Tickerگلوبل ویلیج

ترکمانستان کے صدر نےجہنم کے دروازے کو بند کرنے کا حکم دے دیا

door of hell turkmenistan

جنوری 12, 2022 | 4:07 شام

 

اشک آباد(نیوز ڈیسک )ترکمانستان کے صدر قربان قلی بردی محمدوف نے گیٹ وے ٹو ہیل(جہنم کا دروازہ)کو بند کرنے کا

حکم دے دیا۔رپورٹس کے مطابق ترکمانستان کے دارالحکومت اشک آباد سے 260 کلومیٹر دور صحرائے قراقم میں واقع اس گڑھے( جسے جہنم کا دروازہ کہا جاتا ہے) میں گزشتہ 50 سالوں سے آگ جل رہی ہے اسے صدر قربان قلی بردی نے بجھانے کا حکم دے دیا ہے۔ صدر قربان قلی بردی محمدوف چاہتے ہیں کہ ان کے اس اقدام کو ماحولیاتی اور صحت کی

 

وجوہات کے ساتھ ساتھ گیس کی برآمدات کو بڑھانے کی کوششوں کے طور پر بھی دیکھا جائے۔ ایک نشریاتی خطاب میں صدر ترکمانستان نے کہا کہ “ہم اہم قدرتی وسائل کھوتے جارہے ہیں جو ہمارے لیے بہت فائدہ مند ہو سکتے تھے۔ ہم انھیں اپنے لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کر سکتے تھے۔” “جہنم کا دروازہ ” کیا ہے ؟ یہ گڑھا 69 میٹر

 

چوڑا اور 30 ​​میٹر گہرا ہے اورکہا جاتا ہے کہ اسے 1971 میں سوویت یونین کے ڈرلنگ آپریشن کے دوران بنایا گیا تھا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق،1971 میں سوویت ماہرین ارضیات قراقم کے صحرا میں تیل کی تلاش کیلئے کھدائی کر رہے تھےکہ انہیں یہاں قدرتی گیس کے ذخائر ملے لیکن کھدائی کے دوران ہی وہاں کی زمین دھنس گئی اور

 

تین بڑے گڑھے بن گئے جن میں میتھین موجود تھی ۔ رپورٹس کے مطابق میتھین گیس کے فضا میں اخراج کو روکنے کیلئے سائنسدانوں نے ان گڑھوں میں سے ایک کو آگ لگادی اور خیال کیا کہ یہ چند ہفتوں میں بجھ جائے گی ۔ اگرچہ سائنسدانوں نے گڑھے میں موجود گیس کی مقدار کے بارے میں غلط اندازہ لگایا کیونکہ اس میں آگ 5 دہایاں گزرنے کے

 

بعد بھی جل رہی ہے۔ ترکمانستان کے ماہرین ارضیات کے مطابق یہ بڑا گڑھا دراصل سنہ 1960 کی دہائی میں بنا تھا لیکن اس میں آگ 1980 کی دہائی میں لگی۔ خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ترکمانستان ‘جہنم کے دروازے’ میں لگی آگ کو بجھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سے قبل سنہ 2010 میں بھی صدر نے ماہرین سے کہا تھا کہ وہ اس آگ کو

 

بجھانے کے طریقے تلاش کریں ۔ واضح رہے کہ یہ گڑھا ترکمانستان کے مشہور سیاحتی مقامات میں شامل ہوچکا ہے ۔صحرائے قراقم میں یہ گڑھا رات کے وقت بھی دور سے نظر آتا ہے اور بہت سے سیاح اسے دیکھنے جاتے ہیں۔

Tags

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button