Tickerسدا بہار

میرے ماں باپ اسلام کے بارے میں میری دلچسپی سے لاعلم تھے۔ میں نے اس کو تقریباً چھپائے رکھا اور پھر ایک روز سکارف پہنے گھر میں داخل ہوئی کہ میں اب مسلمان ہو چکی ہوں ۔۔ ایک ایسی لڑکی کی کہانی جس نے اسلام قبول کر کے خود کو تبدیل کرلیا

ایک ایسی لڑکی کی کہانی جس نے اسلام قبول کرکے خود کوتبدیل کرلیا

نومبر 20, 2021 | 8:43 شام

 

بلاشبہ اسلام ایک ایسا مذہب کے جس کی مٹھاس اور ٹھنڈک سے ہر مسلمان لطف اندوز ہوتا ہے۔ ہمارا دین محبت

بانٹنے، نیکی اور سچائی کی راہ دکھانے والا مذہب ہے۔دنیا میں بہت سے لوگ ایسے آئے اور آج بھی موجود ہیں جنہوں نے مذہب تبدیل کیے۔ بہت سے غیر مسلم عیسائیت سے ہٹ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوئے اور انہوں نے جو ہمارے مذہب میں آکر جو ذہنی و جسمانی سکون حاصل کیا وہ اسے کبھی نہیں بھلا سکے۔آج ہم ایک ایسی لڑکی کی کہانی

 

بتانے جا رہے ہیں جو کبھی غیر مسلم تھی اور اپنی زندگی کی موج مستیوں میں کھو چکی تھی لیکن بعد ازاں اس کی زندگی میں ایک حسین تبدیلی نے دستک دی۔لڑکی کا نام پرسیفون رضوی نے برطانوی خبررساں ادارے کو انٹرویو میں بتایا کہ جب انہوں نے مذہب اسلام کی دعوت قبول کی تو اس لمحے وہ بہت جزباتی ہوگئی تھی۔پرسیفون رضوی ایک پارٹی

 

گرل تھی۔ ان کا ہفتہ اور یعنی ویکینڈ پارٹیوں میں گزرتا۔ لیکن وہ اس زندگی سے خوش نہیں تھی۔انہوں نے اپنی اس پورے سفر کی کہانی سنائی کہ کیسے قبولِ اسلام نے ان کو ایک نئی اور بامقصد زندگی عطا کی ہے۔جب میں نوجوان تھی تو میں ایک بہت لاپرواہ اور بے ہنگم لڑکی تھی۔اختتام ہفتہ بس پارٹی ہوتی تھی۔ دن اس میں گزر جاتے تھے کہ کلب میں

 

گھسنے کے لیے کس کی شناخت استعمال کرنی ہے، کونسا لباس زیب تن کرتا ہے۔ پھر پارٹی پر جانے سے پہلے شراب نوشی۔ کلب میں پارٹی صبح چار پانچ بجے تک چلتی۔ جب وہاں سے نکالا جاتا تو کسی کے گھر میں جا کر پارٹی ہوتی۔ رات بھر پارٹی کرنے کے بعد اگلے روز سو کر اٹھتی تو سر درد ہو رہا ہوتا تھا۔انہوں نے بتایا کہ ان کی اپنی دوستوں کے

 

ساتھ لڑائی بھی ہوجاتی تھی اور ان پر جلتی سگریٹ بھی پھینکی جاتی تھی لیکن پھر میں نے یہ سب روکنا چاہا۔میں ایسے حالات سے گذر رہی تھی جو جذباتی طور پر بہت تھکا دینے والے تھے۔ میں ان حالات سے فرار کے لیے شراب کا سہارا لے رہی تھی۔میری زندگی بے مقصد تھی، مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کیا کر رہی ہوں۔ پھر میں مسلمان ہو گئی۔

 

یونیورسٹی جانے سے ایک سال پہلے میں نے ایک کال سنٹر میں نوکری کی۔ وہاں میری ایک مسلمان سہیلی تھی جس کا نام حلیمہ تھا۔ میں نے حلیمہ کے ساتھ پہلی بار روزہ رکھا۔یہ اسلام سے میرا پہلا آمنا سامنا تھا۔جب میں نے پہلی بار روزہ رکھا تو میں اسلام قبول کرنے کے بارے نہیں سوچ رہی تھی۔ روزہ تو میں نے خود کو چیلنج کرنے کے طور لیا تھا۔ اس

 

وقت میں یہ سوچا کہ روزے صرف تیس ہیں تو میں یہ کام کر سکتی ہوں۔جب میں نے روزے رکھنے شروع کیے تو میں اس وقت بھی میری شاب نوشی کا سلسلہ جاری تھا۔ اور تب بھی پارٹیز چل رہی تھیں۔پھر مجھ میں ایسے خیالات ابھرنے لگے، ’کہ میں اس سے بہتر ہوں‘ جو میں اب ہوں۔ ایک مہینے کے روزوں نے مجھے میں اخلاص اور تشکر کے جذبوں کو

