سدا بہار

بیٹیوں کو ایسے ہی نہیں رحمت کہا جاتا ۔۔ جانیے جب والدین پر قرضہ چڑھ گیا، تو شادی شدہ بیٹی نے کس طرح والدین کی مدد کی؟

نومبر 18, 2021 | 9:05 شام

 

اکثر ہم سنتے ہیں کہ بیٹیاں زحمت نہیں زحمت ہوتی ہیں۔ لیکن اس جملے کی اصل مثال ایک ایسی خاتون ہیں جنہوں نے

اپنے فیملی کی اس وقت مدد کی جب وہ خود شادی کے بندھن میں بند چکی تھیں۔ہم ایک ایسی ہی داستان لے کر آئے ہیں جس میں ایک باہمت عورت اور ایک بیٹی کے بارے میں بتائیں گے جس نے اپنی مشکلات کو بالائے تاک رکھ کر والدین کی مشکلات کو ختم کیا۔ نبیلہ کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے ہے جو کہ باعزت اور پڑھا لکھا گھرانہ ہے۔ نبیلہ خود

 

اپنے والدین کی فرماںبردار اور چہیتی بیٹی ہیں۔والدین اپنی بچوں کی ہر خواہش کو پورا کرتے ہیں۔ لیکن کبھی نبیلہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ان کے ساتھ ایسا کچھ ہوگا۔ سوشل پاکستان کو دیے گئے انٹرویو میں نبیلہ نے بتایا کہ 2012 سے پہلے ہمارا گھر خوشحال گھرانہ تھا۔ لیکن 2012 کے بعد ان پر مصیبتوں اور مشکلات کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے۔ مالی

 

مشکلات او رقرضوں کی وجہ سے والدین ذہنی طور پر پریشان تھے۔ والد نے تو پریشانیوں کو جھیلنے کی کوشش کی مگر ان کی والدہ نے اس مشکل وقت کو اس حد تک ذہن پر حاوی کر لیا کہ وہ ذہنی طور پر کمزور ہو گئیں اور پھر گھر سے کبھی بھی نکل جایا کرتی تھیں۔ گلیوں میں پھرا کرتی تھیں۔ محلے دار انہیں دیکھا کرتے تھے۔ ہر ایک شخص یہی سوچتا

 

تھا کہ اب اس گھر پر مشکلات کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں، سب امید دلانے کے بجائے یہی سوچتا تھا کہ مسجد کے کسی کے انتقال کا اعلان ہوا ہے کہیں نبیلہ کی والدہ ہی تو نہیں۔ نبیلہ بتاتی ہیں کہ والدہ کافی بری حالت کا شکار ہو گئیی تھیں۔ امی نے اس حد تک ٹینشن لی کہ وہ پاگل ہو گئیں۔ وہ اس طرح ہو گئیں جیسے صدمے میں چلی گئی ہوں۔ امی گلیوں

 

میں بھاگنے لگ جایا کرتی تھیں۔ وہ اس حد تک بیمار ہوئیں کہ لوگوں جب کبھی مسجد سے اعلان ہوتا تو گمان کرتے کہ کہیں نبیلہ کی والدہ کے انتقال کی خبر نہ ہو۔ نبیلہ اپنی والدہ کو دیکھ کر تڑپ جاتی تھیں، ان سے والدہ کی یہ حالت دیکھی نہیں جاتی تھی۔ نبیلہ اللہ سے دعا کرتی تھیں کہ یا اللہ پاک کوئی ایسا وسیلہ بنا دے کہ میں والدین کی

 

مشکلات کو ختم کر دوں۔ ان سب مشکلات کے باوجود نبیلہ نے ہمت نہیں ہاری اور ووکینشل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ میں داخلہ لیا، جہاں وہ کمپیوٹر سے متعلق مضمون پڑھتی تھیں۔ وہیں وہ مخلتف اداروں اور لوگوں کو اپنی ہنر سے متعلق درخواستیں بھی بھیجتی تھیں۔ چونکہ میں نے نیٹ ورکنگ کا کورس کیا تھا، اسی لیے سوشل میڈیا سے بھی واقف تھیں لیکن

 

اسکائپ پر پڑھایا جاتا ہے یہ بات معلوم نہیں تھی۔ نبیلہ نے اسکائپ کو ہی پریشانیون اور مشکلات کے حل کا ایک ذریعہ تصور کیا اور اسکائپ پر مخلتف لوگوں کو قرآن مجید پڑھانا شروع کر دیا۔ نبیلہ نے اسکائپ پر قرآن مجید پڑھانا شروع کیا جس کا ہدیہ انہیں اتنا ملتا تھا کہ وہ گزر بسر کر لیتی تھیں۔ نبیلہ نے دن رات اسکائپ پر لوگوں کو قرآن مجید پڑھایا تب جا

 

کر وہ اس حد تک قابل بنیں کہ اپنے والدین کو گھر تحفے میں دیا۔ نبیلہ نے نہ صرف گھر تحفے میں دیا بلکہ والدین پر چڑھا ہوا قرض بھی اتار دیا۔ یعنی نبیلہ سچ مچ اپنے والدین کے لیے رحمت ثابت ہوئی کیونکہ نبیلہ شادی شدہ تھیں اس پوری صورتحال میں گھر بھی سنبھالتیں اور اپنے والدین کا بھی خیال رکھتیں۔ دن رات والدین کی خاطر کام کرنے سے نبلہ خود

 

بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی بیماریوں میں مبتلا ہو گئی ہیں۔ نبیلہ کے تین بچے ہیں اور ان کے شوہر بھی نوکری کرتے ہیں۔ شوہر کی کمائی سے گھر کا خرچ چل جاتا ہے اور نبیلہ کو جو پیسے ملتے ہیں اسے وہ محفوظ کرلیتی ہیں۔ نبیلہ نے اپنے والدین اور سسرال کو ایک ساتھ لے کر نہ صرف چلیں بلکہ دنیا کو پیغام دے دیا کہ مشکل کچھ بھی ہو اسے آسان بنانا اور شکست دینا ہم پر ہے۔

Tags

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button