Tickerسب کے لیے سب کچھ

ثاقب نثار کو آج نہیں تو کل سچ بتانا پڑیگا، مریم نواز ۔۔۔ سابق چیف جسٹس  پر مزید کئی سوالات داغ دیے۔۔۔

مکمل خبر تمام تر تفصیلات کیساتھ

نومبر 24, 2021 | 3:49 شام

اسلام آباد (ویب ڈیسک) مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق چیف جسٹس کے سامنے سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔ اُنہوں نے پوچھا کہ ثاقب نثار بتائیں کہ کس نے اُنہیں کہا کہ عمران خان کو لانا ہے، بتائیں آپ کو کس نے مجبور کیا کہ نواز شریف اور اُنہیں سزا دیں، ثاقب نثار بتائیں کہ آپ غیر قانونی اقدامات پر کیوں مجبور ہوئے اور وہ کون تھا جسے آپ بطور چیف جسٹس انکار نہیں کر سکتے تھے؟

مسلم لیگ نون کی نائب صدرمریم نواز نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی لیک آڈیو پر اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی کی جانب سے پوچھے گئے سوال ،’’کیا کوئی اور وڈیوز بھی آ رہی ہیں؟‘‘ کے جواب میں کہا کہ مزید ویڈیوز آنے کا تو علم نہیں ہے لیکن جب گناہ ہوتا ہے تو اُسکا ثبوت بھی کہیں نہ کہیں ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ثاقب نثار صاحب کی کسی کے ساتھ گفتگو کی سامنے آنیوالی آڈیو میں نہیں پتہ کہ سابق چیف جسٹس کس کے ساتھ گفتگو کر رہے ہیں، آڈیو کو جھوٹ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تاہم آڈیو کیساتھ امریکی فارنزک رپورٹ بھی ہے۔

مسلم لیگ نون کی نائب صدر نے کہا کہ ثاقب نثار نے بھی مان لیا ہے کہ آڈیو کلپ میں آواز اُنکی ہے،پھر  کہا گیا کہ مختلف تقریبات سے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی آواز جوڑ کر آڈیو بنائی گئی، پاکستان میں انصاف کسطرح عمل میں لایا جاتا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ اگر ثاقب نثار نے کسی تقریب میں اعتراف کیا ہے تو بڑی بات ہے لیکن اس تقریب کی گفتگو اُن کے سامنے نہیں آئی، جب آڈیو سامنے آئی تو پہلے ثاقب نثار نے کہا تھا کہ یہ آواز اُنکی نہیں، گلگت بلتستان کے چیف جج رانا شمیم کا بیانِ حلفی بھی سامنے آیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ رانا شمیم کے بیانِ حلفی کے بعد ثاقب نثار کا جواب آیا کہ وہ پاگل ہیں کہ عدالتوں کے چکر لگائیں، ثاقب نثار بتائیں آپ غیر آئینی اقدامات پر کیوں مجبور ہوئے؟ اُنہوں نے مزید کہا ،’’پہلی گواہی شوکت عزیز صدیقی صاحب کی تھی اور اب یہ نواز شریف اور نون لیگ کے حق میں پانچویں گواہی ہے‘‘۔

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی صاحبزادی نے کہا ،’’عمران خان کو کہا گیا کہ نواز شریف کیخلاف درخواست ہمارے پاس لائیں، پاناما میں 450 افراد کے نام آئے، کسی کو کچھ نہیں کہا گیا، جس کا نام نہیں آیا اس کو سزا دی گئی، بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر منتخب وزیرِ اعظم کو آفس سے باہر نکالا گیا‘‘۔

مریم نواز کا یہ بھی کہنا ہے کہ آج وہ جے آئی ٹیز کہاں ہیں؟ منتخب وزیرِ اعظم 18 گریڈ کے افسر کے سامنے پیش ہوتے رہے، 74 سال میں ایسا کون سا کیس ہے جس میں مانیٹرنگ جج بٹھایا گیا، حنیف عباسی کو انتخابات سے پہلے جیل میں ڈال دیا گیا۔

