fbpx
آج کا ایشواخبار

آپریشن دوارکا: پاکستان نے کس طرح بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجائی

ستمبر 6, 2020 | 9:08 صبح

قیام پاکستان کے بعد سے ہی اس ملک خداد کو بھارت جیسے جنونی دشمن سے نبرد آزما ہونا پڑا، ستمبر1965کی ایک تاریک رات میں بھارتی افواج نے پاکستان پر شب خون مارنے کی مذموم کوشش کی اور جنگ کا نیا محاذ کھول دیا۔ 

پاکستان کو نیست و نابود کرنے کے گھناﺅنے منصوبے کے تحت بھارت نے بری، فضائی اور  بحری حملوں کے ذریعے پاکستان کو کاری نقصان پہنچانے کی کوشش کی تاہم بزدل بھارت کے جنگی جنون کو اس وقت پستی کا سامنا کرنا پڑا کہ جب افو اج پاکستان کے با حوصلہ، دلیر، نڈر اور جذبہ شہادت سے سرشار سپاہیوں نے بھارتیوں کے دانت کھٹے کر دیے۔

اس معرکہ حق و باطل میں جہاں پاکستان کی بری اور فضائی افواج نے بھارتی حملوں کو ناکامی سے دورچار کیا اور جوابی کاروائی میں بھارتی افواج کی کمر توڑ کر رکھ دی وہیں پاکستان کی بحری فوج نے سمندری و ساحلی حدود کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے بھارتی نیوی کو دھول چٹا دی۔

1965کی جنگ میں جہاں بھارت نے سرگودھا سمیت دیگر شہروں پر فضائی حملے کیے، وہیں پاکستان کی معاشی و اقتصادی سرگرمیوں کے مرکز ساحلی پٹی پر واقع اہم بندرگارہ کے حامل شہر کراچی کو بھارتی فضائیہ نے اپنے نشانے پر رکھتے ہوئے تابڑ توڑ حملے کیے جو اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ بھارتی بحریہ اپنی فضائیہ کو بھرپور معاونت فراہم کر رہی ہے۔

جب پاکستان کی ہائی کمانڈ کے علم میں یہ بات آئی کہ بھارت میں دوارکا کے ساحل پہ موجود ریڈار اسٹیشن بھارتی فضائیہ کی بھر پور رہنمائی کر رہا ہے جس کی بدولت بھارتی فضائیہ لگاتار حملے کر رہی ہے تو پاک بحریہ کی اعلیٰ قیادت نے فیصلہ کیا کہ دوارکا ریڈاراسٹیشن تباہ کیا جائے تاکہ بھارتی ائیر فورس کے حملوں کو غیر مؤثر بنایا جائے اور جارحانہ بحری حکمت عملی اپنا کر بھارتی بحریہ کو بمبئی سے با ہر نکلنے پر مجبور کیا جائے تاکہ وہ پاک بحریہ کی آبدوز غازی کا نشانہ بن سکیں۔

پاک بحریہ کی جانب سے دوراکا آپریشن کی اہمیت کا اندازہ لگانے کے لیے ضروری ہے کہ بھارت کے لیے دوارکا کی دفاعی حیثیت کو جانا جائے۔

دوارکا، کراچی سے قریبا 350کلو میٹر دور واقع ہے، دوارکا کو بھارت کے دفاعی قلعے کی حیثیت حاصل تھی، یہاں نصب طاقتور ریڈار سسٹم بھارتی فضائیہ کو کسی بھی بیرونی حملہ کے بارے میں خبردار کرتا تھا اور جنگ کے دوران پاکستان کی ساحلی پٹی پر فضائی حملوں کے لیے سپورٹ بھی اسی ریڈار سسٹم سے حاصل کی جاتی تھی لہٰذا دوارکا آپریشن 1965کی جنگ میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا کیونکہ دوارکا کی تباہی سے ہی بھارتی بحریہ اور فضائیہ کا گٹھ جوڑ توڑ کر ان کے دفاعی سسٹم پر کاری ضرب لگائی جا سکتی تھی۔

دوارکا کے انتہائی حساس آپریشن کے دوران پاک بحریہ کے بیڑوں نے بھارتی پانیوں میں گھس کر کاری وار کرنا تھا اور اس مشن میں بحری بیڑوں کو کوئی فضائی امداد بھی میسر نہ تھی جب کہ ہر قسم کے مواصلاتی روابط کی مکمل ممانعت کے باعث آپریشن مشکل تر ہو گیا تھا، نیوی نے بس سمتوں کے اندازے سے یہ آپریشن مکمل کیا۔

 آپریشن میں7 بحری جنگی جہازوں کو روانہ کیا گیا، پاک بحریہ نے آپریشن میں اپنی سب سے مؤثر اور جدید ٹیکنالوجی سے مزین سب میرین غازی کو بحری مشن میں شامل کیا۔ پاک بحریہ خطے میں سب میرین سروس متعارف کرانے والی پہلی فورس ہے۔

غازی کی شمولیت پاک بحریہ کی اپنے حریف بھارت کے خلاف 1965کی جنگ میں ایک فیصلہ کن بر تری کا سبب بنی۔ پاکستان کی جدید ترین آبدوز غازی کو بھارتی پانیوں میں اتارنے سے ایک فائدہ یہ ہوا کہ اگر حملہ کے نتیجے میں بھارتی بحریہ کے جنگی بیڑے جوابی حملہ کریں تو غازی دشمن کے جنگی بیڑوں کو نیست و نابود کر سکے۔

