fbpx
اخبارسب کے لیے سب کچھ

ایس ای سی پی کے اعلیٰ افسر لاپتہ، گاڑی اسلام آباد میں سڑک کنارے ملی

ستمبر 4, 2020 | 9:08 صبح
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مالیاتی اور کاروباری اداروں کے نگراں ادارے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے جوائنٹ ڈائریکٹر اور سابق صحافی ساجد گوندل کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ملنے کے بعد اس معاملے کی تحقیقات شروع کر ٍدی گئی ہیں۔

ساجد گوندل کے اہلخانہ کے مطابق وہ جمعرات کی شام سے لاپتہ ہیں جبکہ پولیس کو ان کی سرکاری گاڑی جمعے کی صبح اسلام آباد کے علاقے شہزاد ٹاؤن میں واقع زرعی تحقیقاتی مرکز کے باہر سے ملی ہے۔

ایس ایچ او تھانہ شہزاد ٹاؤن حاکم نیازی نے بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کو بتایا کہ جمعے کی صبح ساڑھے گیارہ بجے ایمرجنسی سروس 15 کی کال کے بعد ہم نے موقع پر پہنچ کر گاڑی قبضے میں لی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گاڑی این اے آر سی کے دفتر کے باہر سڑک کنارے کھڑی تھی اور گاڑی کھلی ہوئی تھی جبکہ چابی اس میں ہی موجود تھی۔

ساجد گوندل کے اہل خانہ کے مطابق انھوں نے پولیس کو اس واقعے کی اطلاع دے دی ہے اور وہ گمشدگی کی درخواست دینے کے لیے پولیس سے رابطے میں ہیں۔

ساجد گوندل کی اہلیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے شوہر دو تین دن سے دباؤ اور پریشانی کا شکار تھے تاہم انھوں نے پوچھنے کے باوجود تفصیلات نہیں بتائیں کہ آخر انھیں پریشانی تھی کیا۔ ان کے مطابق جمعرات کی شام ساجد گوندل اپنے فارم ہاؤس پر گئے تھے اور انھیں شام ساڑھے سات بجے کے بعد اپنے شوہر کی گمشدگی کا علم ہوا۔

۔

ساجد گوندل کی گاڑی

ساجد گوندل کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ گمشدگی سے ایک دن قبل کچھ لوگ شام کو ان کے گھر پر ساجد گوندل کا پتہ کرنے آئے تھے جس پر ان کے بیٹے نے انھیں فارم ہاؤس کا پتا بتا دیا تھا۔

ایس ای سی پی کے چیئرمین عامر خان کا کہنا ہے کہ انھیں ابھی اس واقعے کے بارے میں اطلاع ملی ہے اور فی الحال وہ اس پر کوئی ردعمل نہیں دے سکتے۔

ساجد گوندل کی گمشدگی کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس بارے میں بحث کا سلسلہ شروع ہو گیا اورجہاں اسے جبری گمشدگی کے واقعات سے جوڑا جاتا رہا وہیں کئی لوگ اس واقعے کا تعلق صحافی احمد نورانی کی اس خبر سے جوڑتے دکھائی دیے جس کے بعد وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈعاصم باجوہ نے اپنے عہدے سے استعفی دینے کا اعلان کیا ہے۔

ٹویٹ

خیال رہے کہ اس خبر میں فراہم کی جانے والی بہت سی معلومات ایس ای سی پی سے حاصل ہونے والی دستاویزات کی بنیاد پر ہی فراہم کی گئی ہیں۔

بی بی سی نے اس سلسلے میں جب احمد نورانی سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ساجد گوندل اُن کی اس خبر کا ذریعہ نہیں تھے جو وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات عاصم سلیم باجوہ کے استعفے کی وجہ بنی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button