fbpx
اخبارسوشل میڈیا

تمباکو کا جنوبی ایشیا میں بڑھتا ہوا استعمال ،پاکستان کا دوسرا نمبر

تمباکو نوشی سے لاحق بیماریاں ہر سال 90ہزار اموات کی وجہ بنتی ہیں

اگست 24, 2020 | 12:40 شام

دنیا بھرمیں  تمباکو کے استعمال سے ہونے والی اموات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور سالانہ ساڑھے تین پوری دنیا میں سالانہ تمباکو کی کل کھپت 25 فیصد جنوبی ایشیا کے تین ممالک میں استعمال ہوتا ہے،  جس  میں بھارت کا حصہ 70 فیصد کے ساتھ پہلے،  پاکستان کا 7 فیصد کے ساتھ دوسرے اور بنگلہ دیش  5 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

حال ہی میں شائع ہونے والی ایک تحقیقاتی  رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سات برس میں عالمی سطح پر تمباکو سے اموات میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یورک یونیورسٹی کے ماہرین نے یہ تحقیق کورونا وبا کے تناظر میں کی تھی جس میں لوگوں کے تھوکنے کی عادات کا جائزہ لیا گیا تھا۔

برصغیر پاک وہند میں تمباکو کھاکر جگہ جگہ تھوکنے کا عام رحجان ہے جو موجودہ کورونا وبا میں مزید خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کورونا کا مریض تمباکو چبا کر تھوکتا رہے تو اس سے مرض پھیلنے کا خدشہ دوچند ہوجاتا ہے۔

یورک یونیورسٹی کے ماہر ڈاکٹر کامران صدیقی نے عوامی مقامات پر تھوکنے پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ تمباکو کا استعمال منہ میں لعاب کو بڑھاتا ہے جسے بار بار تھوکنے کی ضرورت پیش آتی ہے اور یوں اس

سے کورونا وائرس کا پھیلاؤ بڑھتا ہے۔

ماہرین نے اس رحجان کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے سخت قوانین اور پابندیوں کا مطالعہ کیا ہے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ ریسرچ نے 2017 میں کہا تھا کہ تمباکو کھانے سے ہر سال منہ، حلق اور غذائی نالی کے کینسر سے 90 ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ جبکہ دل اور دیگر بیماریوں سے مرنے والوں کی
تعداد 258,000  بتائی گئی ہے لیکن اب ان کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button