Tickerسدا بہار

پرانے سکوٹر پر سفر اور ’سادہ زندگی‘ گزارنے والے پرفیوم کے تاجر اتنے دولتمند کیسے بنے؟

جنوری 3, 2022 | 1:05 شام

 

انڈین ریاست اُتر پردیش کے شہر کانپور میں گذشتہ ہفتے پرفیوم کے ایک تاجر پیوش جین کے گھر پر انکم ٹیکس اور

انٹیلیجنس حکام کی جانب سے مارے گئے ایک چھاپے کے دوران تقریباً 177 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم برآمد ہوئی تھی۔ کانپور میں چھاپے کے بعد حکام نے اس تاجر کی ممبئی میں واقع کمپنیوں اور دفاتر پر بھی چھاپے مارے اور حکام کے مطابق مجموعی طور پر اب تک ان چھاپوں کے دوران 250 کروڑ روپے سے زیادہ کی کرنسی برآمد ہو چکی ہے۔ اس

 

تحریر میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ تاجر پیوش کون ہیں، انھوں نے اپنا کاروبار کیسے جمایا اور قلیل مدت میں اُن کے پاس اتنا مال و دولت کیسے آیا اور یہ بھی کہ انڈیا کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں میں یہ معاملہ اس قدر شدت سے کیوں زیرِ بحث ہے۔ پیوش جین کون ہیں؟ پیوش جین کا تعلق انڈیا کی ریاست اتر پردیش کے شہر کانپور کے علاقے

 

قنوج سے ہے۔ قنوج میں اُن کا ایک گھر، ایک پرفیوم فیکٹری، کولڈ سٹوریج اور ایک پیٹرول پمپ ہے۔ اُن کا ممبئی میں ایک گھر اور ایک شو روم بھی ہے اور ان کی متعدد کمپنیاں ممبئی میں بھی رجسٹرڈ ہیں۔ حکام کے مطابق پیوش جین تقریباً 40 کمپنیوں کے مالک ہیں جن میں سے دو مشرق وسطیٰ میں ہیں، لیکن اُن کی اصل پہچان اور شہرت بطور پرفیوم کے

 

تاجر کی ہے۔ انڈین ٹی وی چینل ’این ڈی ٹی وی‘ کے مطابق پیوش جین نے انکم ٹیکس اور جی ایس ٹی حکام کو بتایا تھا کہ انھوں نے وراثت میں ملنے والا سونا فروخت کر کے رقم اکھٹی کی کیونکہ ابتدا میں اپنا چھوٹا سا کاروبار بڑھانے کے لیے انھیں پیسوں کی ضرورت تھی۔ سرکاری اہلکار اُن کے دو بچوں سے بھی تفتیش کر رہے ہیں۔ جین کی کہانی کافی

 

دلچسپ ہے۔ اتنی جائیداد اور کمپنیوں کا مالک ہونے کے باوجود وہ اپنے آبائی گاؤں میں ایک پرانے سکوٹر پر سفر کرتے ہیں حالانکہ حکام کے مطابق اُن کے آبائی گھر پر پرانی کوالیس اور ماروتی کاریں بھی کھڑی ہیں۔ این ڈی ٹی وی کا کہنا ہے کہ جین بہت سادہ زندگی بسر کرتے ہیں اور گلی، محلے میں میں کسی سے زیادہ بات نہیں کرتے۔ ان کے والد

 

مہیش چندر جین پیشے کے لحاظ سے کیمسٹ تھے اور جین پیوش اور اُن کے بھائی امبریش نے پرفیوم بنانے کا فن اپنے والد سے ہی سیکھا تھا۔ اتنی دولت کیسے آئی؟ گذشتہ 15 سال میں پیوش کی دولت میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ انھوں نے کانپور، ممبئی، گجرات جیسی جگہوں پر اپنا کاروبار پھیلایا۔ جیسے جیسے پیسہ آیا انھوں نے قنوج میں اپنے آبائی گھر

 

کے آس پاس دو اور مکان خریدے اور ان پر ایک عالیشان گھر تعمیر کروایا۔ اب پیوش کے والد مہندر چندر جین اور اُن کا عملہ یہاں رہتے ہیں۔ پیوش اور ان کے بھائی امبریش یہاں گاہے بگاہے آتے جاتے رہتے ہیں۔ دونوں بھائیوں کے چھ بچے ہیں اور سب کانپور میں زیر تعلیم ہیں۔ اگرچہ پیوش جین نے حکام کو بتایا کہ ان کے پاس سے جو کروڑوں روپے کی نقدی ملی ہے

 

وہ انھیں وراثت میں ملنے والے سونے کو فروخت کر کے آئی ہے لیکن حکام کو اُن کے ان دعوؤں پر شبہ ہے۔ سینٹرل بورڈ آف انڈائریکٹ ٹیکسز اینڈ کسٹمز کے چیئرمین وویک جوہری کا دعویٰ ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ رقم جعلی بلوں اور کریڈٹ کارڈز کے بزنس کے ذریعے جمع کی گئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’ٹیکس سے بچنے کے لیے یہ لوگ جعلی بِل

 