 

جنم دیا۔ روزوں کے تجربے نے مجھے ذاتی تحفظ کا ایک ایسا پیکچ فراہم کیا جس کی مجھے اشد ضرورت تھی۔یہ وہ موقع تھا جب میں اسلام کی طرف راغب ہوئی۔جب میں بڑی ہو رہی تھی تو ہم باقاعدگی سے سنڈے سکول جاتے تھے۔ میرے والدین اور میری بڑی بہن چاہتی تھیں کہ مجھے اپنے عقیدے کا پتہ ہو۔ میرے والد ایک سیاہ فام برطانوی شہری ہیں جو

 

ہمیشہ چرچ جاتے تھے۔ میری والدہ چاہتی تھیں کہ مجھے اپنے عقیدے کے بارے میں معلومات ہوں لیکن انھوں نے مجھے کبھی مجبور نہیں کیا۔ہمارے خاندان میں کوئی بھی باعمل مسلمان نہیں ہے۔والدین کو ڈر تھا کہ ان کی بیٹی بدل جائے گی لیکن ان کی بیٹی پہلے سے زیادہ مؤدب اور ہمدرد ہو گئی ہے۔یونیورسٹی کے پہلے سال میں اسلام کے بارے میں

 

تحقیق کر رہی تھی اور میں سنجیدگی سے اسلام قبول کرنے کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ جب میں یونیورسٹی سے واپس سیلفورڈ میں اپنے والدین کے پاس آتی تھی تو وہ اسلام کے بارے میں میری دلچسپی سے لا علم تھے۔ میں نے اس کو تقریباً چھپائے رکھا اور پھر ایک روز سکارف پہنے گھر میں داخل ہوئی کہ میں اب مسلمان ہوں چکی ہوں۔میرے

 

والدین حیران و پریشان ضرور تھے لیکن وہ ناراض نہیں تھے۔ انھوں نے میرے انتخاب کے بارے سوالات اٹھائے۔ وہ چاہتے تھے کہ میں صحیح فیصلہ کروں۔میرے والد کا خیال تھا کہ میں بہت جذباتی ہو رہی ہوں۔ اور جب اب میں اس کے بارے میں سوچتی ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ میں زیادہ معتدل نہیں تھی۔میں قرآنی احکامات کی صحیح تشریح کو سمجھے بغیر ہر

 

چیز کتابی انداز میں کرنا چاہتی تھی۔ میں ہر چیز عقیدے کے مطابق کرنے کی خواہشمند تھی۔میں نے ایسے لباس پھینک دیئے جنھیں میں اب نامناسب سمجھتی تھی۔ میں نے نقلی ناخن اتار پھینکے اور سوشل میڈیا پر اپنا نام تبدیل کر لیا۔ میں نے ایسی تمام تصاویر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ہٹا دیا جو میرے خیال میں نامناسب تھیں اور فیس بک کا

 

نیا پیچ تیار کیا۔ میں نے سوچا کہ مغربی لباس حرام ہے۔ میں سوچتی تھی کہ میں ایسے لوگوں کے قریب نہیں رہ سکتی ہوں جو شراب نوشی کر رہے ہوں۔ میں نے ایسی جگہوں پر جانا ختم کر دیا جہاں مرد اور عورت دونوں ہوتے تھے۔اس وقت میں اپنے مذہبی رجحانات کے بارے میں کھل کر بات نہیں کرتی تھی اور کوئی مجھ سے اس بارے میں سوال کرتا تو میں

 

مجھے اچھا نہیں لگتا تھا۔لیکن اب مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اگر کوئی دوست شراب نوشی کرنا چاہتا ہے تو میں اسے مسئلہ نہیں بناتی۔ مسلمان کیمونٹی میں ہر فرد کی اپنی رائے ہے اور ان کی اپنی حدود ہیں۔ لیکن جب بھی نیا سکارف بھی پہنتی تو وہ ایسا ہوتا ہے جس سے میرا سینہ ڈھانپ جائے۔جب سے میں اپنا لباس تبدیل کیا ہے تو میں بڑی آسانی

 

سے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتی ہوں، مجھے کوئی نہیں روکتا۔ پہلے جب میں یونیورسٹی جا رہی ہوتی تھی مجھے دس منٹ کی واک کے دوران پانچ بار روکا جاتا تھا۔ اب مرد مجھے بالکل تنگ نہیں کرتے۔میں یہ نہیں کہہ رہی ہوں کہ میرے فیصلے غلط تھے لیکن فیصلے یقیناً اچانک تھے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے میں نے محسوس کیا کہ میں اپنی دنیا

 