مریم نوازشریف نے کہاہے کہ آڈیو کی فرانزک امریکہ کے ایک ادارے میں کی گئی ، فرانزک کی رپورٹ بھی ہے ، آڈیو کو جھوٹ ثابت کرنے کیلئے دن رات کوششیں کی گئیں ،ایک چینل نے صحافت کے ساتھ آڈیو کی فرانزک کا ذمہ بھی لیا ، میں اس چینل کا شکریہ ادا کرتی ہوں ، کہا گیا کہ یہ آڈیو مختلف تقریبات کی تقاریر سے جوڑ کر بنائی گئی ہے ، ثاقب نثار کا پہلا رد عمل یہ تھا کہ یہ آواز ہی میری نہیں ہے ، اس چینل نے جلدی جلدی میں یا کسی پریشر کے تحت یہ کہہ دیا کہ یہ ثاقب نثار کی آواز ہے لیکن یہ مختلف تقاریر سے آڈیو بنائی گئی ہے ، شکریہ ادا کرتی ہوں انہوں نے ثابت کر دیا کہ یہ آواز انہی کی ہے ، پھر ثاقب نثار کا بھی بیان آ گیا کہ یہ جوڑ توڑ کر بنوائی گئی ہے ۔

مریم نواز کا کہناتھا کہ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ یہ جو تین جملے ہیں، یہ فلاں تقریرسے اٹھائے گئے ہیں ، وہ تقاریر بھی سنائی گئیں ، میں بڑے ادب سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ جو جملے سنا دیئے گئے ، وہ تو ہو سکتاہے کہ کوئی تکیہ کلام ہو، جیسے عمران خان اپنی ہر تقریر یہ کہتے ہیں ، آپ کو کچھ پتہ نہیں ، گھبرانا نہیں ہے ، ہر روز وہ تقریر کرینگے تو ہر روز یہی الفاظ استعمال کریں گے ۔

اُنہوں نے کہا کہ اِس آڈیو کے باقی جملے جو پورا خلاصہ ہیں ، جس میں ثاقب نثار کہہ رہے ہیں، ’’بدقسمتی سے ہمارے پاس ججمنٹ ادارے دیتے ہیں ، میاں صاحب کو سزا دینی ہے ، خان صاحب کو لانا ہے ،بنتا ہے یا نہیں بنتا ، اب کرنا پڑے گا ، دوسری سائیڈ پر موجود جج کہتے ہیں کہ بیٹی کی سزا نہیں بنتی ، ثاقب نثار کہتے ہیں میں نے اپنے دوستوں سے بھی یہی کہاہے کہ کچھ کیا جائے ، لیکن میرے دوستوں نے اتفاق نہیں کیا ‘‘۔

اُنکا کہناتھا کہ پاکستان میں انصاف کس طرح سے عمل میں لایا جاتاہے ، یہ آپ سب کے سامنے ہے ، اصل جملے آپ چھپا گئے ہیں ، اس چینل سے سوال کرنا چاہتی ہوں ، جو پراپیگنڈہ کر رہے ہیں ،وہ جملے جو آپ ہضم کر گئے ہیں، وہ جملے جو ثاقب نثار کے خلاف چارج شیٹ اور اقرار ہیں ، یہ جملے ثاقب نثار نے کس تقرریر میں کہے تھے ، اگر کوئی ایسی تقرریر ہے تو ہم بھی دیکھنا چاہیں گے ۔اصل بات کی طرف آتے ہیں ، بات یہ ہے کہ سب سے پہلی گواہی ، جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی ہے ، جو اس وقت اسلام آباد ہائیکورٹ کے معزز اور موجودہ جج تھے ، انہوں نے سنگین الزامات لگائے ، انہوں نے کہا کہ جب مریم نواز اور نوازشریف کی درخواست آئی تو جنر ل فیض گھر تشریف لائے اور کہاکہ ضمانت الیکشن سے پہلے نہیں دینی ہے ، ورنہ آپ بینچ میں نہ بیٹھیں ۔انہوں نے کہا کہ پہلے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو آج نہیں تو کل سچ بتانا پڑے گا۔

Tags

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button