بناتے تھے اور اشیا کی کم قیمت ظاہر کرتے تھے۔ بغیر کسی بِل کے سامان فروخت کرتے تھے۔ ہمیں جتنے بھی بل ملے وہ جعلی تھے۔‘ وویک جوہری نے کہا کہ انھیں اطلاع ملی تھی کہ پان مسالحہ اور جے کمپنی تریمورتی فریگرینس ٹیکس ادا کیے بغیر سامان کا تبادلہ کر رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پیوش جین نے اعتراف کیا کہ انھوں نے ٹیکس ادا کیے بغیر

 

کاروبار کیا۔ پیوش کے گھر پر چھاپہ مارنے سے پہلے حکام نے پان مسالحے کے ایک تاجر کے گھر پر بھی چھاپہ مارا تھا اور وہاں سے ہی انھیں اس معاملے کا علم ہوا تھا۔ گرفتاری مرکزی وزارت خزانہ نے 27 دسمبر کو کہا تھا کہ کانپور کے ایک پرفیوم کے تاجر پیوش جین کو جی ایس ٹی حکام نے گرفتار کیا ہے۔ وزارت نے ایک پریس نوٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ

 

پیوش جین کے گھر سے 177 کروڑ روپے سے زیادہ کی نقدی ضبط کی گئی ہے جبکہ قنوج میں واقع ایک فیکٹری اور گھر سے بھی 17 کروڑ کی نقدی ملی ہے۔ بیان کے مطابق اس کے علاوہ پیوش کے قبضے سے 23 کلو سونا بھی برآمد ہوا ہے اور قنوج والی فیکٹری میں پرفیوم بنانے کا خام مال ملا ہے۔ اس میں 600 کلو صندل کی لکڑی کا تیل اور دیگر مادے

 

برآمد ہوئے۔ اس تمام خام مال کی مالیت چھ کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ عدالت نے پیوش جین کو 14 دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر رکھا ہے۔ پیوش جین کے معاملے پر سیاسی الزام تراشیاں پیوش جین کے معاملے پر انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور سماج وادی پارٹی دونوں ہی ایک دوسرے پر کھلے عام الزامات لگا رہی ہیں اور

 

اس سیاسی بیان بازی کی وجہ سے اس معاملے کی تحقیقات سے جڑے حقائق بُری طرح سے الجھنے لگے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پیوش جین کا شمار سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے لیکن سماج وادی پارٹی کے میڈیا کنسلٹنٹ آشیش یادو نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’کانپور میں جس

 

تاجر کے گھر پر چھاپہ مارا گیا، اس کا سماج وادی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں۔‘ دوسری جانب بی جے پی اتر پردیش کے ٹوئٹر ہینڈل سے سماج وادی پارٹی کو نشانہ بنایا گیا اور ٹویٹ کی گئی کہ ’آپ کے گناہوں کی بدبو دور نہیں ہو گی۔‘ انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی منگل کے روز اپنے کانپور کے دورے پر پیوش جین کے معاملے پر سماج وادی پارٹی

 

کے سربراہ اکھلیش یادو کو نشانہ بنایا۔ انھوں نے نام لیے بغیر بی جے پی کے ترقیاتی کاموں کا کریڈٹ لینے پر بھی انھیں طنز کا نشانہ بنایا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ’یوگی جی کے کام کو کہا جاتا ہے کہ ہم نے یہ کیا۔ میں سوچ رہا تھا کہ پچھلے دنوں نوٹوں سے بھرے ڈبوں کے بعد بھی یہ لوگ کہیں گے کہ یہ بھی ہم نے کیا۔‘ مودی نے مزید کہا ’سنہ 2017

 

سے پہلے اترپردیش میں بدعنوانی کا جو عطر چھڑکا گیا تھا وہ سب کے سامنے آ گیا۔ اب وہ (اپوزیش) منھ پر تالا لگا کر بیٹھے ہیں۔ کریڈٹ لینے کے لیے آگے نہیں آ رہے ہیں۔ لوگوں نے جو نوٹوں کا پہاڑ دیکھا وہ ان کا کارنامہ اور سچائی ہے۔‘ جس کے جواب میں بدھ کے روز سماج وادی پارٹی نے ٹویٹ کیا کہ ’یوگی جی، آپ نے آخر کار پوری ریاست سے جھوٹ

 

بول کر اپنے پیاروں کو بچا لیا۔‘ 29 دسمبر کو ایک نئی ویڈیو میں اتر پردیش کے وزیر اعلی اور بی جے پی رہنما یوگی آدتیہ ناتھ نے سوال پوچھا کہ ’اکھلیش جی پرفیوم دوست۔۔۔ آخر کالے دھن کا پہاڑ کس کے پاس ہے؟‘ ڈی جی جی آئی کے سپیشل پبلک پراسیکیوٹر امبریش ٹنڈن کا کہنا ہے کہ پیوش جین کے کیس کو قانون کے مطابق نمٹایا جائے گا۔ پیوش جین

 

کے وکیل سدھیر مالویہ نے حکام کی جانب سے لگائے گئے الزامات اور دعوؤں کی تردید کی ہے۔

Tags

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button