Tickerنیا دن نئی امید

گیس بحران کیوں آیا،شوکت ترین کا اپنی حکومت کی ناکامی کااعتراف،بحران کی وجہ بھی بتادی

گیس بحران حکومت کے بروقت اقدامات نہ کرنے سے آیا، شوکت ترین

نومبر 24, 2021 | 12:24 شام

کراچی (نیوز ڈیسک) مشیر خزانہ شوکت ترین نے اعتراف کیا ہے کہ ملک میں گیس بحران حکومت کے بروقت اقدامات نہ

کرنے سے آیا۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ گیس کے جو کارگوز ہمیں لینے چاہئیں تھے ہم نے نہیں لئے لیکن اب وقت گزر گیا اب عالمی سطح پر مہنگی گیس مل رہی ہے ، پنڈت یہ کہہ رہے ہیں دسمبر جنوری میں قیمتیں نیچے آنا شروع ہوجائیں گی۔ہماری مقامی گیس سپلائیز بھی گر رہی ہیں، معیشت کو جو دھکا لگا ہے وہ تو لگا ہے، گیس مہنگی

 

ہے لیکن لے تو رہے ہیں، عالمی مارکیٹ میں جو قیمتیں ہیں ان کا کسی کو پتہ نہیں تھا، ہمیں کچھ عرصے میں جو کچھ کارگو لینے چاہئے تھے وہ نہیں لئے وقت گزر گیا، دو تین مہینے کا ہی ہوتا اس وقت جو زیادہ قیمتیں ہمیں ہٹ نہیں کرتیں، ابھی حالت یہ ہے کہ پٹرولیم اور گیس کی امپورٹس20 ارب ڈالر سالانہ پر پہنچ چکی ہیں۔پٹرولیم اور گیس

 

کی،امپورٹس12،13 ارب  ڈالرتھیں سات آٹھ ارب ڈالر بڑھ گئیں، اس کی ایک وجہ کرنٹ اکائونٹ خسارہ ہے دوسرے سائیڈ تو ہم کنٹرول کررہے ہیں۔مہنگائی زیادہ ہے تاہم چاہتے ہیں عام آدمی پر بوچھ نہ پڑے ، منی بجٹ اگلے ہفتے تک لائیں گے ،اس وقت ہماری معیشت 5فیصد سے کہیں زیادہ گروتھ کررہی ہے،لگژری آئٹم پر اضافی ڈیوٹی عائد کرنے کا سوچ رہے ہیں ۔

عالمی منڈی میں قیمت کم ہونے پر پیٹرول لیوی بڑھائیں گے ۔ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پہلی دفعہ جانے سے بہت مختلف ہے کیونکہ پہلی مرتبہ میں ایسی شرائط پر دستخط کردیئے گئے تھے جو کہ میرے نزدیک کافی مشکل شرائط تھیں جس میں متعدد ٹیکسز لگانے کے ساتھ ساتھ 4 روپے 85پیسے فی یونٹ بجلی کا ٹیرف بڑھانے کی شرط بھی شامل تھی اوریہ معاہدہ میرے آنے سے پہلے مارچ میں ہوچکا تھا ۔

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے 7 سو ارب روپے ٹیکسیشن کی بات کی تھی میں نے 3 ارب پر منوایا میں نے آئی ایم ایف سے کہا تھا کہ چاہتے ہم بھی وہی ہیں اور انہیں میں نے ساڑھے تین ارب پر منوایا ۔

آئی ایم ایف نے کہا کہ سیلز ٹیکس کے ریٹس کو یونیفارم کرکے 17 فیصد کردیں جس پر میرا کہنا تھا کہ میں تو اپنے ٹارگٹ سے ابھی بھی ڈھائی سو ارب زیادہ ہوں جس پرآئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں لیکن ہم تو پالیسی تسلیم کرنے کی بات کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 15 ارب کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں ویکسین بھی شامل ہیں جو فنڈڈ ہیں ۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ مہنگائی زیادہ ہے تاہم ہم چاہتے ہیں کہ عام آدمی پر بوجھ نہ پڑے منی بجٹ اگلے ہفتے تک لائیں گے،بجلی کی قیمت ایک روپیہ 68 پیسے بڑھادی ہے جبکہ آئی ایم ایف کا کہنا تھاکہ بجلی کی قیمت میں 4 روپے 95 پیسے اضافہ کیا جائے لیکن ہم تین روپے پر بھی راضی نہیں ہوئے تھے ۔

تاہم فکر پیٹرول کے حوالے سے ہیں کہ اگر پرائسز نیچے نہ آئیں تو ہر ماہ چار روپے لیوی بڑھانا ہوگی جس سے عوام پر ایک بوجھ ہوگا ۔

ایک اورسوال کے جواب میں شوکت ترین کا کہنا تھا کہ میں قبرستان میں کھڑے ہوکر مردے نہیں اکھاڑتا ہوں میں تو زندگی کو آگے کی طرف دیکھتا ہوں آئی ایم ایف کو بتادیا ہے کہ گورنر اسٹیٹ بینک کی تعیناتی کابینہ کرے گی گورنر اسٹیٹ بینک کی ٹرم پانچ سال ہے لیکن حکومت کارکردگی کی بنیاد پر مزید پانچ سال اور بڑھاسکتی ہے ۔

Tags

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button