Tickerسدا بہار

جب گجرے نہیں بکتے تو اپنے بچوں کو دودھ کی بجائے پانی پلاتا ہوں ۔۔ ماں بہن کا زیور بیچ کر دبئی جانے والے درزی کی رلا دینے والی کہانی

نومبر 24, 2021 | 1:13 شام

ماں بہن کا زیور بیچ کر دبئی جانے والا آج اپنی ٹانگ کٹوا بیٹھا ہے۔ یہ سچا واقعہ لاہور کے علاقے لبرٹی کا ہے جہاں محمد

ابرار نامی شخص میں دیگر لوگوں کی طرح ڈالر کمانے کا شوق پیدا ہوا۔ تو ماں اور بہن کا زیور قیمی سامان بیچ کر دبئی پہنچا مگر جو اسے سہانے خواب پاکستان میں دیکھائے گئے تھے ایسا بلکل بھی نہ تھا۔ اسے ایجنٹ نے پاکستان میں کہا کہ آپ کو ہم ایسی جگہ کام پر لگوائیں گے جہاں رہائش اور 3 ٹائم کا کھانا بلکل مفت ہوگا اور 15 سو درہم آپکی تنخواہ

 

ہوگی، یہ رقم پاکستانی روپوں میں 7 لاکھ روپے بنتی ہے مگر جیسے ہی دبئی پہنچے تو سب سے پہلے کمپنی والوں نے ان سے ان کا پاسپورٹ وغیرہ چھین کر اپنے پاس رکھ لیا اور 2 سال کا معاہدہ کیا۔ کہ کچھ بھی ہو 2 سال کام کرنا ہے اور کوئی تنخواہ 15 سو درہم نہیں بلکہ 700 درہم ہے، یہ تنخواہ پاکستانی روپوں میں 33 ہزار بنتی ہے یہ جھٹکا کھانے کے بعد

 

انہیں اپنا کھانا پینا رہائش بھی خود کرنی تھی جس کی وجہ سے بس 7سو درہم میں سے 200 درہم ہی بچتے تھے اور وہ یہ رقم گھر بھیج دیتے تھے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے یہ گئے کیسے دبئی تو یہ جس دوکان میں درزی کا کام کرتے تھے انہوں نے ان سے کہا کہ آپ چلے جاؤ اچھا موقعہ ہے آ گے نکل جاؤ گے۔ ان کی بات مانی مگر زلیل و رسوا ہونے کے سوا

 

کچھ نہیں پایا مزید یہ کہ جب پاکستان آیا تو دوبارہ سے اچھی زندگی گزار رہا تھا اور سیکیورٹی گارڈ کی نوکری بھی کر رہا تھا۔ مگر 4 دسمبر 2019 کی وہ کالی رات تھی جب میں اپنی بہن کے کمیٹی کے پیسے دینے جا رہا تھا تو ایک ٹرک کے نیچے آ گیا جس سے میری جان تو بچ گئی مگر ایک ٹانگ کٹ گئی جس سے زندگی بھر کیلئے معذور ہو گیا ہوں۔ اس کے

 

علاوہ اب میں معذوری کی حالت میں سڑکوں پر یہ گجرے ، ہیند فری، یو۔ایس۔بی اور چارجر وغیرہ بیچتا ہوں مگر وہ بھی مجھ سے کوئی نہیں خریدتا اور جو لوگ مجھ سے خریدتے نہیں وہ میرے آگے ہاتھ جور دیتے ہیں۔ جیسے میں کوئی بھیک مانگ رہا ہوں ان سے بس کچھ لوگ لے لیتے ہیں اور زیادہ پیسے دے کر میری مدد بھی کر دیتے ہیں جس سے گھر کی

 

دال روٹی بھی پوری نہیں ہورہی۔ حالات تو گھر کے یہ ہیں کہ میں اپنے بچوں کو جب پیسے نہیں ہوتے پاس تو ادھار لیکر لوگوں سے دودھ پلاتا ہوں اور کئی کئی دن تو صرف پانی ہی بچوں کو پلاتا ہوں۔ اس غریبی نے تو یہ حال کر دیا ہے کہ میرا سگا تایا بھی مجھ سے ملنے اسپتال بھی نہیں آیا اور نہ ہی اب ملتا ہے کہیں یہ پیسے نہ مانگ لے۔ اس موقعے پر انکی

 

آنکھوں سے آنسو چھلک آئے اور کہنے لگے کہ کیا میں اتنا برا ہو گیا ہوں اب کہ لوگ میری طرف دیکھتے ہی نہیں۔ واضح رہے کہ محمد ابرار 2012 میں دبئی گئے اور پھر اسی پریشانی جب 2019 میں واپس آئے تو انکی ٹانگ کٹ گئی اب انکی مخیر حضرات سے درخواست ہے کہ ان کا علاج کرویا جائے۔ اور انہیں مصنوعی ٹانگ لگوا دی جائے تا کہ وہ اپنے بچوں

 

کیلئے روزگار کما سکے۔ یہ ٹانگ 90 ہزار کی لگنی ہے جس کیلئے اس کے پاس اتنے پیسے کہاں ہیں۔ انہوں نے اپنا نمبر بھی دیا ہے جس بھی بھائی کو انکی مدد کرنی ہو وہ ان سے اس نمبر پر رابطہ کر سکتا ہے۔ساتھ ہی ساتھ لوگوں سے انکی یہ بھی گزارش ہے کہ اپنا ملک چھوڑ کر نہ جائیں روکھی سوکھی کھائیں اور گزارا کریں کیونکہ اپنا وطن ہی سب

سے بہترین ہے۔

Tags

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button