fbpx
آج کا ایشواخبار

۔۔۔۔۔نواز شریف حاضر ہوں۔۔۔۔۔ سابق وزیر اعظم کو سرنڈر کرنے کا عدالتی حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو 9 ستمبر کو عدالت طلب کرلیا۔

ستمبر 1, 2020 | 7:55 صبح

اسلام آباد: ایون فیلڈ ریفرنس میں سزاؤں کےخلاف نواز شریف، مریم نواز اورکیپٹن (ر) صفدر کی اپیلوں کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اخترکیانی پر مشتمل بینچ نے کی جبکہ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نےدلائل دیئے۔

خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ ایون فیلڈریفرنس میں نوازشریف کی سزا معطلی کے بعد ضمانت منظور ہوئی اور العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو مشروط ضمانت ملی، نوازشریف کا موجودہ اسٹیٹس یہ ہےکہ وہ اس وقت ضمانت پر نہیں ہیں، یہ لیگل پوزیشن ہے کہ وہ ضمانت پر نہیں اور علاج کے لیے بیرون ملک گئے۔

خواجہ حارث کے مؤقف پر جسٹس عامر فارو ق نے کہا کہ نوازشریف کی ضمانت مشروط اور ایک مخصوص وقت کے لیے تھی، اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس جمع کرائی گئیں کہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں، طبیعت ٹھیک نہیں پھر بھی نوازشریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کردی گئی۔

عدالت نے سوال کیا کہ پنجاب حکومت نے ضمانت میں توسیع کی درخواست کب مسترد کی؟ اس پر خواجہ حارث نے بتایا کہ 27 فروری کو پنجاب حکومت نےضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کی۔

عدالت نے کہا کہ اگر لاہور ہائیکورٹ نے نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا تو العزیزیہ کی سزا ختم ہوگئی؟ اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ کی سزا مختصر مدت کے لیے معطل کی، کیا لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے آرڈر کو سپرسیڈ کیا جاسکتا ہے؟

خواجہ حارث نے مؤقف اپنایا کہ ایسی کوئی بات نہیں کہ نوازشریف عدالت کے سامنے سرینڈر نہیں کرنا چاہتے۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ہمیں تشویش ضمانت سے متعلق ہے، لاہور ہائی کورٹ میں ای سی ایل کا معاملہ ہے، ہم صرف سزا معطلی اور ضمانت کا معاملہ دیکھ رہے ہیں،  اس آرڈر کے اثرات لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر بھی آئیں گے۔

جسٹس محسن اختر نے کہا کہ نوازشریف پیش ہوں گے تو اپیل پر سماعت آگے بڑھے گی، آپ کہہ رہے ہیں کہ غیرموجودگی میں بذریعہ نمائندہ اپیل پر سماعت کرلی جائے۔

عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ وفاقی حکومت کا نوازشریف کی صحت پر کیا موقف ہے؟ اس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی نے کہا کہ مجھے کوئی ہدایات نہیں ملیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اگر نواز شریف مفرور ہیں تو الگ 3 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے، ٹرائل یا اپیل میں پیشی سے فرار ہونا بھی جرم ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم نواز شریف کو اس وقت مفرور قرار نہیں دے رہے، لیکن ان کے بغیر اپیل کیسے سنی جاسکتی ہے، اس حوالے سے ہم نیب سے بھی معاونت لیں گےکہ وہ کیا کہتے ہیں، ایک سوال ہےکہ اگر نواز شریف کی غیر حاضری میں اپیل خارج ہوگئی تو کیا ہوگا؟ اگر عدالت نواز شریف کو مفرور ڈیکلیئر کر دے تو پھر اپیل کا کیا اسٹیٹس ہو گا؟

ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے نوازشریف کی حاضری سے استثنا کی درخواستوں کی مخالفت کی اور کہا کہ نوازشریف کی حاضری سے استثنا کی دونوں درخواستیں ناقابل سماعت ہیں، درخواستوں کے ساتھ تفصیلی بیان حلفی لف نہیں، آج ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں سزا کےخلاف دونوں اپیلیں سماعت کے لیے مقرر ہیں، نواز شریف کا پیش نہ ہونا عدالتی کارروائی سے فرار ہے اور وہ جان بوجھ کر مفرور ہیں۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ہم ایک تاریخ دیں گے جس پر نواز شریف سرینڈر کریں اس لیے ابھی ہم نواز شریف کو مفرور ڈیکلیئر نہیں کر رہے، ہم نواز شریف کو سرینڈر کرنے کے لیے ایک موقع فراہم کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر ایون فیلڈ کیس میں اس وقت ضمانت پر ہیں جب کہ نوازشریف نے العزیزیہ اسٹیل ملز میں سزا کے خلاف اپیل کررکھی ہے۔ نیب نے بھی العزیزیہ کیس میں نوازشریف کی سزا بڑھانے کے لیے اپیل کررکھی ہے۔ احتساب عدالت نے فلیگ شپ ریفرنس میں نوازشریف کو بری کردیا تھا جس پر نیب نے ان کی بریت کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔

احتساب عدالت نے 6 جولائی کو ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو 10 سال قید اور جرمانے، مریم نواز کو7 سال قید اور جرمانے اور کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا تھا اور عدالت نے ان کی سزائیں معطل کرتے ہوئے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

نیب ریفرنسز کا پس منظر

سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ سے متعلق ہیں۔

نیب کی جانب سے ایون فیلڈ پراپرٹیز (لندن فلیٹس) ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کے بیٹوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا گیا تھا۔

اس کیس میں احتساب عدالت کی جانب سے 6 جولائی کو نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو سزا سنائی گئی تھی اور وہ اڈیالہ جیل میں قید تھے، تاہم 19 ستمبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے تینوں کی سزائیں معطل کرکے انہیں رہا کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔

جانب العزیزیہ اسٹیل ملز اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا۔

نواز شریف کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز احتساب عدالت کے روبرو پیش نہیں ہوئے جس پر عدالت انہیں مفرور قرار دے کر ان کا کیس الگ کرچکی ہے۔

نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں تین ضمنی ریفرنسز بھی دائر کیے گئے، جن میں ایون فیلڈ پراپرٹیز ضمنی ریفرنس میں نواز شریف کو براہ راست ملزم قرار دیا گیا تھا جبکہ العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ضمنی ریفرنس میں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر نامزد ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button