fbpx
آج کا ایشواخبار

کراچی میں بارشوں نے تباہی مچادی، گھروں میں پانی داخل، لوگوں کی نقل مکانی

کراچی: سکھن ندی کا بند ٹوٹنے سے قائد آباد کے اطراف کئی آبادیاں زیر آب آگئیں

اگست 26, 2020 | 7:13 صبح

کراچی میں ہونے والی حالیہ بارشوں نے شہر کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے، بیشتر علاقے ندی نالے کا منظر پیش کر رہے ہیں۔  پانی گھروں میں داخل ہونے کے باعث لاکھوں افراد متاثرہ ہوئے اور نقل مکانی پر طوفانی بارش کے باعث نیشنل ہائی وے کے دونوں ٹریک بھی زیر آب آگئے جس کے باعث ہائی وے پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔مجبورہوگئے۔

کراچی میں شدید بارشوں کے نتیجے میں سکھن ندی کا بند ٹوٹنے سے قائد آباد کے اطراف کئی آبادیاں زیر آب آگئیں۔ ابراہیم گارڈن، ماروی گوٹھ، مدینہ کالونی، گلشن عباس، آفریدی کالونی اور یار محمد گوٹھ میں سیکڑوں گھر پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں جہاں بعض علاقوں میں 7, 7 فٹ تک پانی جمع ہو گیا ہے اور پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے۔

شہریوں نے رات چھتوں پر گزاری جب کہ پاک فوج، نیوی اور رینجرز کے اہلکاروں نے درجنوں افراد کو ریسکیو کیا۔سکھن ندی کا بند ٹوٹنے اور ملیر ندی کا قریبی علاقے میں پانی داخل ہونے سے بڑے پیمانے پر لوگوں کا مالی نقصان کا سامنا ہے جب کہ کورنگی کاز وے پر ریلے میں پھنسے چھ افراد کو بھی ایدھی  رضاکاروں نے نکال لیا۔

سرجانی ٹائون کی ایک خاتون روشن بیگم نے بتایا کہ بارش کے پانی کی وجہ سے بیٹی کے جہیز کا سامان بھی بہہ گیا جس میں سونے کی اشیاء کپڑے اور دیگر چیزں شامل تھیں،ہمارے گھر میں تو اندھیرا ہوگیا۔

نقل مکانی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے کوئی کیمپ نہیں لگایا گیا،رشتے داروں کے گھر بھی پہنچنا محال ہوگیا تھا۔

برساتی نالے اور سیوریج لائیں اوور فلو

شہر میں گزشتہ 3 روز کے دوران 200 ملی میٹرسے زائد بارش ہوچکی ہے، جس کی وجہ سے برساتی نالے اور سیوریج سسٹم میں آنے والا پانی نکاسی کی گنجائش سے کہیں گنا زیادہ ہے۔ جس کے باعث نالوں اور سیوریج کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا ہے۔ مليرندی بارش کے پانی سے اوورفلو ہوگئی، ندی میں طغیانی آنے کے بعد پانی کورنگی کازوے سے گزر رہا ہے جس کے باعث رات گئے دادا بھائی ٹاؤن میں ندی اوورفلو ہوگئی اور پانی علاقے میں داخل ہوگیا۔

ملیرندی میں طغیانی کے باعث پانی متصل آبادیوں میں آرہا ہے جب کہ قائد آباد کے مقام پرپانی کے ریلے کے باعث سڑک ٹریفک کے لیے بند ہوگئی ہے جس کی وجہ سے بدترین ٹریفک جام ہوگیا، بلوچ کالونی میں پانی گھروں میں داخل ہونے کے بعد پاک بحریہ نے ریسکیو آپریشن کرتے ہوئے لوگوں کوکشتیوں کے ذریعے محفوظ مقام پرمنتقل کیا۔

ڈپٹی کمشنرملیرکا کہنا ہے کہ سیلابی ریلے سے  رابطہ سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے، سیلابی ریلے سے گڈاپ کے کچھ دیہات بھی متاثر ہوئے ہیں، پی ڈی ایم اے اور پاک فوج کی ٹیموں نے لوگوں کو نکالنے کا کام شروع کردیا ہے۔

لوگوں کو اکیلا نہ چھوڑیں

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کمشنر کراچی کو فوری لوگوں کو نکالنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو کھانا اور پانی پہنچائیں، انہیں اکیلا نہ چھوڑیں

6 روز سے بجلی غائب

ایک جانب کراچی کے عوام انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کے باعث ابررحمت کو زحمت بنا دیکھ رہے ہیں تو دوسری جانب بجلی کی بندش نے ان سے چین و سکون بھی چھین لیا ہے۔ گزشتہ جمعے کو ہونے والی طوفانی بارش کے 6 روزبعد بھی سرجانی ٹاؤن اور نئی کراچی کے مختلف علاقے بجلی سے بدستور محروم ہیں۔ دوسری جانب گلستان جوہر ، گڈاپ اور بن قاسم ٹاؤن میں گزشتہ 3 روز سے بجلی کی فراہمی معطل ہے۔

کئی شاہراؤں سے پانی کا نکاس ہو گیا

کراچی میں بارش کا نیا سلسلہ شروع ہونے سے پہلے شہر کی بیشتر مرکزی شاہراہوں سے پانی اتر گیا۔ شارع فیصل، راشد منہاس روڈ سے بارش کے پانی کا نکاس کر دیا گیا۔ ناگن چورنگی، نارتھ کراچی، سرجانی ٹاؤن سے بھی بارش کے پانی کا نکاس کر دیا گیا۔

میٹروپول اور نیو ایم اے جناح روڈ، شاہراہ پاکستان، لیاقت آباد اور ناظم آباد سے بھی بارش کے پانی کا نکاس کر دیا گیا ہے تاہم ائیر پورٹ سے قائد آباد تک ٹریفک کی روانی متاثر ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button