fbpx
آج کا ایشواخبار

پنجاب پولیس کے دو بڑے افسروں میں جھگڑا

ستمبر 8, 2020 | 7:20 صبح
لاہور( لمحہ اِخبار) لاہور پولیس میں غیر معمولی کشیدگی کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ آئی جی پولیس شعیب دستگیر اس بات کو نظر انداز کرنے کو تیار نہیں جو حال ہی میں مقرر ہونے والے سی سی پی او عمر شیخ نے ان کیخلاف کی تھی۔ آئی جی کیلئے یہ معاملہ سنگین مس کنڈکٹ کا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

گزشتہ ہفتے پنجاب پولیس کو اس وقت غیر معمولی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب نئے مقرر ہونے والے سی سی پی او نے مبینہ طور پر آئی جی پولیس کیخلاف بات کی جس کے جواب میں آئی جی نے وزیراعظم عمران خان سے رابطہ کرکے انہیں عمر شیخ کے تقرر اور جونیئر افسر کی جانب سے لاہور پولیس افسران کے سامنے اپنے خلاف بیان بازی پر افسوس کا اظہار کیا۔ عمر شیخ کو وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے سی سی پی او لاہور لگایا تھا اور اس میں دستگیر کی مرضی شامل نہیں تھی۔

سی سی پی او لاہور کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے ماتحت اہلکاروں سے کہا تھا کہ کسی بھی حساس معاملے کی صورت میں لاہور پولیس سی سی پی او سے اجازت طلب کریں چاہے اسے سی پی او سے ہی ہدایات کیوں موصول نہ ہو چکی ہوں۔ عمر شیخ کے پیغام میں لکھا تھا کہ ’’میں یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا تھا کہ ہم آئی جی پولیس اور حکومت کی توقعات پر پورا نہیں اتر رہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ لاہور پولیس کی خراب کارکردگی کی وجہ سے ان کے سینئر افسران قیمت چکا رہے ہیں کیونکہ گزشتہ دو سال کے دوران چار آئی جی پولیس اور دو سی سی پی اوز تبدیل کیے جا چکے ہیں۔ سی سی پی او نے آئی جی پولیس کو بتایا کہ انہوں نے لاہور پولیس سے کہا تھا کہ وہ خبردار رہیں اور اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دیں تاکہ ان کے سینئر عہدیدارن سیاسی قیادت کے سامنے ہزیمت سے بچ سکیں۔

ذرائع کے مطابق، عمر شیخ کا حالیہ تقرر حکومت کا سیاسی فیصلہ تھا لیکن سی سی پی او کی جانب سے مبینہ طور پر آئی جی کیخلاف بیان نے پولیس کیلئے سنگین انتظامیہ مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button