میں فٹ نہیں ہوں، میں سوچتی تھی کہ میں مسلمان ہوں اور ایک مخصوص قسم کا لائف سٹائل اپنانے کی کوشش کر رہی ہوں اور میرے دوست ایسا نہیں کر رہے تھے۔میں ابھی یونیورسٹی میں ہی تھی جب میں نے باقاعدہ طور پر اسلام قبول کیا۔ میں نے اس کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی تھی۔ میں ایک روز سیلفورڈ کی مسجد میں امام سے کرنے کچھ

 

سوالات ساتھ لے گئی۔ امام نے میرے تمام سوالوں کے جواب دیئے اور کہا کہ جو میں پڑھ رہا ہوں، وہ تم بھی ادا کرو۔ جب میں نے ایسا کیا تو امام نے کہا :” مبارک ہو اب آپ مسلمان ہیں۔ میں بہت جذباتی ہو گئی، لیکن خوش تھی کہ آخر کار یہ ہو گیا۔مسلمان کیمونٹی نے میرا خیر مقدم کیا۔ میں کچھ ایسے دوستوں سے ملی جو اب میرے زندگی بھر کے دوست

 

ہیں۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ بہناپا (سسٹرہڈ) کیا ہوتا ہے۔ ہم ایک دوسرے سے بغیر کسی جھجک سے بات کر سکتے ہیں۔ مشکل وقت میں ہم ایک دوسرے کی دلجوئی کرتے ہیں۔ میرے دوست میرے سب سے مضبوط سہارا ہیں۔ ہم نے یہ سیکھا ہے کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ کے گرد کون لوگ ہیں۔جب سے میں اپنا لباس تبدیل کیا ہے تو مردوں نے

 

مجھے پریشان کرنا چھوڑ دیا ہے۔آپ توحیدہ اینڈ ریما فلم میں جو کردار دیکھتے ہیں وہ میرے لیے جنت کا ٹکٹ ہیں۔ وہ مجھے ہر وقت یہ یادہانی کراتے ہیں کہ یہ زندگی آخرت کی زندگی نہیں ہے۔ اب میرے لیے ’زندگی ایک بار ملتی ہے‘ کا تصور میرے لیے بیکار ہے۔ یہ تصور میرے لیے ناعاقبت اندیشی ہے۔میں نے ہمیشہ سب کچھ ٹھیک نہیں کیا۔ میں کئی بار

 

واپس پرانے راستے پر چلی گئی۔ جب میری ذہنی صحت خراب ہوئی تو میں نے شراب نوشی بھی کی لیکن وہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے ابتدائی دور کی بات ہے۔ ایک لمبے عرصے سے میرے ساتھ یہ نہیں ہوا ہے۔ میرے پختہ عزم نے ہمیشہ واپس آنے میں مدد کی اور اب تو میں اس راستے پر چلنے کے بارے میں سوچتی بھی نہیں ہوں۔ ہر کام ٹھیک نہیں

 

ہوتا لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ میں اسلامی عقیدے سے مخلص نہیں ہوں۔میرے والدین میرے بہت مددگار ہیں۔ انھوں نے کئی بار میرے ساتھ روزہ بھی رکھا ہے۔ ان کا واحد خدشہ یہ تھا کہ ان کی بیٹی شاید وہ نہ رہے جسے وہ جانتے تھے۔ لیکن اب وہ برسوں سے دیکھ رہے ہیں کہ ان کی بیٹی وہی ہے، لیکن دوسرے روپ میں جو پہلے سے زیادہ

 

مؤدب، پرسکون اور اپنے آپ پر مہربان ہمیرے خیال میں میری ماں میرے لیے ایسا لباس تیار کرنے کا چیلنج قبول کرتی ہے جو میرے لیے قابل قبول ہو۔ میری ماں میری پرسنل سٹائلسٹ ہے۔ میرے مسلمان دوستوں کو یقین نہیں آتا کہ میں اپنی ماں کی الماری سے ایسا لباس نکال کر پہن لیتی ہوں جو میرے لیے مناسب ہومیں ہڈرزفیلڈ کے گرین پارک کو دوبارہ

 

دیکھنے گئی ہوں جہاں میں نے بہت اچھا وقت اور کچھ بہت ہی برا وقت دیکھا ہے۔ جب میری ذہنی صحت کے مسائل عروج پر تھے تو میں نے اسی پارک میں اپنی زندگی ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔ شراب کے نشے میں دھت ہو کر میں نے بہت ہی تاریک جگہوں کو دیکھا ہےایک بار جب میں کچن کے فرش پر ننگے سوئے رہنے کے بعد جب اٹھی تو

 

مجھے محسوس ہوا کہ مجھے کچھ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ میں شراب کے نشے میں بہت آگے چلی گئی تھی۔ یہ میرے لیے جنہم بن چکا تھامیں اسی لیے کہتی ہوں کہ اسلام نے میری زندگی بچائی ہے۔ اگر میں مسلمان نہ ہوتی اپنی ذہنی اور جسمانی صلاحیت سے محروم رہ جاتی۔

 

Tags

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button