Tickerشہر شہر سے

فیصل آباد میں خواتین کے کپڑے کس نے اور کیوں پھاڑے؟سب کچھ منظر عام پر آگیا

دسمبر 9, 2021 | 3:13 شام

 

فیصل آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) آج صبح سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے، جس پر تنقید کی جاری رہی ہے۔ویڈیو

 

میں دیکھا جا سکتا ہے، 4 خواتین ایک دکان میں داخل ہوتی ہے اور وہاں ہاتھ کی صفائی دیکھانی کی کوشش کرتی ہے، مگر جوہی حالات تھوڑے سے خراب نظر آتے ہیں۔ عورتیں اس دکاندار پر دھاواں بولتی ہے۔جس سے دکاندار بچ کے باہر بھاگ آتا ہے اور عورتوں کو دکان کے اندر بند کرنے کی کوشش کرتے ہوئے شور مچاتا ہے تاکہ باقی دکاندار بھی اکٹھے ہو۔

 

لیکن عورتیں دکان کا ایلومینیم کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوجاتی ہے اور بھاگ نکلتی ہیں۔جبکہ دکاندار ان میں سے ایک عورت کو پکڑنے میں کا میاب ہوجاتا ہے اور باقی دکانداروں کو بولاتا ہے۔ جس کے بعد، زیادہ لوگ تو جمع نہیں ہوتے لیکن ایک عورت اس پکڑی جانے والی عورت کو چھڑانے کی کوشش میں واپس آتی ہے اور دکاندار سے ہاتھا پائی کرتی نظر آتی

 

ہے۔جب ان دونوں عورتوں کی دال نہیں گلی تو جو عورت پکڑی جانے والی عورت کو چھڑوانے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ اپنی قمیض خود پھاڑ لیتی ہے تاکہ اردگرد کے لوگوں کو پتہ چلے کہ یہ دکاندار عورت کے ساتھ غلط کر رہا ہے۔جب اس عورت کی یہ چال بھی کام نا آئی تو وہ پھر خود بھاگتی ہے، اس پکڑی جانے والی عورت کو چھوڑ کر۔ جس کے بعد، ویڈیو

 

میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ عورت جس کی قمیض پھٹی ہوتی ہے،وہ پھر واپس آتی ہے اور اپنی ساتھی پکڑی جانے والی خاتون کو چھڑوانی کی پھر کوشش کرتی ہے لیکن ناکام ہو کر واپس چلی جاتی ہے۔اتنے میں اردگرد لوگ جمع ہوجاتے ہیں اور ایک شخص ایک اور عورت کو پکڑ کر لے آتا ہے۔ جس دوران دونوں خواتین اور مردوں کے درمیان ہاتھا پائی

 

ہوتی ہے۔یہ حقیقی کہانی اس وقت سامنے آئی جب سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی، اس سے پہلے لوگوں نے سوشل میڈیا پر شور مچا رکھا تھا کہ مردو نے عورتوں کے ساتھ غلط کام کیا ہے۔جبکہ اسی پر بات کرتے ہوئے، پاکستان پیپلز پارٹی کی اہم رکن شیری ریحمان کا بھی بیان سامنے آیا کہ ایک معمولی سی غلطی کی وجہ سے عورتوں کے

 

ساتھ اس طرح کا سلوک کافی شرمناک اور افسوسناک ہیں۔تاہم ابھی تک پولیس یا انتظامیہ کی طرف سے اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا کہ اس واقعہ کی اصل میں حقیت کیا ہے ؟

Tags

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button