پاک بحریہ کے ساتوں جنگی بحری جہاز 6 ستمبر کو اپنے مشن پر روانہ ہوئے، یہ مشن آسان نہیں تھا لیکن اللہ پر بھروسہ رکھنے بحریہ کے جانبازوں نے جان ہتھیلی پر لیے شہادت کے جذبہ سے سرشار ہو کر بے خوف و خطر بھارتی سمندری حدود میں داخل ہونے کا کٹھن سفر شروع کیا۔

بحر ہند میں ہر طرف سیاہ رات کا پہرہ تھا لیکن بحریہ کے جوانوں کے دل حق کی روشنی سے منور تھے، ان کا بس یہی مشن تھا کہ دشمن کے ریڈار سسٹم کو نابود کر کے پاکستان پر فضائی حملوں کا باب بند کرنا ہے اور  بھارتی بحریہ کو کاری ضرب لگا کر ان کا حوصلہ اتنا پست کرنا ہے کہ وہ سمندری حدود سمیت پاکستان کی جانب نظر اٹھا کر نہ دیکھ سکیں۔

بھارتی سمندری حدو د میں کیا جانے والا یہ سفر سمتوں کے اندازے سے کیا گیا، سمت کا اندازہ غلط ہونے کی صورت میں منصوبہ تو ناکام ہوتا ہی ساتھ میں پاک بحریہ اور افواج پاکستان کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا۔

رات گیارہ بجے کے قریب بھارتی بحریہ کے جنگی جہاز آئی این ایس تلوار کی سمندر میں موجودگی کی نشاندہی کی گئی مگرپاک بحریہ کے جہازوں کی ہیبت و دہشت نے اُسے بھاگنے پہ مجبور کر دیا اور پھر وہ وقت بھی آن پہنچا کہ جب پاک بحریہ کے بیڑے دوارکا ساحل پر اتنے قریب پہنچ گئے کہ پورا شہر توپوں کی زد پر تھا۔

رات کے 12 بج کر 26 منٹ پر بحری بیڑوں کی توپوں نے آگ اُگلنا شروع کی، چند منٹوں میں پاک بحریہ کے جنگی بیڑوں نے 50، 50 راﺅنڈز فائر کیے اور دشمن کو سنبھلنے کا ایک بھی موقع نہ دیا، پے در پے گولوں سے چند منٹوں میں ریڈار اسٹیشن ڈیوٹی پر موجود بھارتی افسروں اور جوانوں کی موت کے ساتھ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

دوارکا میں موجود بھارتی بحریہ کا ہوائی اڈہ بھی ناکارہ ہو چکا تھا اور  ریڈار اسٹیشن کے تباہ ہونے سے بھارتی فضائی حملوں کا راستہ بند کر دیا گیا، رن وے بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیااور یوں پاک بحریہ نے بھارتی حدود میں گھس کر دوارکا ریڈار اسٹیشن کی اینٹ سے اینٹ بجا ڈالی اور پاک بحریہ کے ہاتھوں بھارتی بحریہ کو تاریخی ہزیمت اٹھانا پڑی جب کہ پاک بحریہ کے وقار میں مزید اضافہ ہوا۔

یہ آپریشن پاکستان کی قومی و عسکری تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جانے والا عظیم ترین آپریشن ہے، اس آپریشن میں جہاں پاک بحریہ کے بحری جنگی جہازوں نے دوارکا کے ریڈار پر بمباری کر کے تباہی مچائی وہیں واپسی کے سفر کے دوران بھارتی پانیوں میں موجود سب میرین غازی کی دہشت نے دشمن کے جنگی بیڑوں کو بندرگاہ کے اندر ہی مقید کئے رکھا اور وہ بے بسی کی علامت بنے کسی بھی قسم کی جوابی کاروائی کی جرأت نہ کر سکے۔

جنگ ستمبر کا معرکہ دوارکا پاک بحریہ کا تاریخی آپریشن ہے کہ جس کی کامیابی سے پاک بحریہ کی دھاک دنیا بھر میں بیٹھ گئی۔ پاک بحریہ کی بلند حوصلہ افواج نے ثابت کر دکھایا کہ پاک بحریہ سمندری حدود کا تحفظ کرنے کی بھرپور استعداد رکھتی ہے اور دشمنوں کی جانب سے کسی بھی مہم جوئی کی صورت میں معرکہ دوارکا کی تاریخ کو پھِر دُہرا دے گے۔

حق و انصاف کی ہر لڑائی میں ہم

بحر و بر اور فضا کے سپاہی بہم

غازیوں نے سمندر پر اپنا سکہ کچھ اس انداز میں جمایا کہ یہ شعر عملی تفسیر کے ساتھ دنیا کے سامنے آ گیا۔

پوری قوم پاک بحریہ اور افواج پاکستان کے جوانوں کے ساتھ کندھا ملا کر کھڑی ہے اور قوم کے ان بہادر سپوتوں کی جانب سے ملک وقوم کے دفاع کے لیے دی جانے والی لازوال قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button