Tickerسدا بہار

بیٹی کی خوشی کے لیے والد ہاتھی کو گھر لے آئے تھے ۔۔ جنرل ضیاء نے شتروگن سنہا کو بیٹی کا منہ بولا بھائی کیوں بنایا ہوا تھا؟

جنوری 5, 2022 | 12:33 شام

 

پاکستان کی مشہور شخصیات ویسے تو سوشل میڈیا ہر بھی جانی جاتی ہیں لیکن ان کچھ ایسی بھی ہیں جو کہ عوام

میں مقبولیت کی وجہ سے جانی جاتی ہیں۔اس خبر میں آپ کو ایک ایسی ہی شخصیت کے بارے میں بتائیں گے۔جنرل ضیاء الحق اپنے منفرد انداز اور نظریے کی وجہ سے جانے جاتے ہیں، لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ اپنی بیٹی سے بے انتہا پیار کرتے تھے، اپنی بیٹی کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے، اور ان کے چہرے پر خوشی بکھیرنے کے لیے کچھ

 

بھی کر سکتے تھے۔حکومت میں آنے کے بعد جنرل ضیاء اپنی بیٹی کو مکمل طور پر وقت نہیں دے پا رہے تھے، بیٹی زین ضیاء اور ان کے درمیان ایک ایسا رشتہ تھا جو کہ ہر کسی کے لیے منفرد تھا۔جنرل ضیاء اور بھارتی اداکار شتروگن سنہا ایک دوسرے سے جب بھی ملتے تھے تو گرم جوشی کا مظاہرہ کرتے تھے، دونوں فیملیز آپس میں ملا کرتی تھیں۔

 

شتروگن سنہا جب بھی پاکستان آتے تو جنرل ضیاء سے ضرور ملاقات کرتے اور ان کے گھر بھی آتے۔بھارتی اداکار شتروگن سنہا بھی زین ضیاء سے بے حد پیار کرتے ہیں، شتروگن سنہا زین ضیاء کی معصومیت اور ان کی بے پناہ محبت کے قائل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زین ضیاء سے ملنے پاکستان آتے رہتے ہیں۔2012 میں دی انڈئین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق

 

شتروگن سنہا زین ضیاء سے ملنے پاکستان آئے تھے۔ شتروگن سنہا اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر خود چل کر آئے تھے۔ زین ضیاء سے ملنے کے بعد شتروگن سنہا کا کہنا تھا کہ زین بہت خوش تھیں مجھ سے ملنے کے بعد، وہ میری بہت پیاری سی بہن ہے اور میں اسے بے حد پیار کرتا ہوں۔جنرل ضیاء کی بیٹی بھارتی اداکار سے بے حد پیار کرتی تھیں

 

اور انہیں اپنا بڑا بھائی ہی مانتی تھیں، دوسری جانب جنرل ضیاء نے بیٹی خوشی کے لیے ان کی خواہش بھی پوری کی تھی۔ایک مرتبہ زین ضیاء صبح اسکول کے لیے تیار ہو رہی تھیں کہ عین اسی وقت والد نے بیٹی کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر اسے باہر لاؤن میں لے کر آئے، جہاں ایک ہاتھی کھڑا تھا۔زین ضیاء اس ہاتھی کو دیکھ کر بے حد خوش ہوئی تھیں، ان کی

 

ضد تھی کہ وہ اس ہاتھی کو یہی رکھ لیں مگر چونکہ حکومت پاکستانن کی جانب سے وہ ہاتھی منگوایا گیا تھا تو اسی لیے اسے واپس زو بھیج دیا گیا۔ لیکن بیٹی اور والد کی اس محبت نے سب کو متاثر کیا تھا۔

 

Tags

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button