Tickerسوشل میڈیا

ماسی دن کے 15 ہزار کماتی ہے، اپنی مہنگی گاڑی میں آتی ہے ۔۔ حکومت غریبوں کو برطانیہ کے پیٹرول کی قیمت تو بتاتی ہے، یہاں کا لائف اسٹائل نہیں، یوٹیوبر نے حقیقت کھول دی

جنوری 5, 2022 | 12:36 شام

 

عام طور پر ہم کام والی ماسیوں کو دھتکارتے بھی ہیں اور انہیں کئی کئی گھنٹے کام بھی کراتے ہیں لیکن تنخواہ اتنی

ہی کم۔اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے معلومات فراہم کریں گےسوشل میڈیا پر مشہور یوٹیوبر جنید اکرم المعروف گنجی سوئیگ کی ویڈیو وائرل ہے جس میں وہ اپنے برطانیہ کے گھر میں موجود ہیں جبکہ وہ اس بات پر حیرت زدہ ہیں کہ وہاں کی ماسیاں بھی ان سے اچھا کما لیتی ہیں۔جنید اکرم کی جانب سے ویڈیو میں بتایا گیا کہ وہ برطانیہ میں کرائے

 

کے گھر میں رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں لیکن ان کی ماسی کا اپنا گھر ہے۔جنید اکرم کا کہنا تھا کہ ان کی ماسی کی عمر 55 سال ہے، جبکہ وہ دادی نانی بن چکی ہیں، لیکن وہ اتنا کما لیتی ہیں کہ پاکستان میں ایک ماسی کو کبھی اتنی تنخواہ دی ہی نہیں جاتی ہوگی۔جنید اکرم اس وقت حیرت زدہ رہ گئے جب انہیں معلوم ہوا کہ برطانیہ میں ایک ماسی کو

 

فی گھنٹہ 13 پاؤںڈ دیے جاتے ہیں۔ جبکہ 5 گھنٹوں کے 65 پاؤنڈز کما لیتی ہیں۔ یہی 65 پاؤنڈز پاکستانی ساڑھے 15 ہزار روپے بنتے ہیں۔ یعنی جتنا پاکستان میں ایک ماسی پورے ماہ نہیں کام سکتی ہوگی اتنا برطانیہ میں ماسی ایک دن کا کما لیتی ہیں۔ماسیوں کے حقوق اور قوانین سے متعلق جنید نے بتایا کہ برطانیہ میں اس حوالے سے سخت قوانین موجود

 

ہیں اور ان کے حقوق کی حفاظت حکومت خود کرتی ہے۔جنید اکرم بتاتے ہیں کہ میری ماسی کے شوہر بھی کام کرتے ہیں۔ جبکہ ان کا اپنا گھر بھی اور ہم سے اچھی گاڑی بھی ہے، یہاں اگر کسی ماسی کو گاڑی سے اترتا دیکھ لیں تو مالک کو جلن شروع ہو جاتی ہے۔پاکستان میں ماسیوں کے استحصال اور موجودہ صورتحال کو اجاگر کرتے ہوئے جنید نے بتایا کہ

 

جس طرح پاکستان میں بارش ہو یا سخت سردی ماسیوں کو انسان نہیں سمجھا جاتا اور ان کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا ہے، یہی سلوک اگر یہاں کرو گے تو لگ پتہ جائے گا۔ویڈیو میں مزید بات کرتے ہوئے جنید اکرم کا کہنا تھا کہ جس معاشرے میں نچلا طبقہ بہتر حالت میں ہوتا ہے، وہی معاشرہ کامیاب ہوتا ہے، یہاں نچلے طبقے کی کیا اوقات ہے؟

 

اصل بات کی طرف آتے ہوئے جنید کا کہنا تھا کہ اگر کل کو کوئی آپ سے یہ کہے کہ برطانیہ میں 300 کا پیٹرول ہے تو اس سے یہی کہنا کہ برطانیہ کا طرز زندگی بھی ایسا ہے کہ وہ 300 کا پیٹرول خرید سکتے ہیں لیکن پاکستان جیسے ملک میں جہاں ایک ماسی کی تنخواہ ہی 10 ہزار سے کم ہو وہ کہاں سے پیٹرول کے پیسوں کی جنھجنٹ پالے گی۔

Tags

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button