیں‘ لوگوں نے ان کے کان بھر دیے تھے اور انہوں نے یقین کر لیا تھا‘ یہ صرف میرے ساتھ نہیں ہوا‘ وہ سرتاج عزیز‘ رانا بھگوان داس اور عبدالستار ایدھی کو بھی صدارت کا تحفہ دے کر پیچھے ہٹ گئے تھے لیکن بہرحال کیا فرق پڑتا ہے‘ باقی رہی غصے کی بات تو یہ مجھے واقعی آتا ہے اور شدید آتا ہے لیکن اس کی وجہ ہوتی ہے‘ میں منافقت‘ کام میں کوتاہی اور وعدہ خلافی برداشت نہیں کر پاتا‘ میں نے جب کام شروع کیا تو مجھے ہر طرف سے ان تینوں چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا‘ میں نے لوگوں پر دبائو ڈالنا شروع کیا اور یہ مجھے شارٹ ٹمپرڈ سمجھنے لگے‘ ان میں جنرل پرویز مشرف بھی شامل تھے‘ یہ کرنل کی حیثیت سے کچھ عرصہ میرے ساتھ کام کرتے رہے‘ میں نے ایک دن ان کی گوشمالی کی‘ یہ خاموش رہے لیکن دل میں رکھ لیا اور پھر مجھ سے اس کا بدلہ لیا مگر کیا فرق پڑتا ہے‘ میں آج بھی یہاں ہوں جب کہ وہ مارے مارے پھر رہے ہیں‘ اسے کہتے ہیں قانون قدرت‘‘ میں نے ان سے پوچھا ’’آپ کا دل سب سے زیادہ کس نے دکھایا‘‘ وہ ہنس کر بولے ’’جنرل مشرف اور نواز شریف نے‘‘ میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا‘ وہ بولے ’’جنرل پرویز مشرف نے دو سابق جرنیلوں کو بچانے کے لیے مجھے قربانی کا بکرا بنا دیا اور میرے کام اور میرے احسانات کا ایک لمحے کے لیے بھی پاس نہیں کیا‘ میرے ساتھ یہ سلوک نہیں ہونا چاہیے تھا۔

Tags

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button