fbpx
آج کا ایشواخبار

سی سی پی او لاہورمعذرت خواہ ، آئی جی معافی دینےکو تیارنہیں

ستمبر 8, 2020 | 7:34 صبح
لاہور(لمحہ مانیٹرنگ ڈیسک)سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے ایک انگریزی اخبارکو بتایا کہ وہ آئی جی سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں لیکن اب تک کامیاب نہیں ہو پائے۔عمرشیخ نےیہ بھی بتایا کہ انہوں نے ایک واٹس ایپ پیغام آئی جی شعیب دستگیر کو بھیجا ہے جس میں انہوں نے معذرت کرتے ہوئے اپنے بیان کو کنفیوژن قرار دیا ہے۔اس بیان کو صوبائی پولیس چیف کیخلاف سمجھا گیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی جی پولیس کو اس وقت مایوسی ہوئی جب سی سی پی او لاہور کا چارج لینے کے بعد انہوں نے آئی جی کیخلاف بیان دیا۔ دستگیر اپنے افسر کے مس کنڈکٹ پر سمجھوتے کیلئے تیار نہیں، شیخ چاہتے ہیں کہ آئی جی پولیس سے ملاقات کرکے اپنی معذرت کا اظہار کریں۔

اپنے واٹس ایپ پیغام، جس کے متعلق ان کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے آئی جی کو بھیجا ہے، میں انہوں نے اپنے بیان پر معافی مانگی اور بتایا کہ یہ بیان غلط حوالے سے پیش کیا گیا ہے، توقع ہے کہ دونوں افسران کے مابین کشیدگی ختم ہوگی۔ واٹس ایپ پیغام میں سی سی پی او لاہور نے آئی جی پولیس سے ملاقات اور اس بیان کے حوالے سے اپنا موقف واضح کرنے کی درخواست کی جس کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ اسے توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔

عمر شیخ نے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ کیپیٹل سٹی ڈسٹرکٹ پولیس آرڈر کے مطابق ایک نمایاں حیثیت کا حامل ادارہ ہے اور ماڈل ٹائون کے واقعے کے بعد تمام تر ذمہ داری سی سی پی او پر عائد ہوتی ہے کیونکہ اس واقعے کے بعد آئی جی پولیس نے انکوائری کے دوران پولیس آرڈر 2002ء کی متعلقہ شق کا حوالہ دیتے ہوئے خود کو بری الذمہ قرار دیدیا تھا۔

شیخ نے آئی جی پولیس کو لکھے پیغام میں یہ اعتراف کیا کہ ان کے الفاظ کا چنائو ممکن ہے درست نہ ہو لیکن ان کا مقصد سینئر افسران کی تضحیک نہیں تھا۔ انہوں نے آئی جی پولیس سے کہا کہ میں اسے پہلی غلطی سمجھتے ہوئے آپ سے معذرت چاہتا ہوں، مجھے عوام کی توقعات پر پورا اترنے کیلئے آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔

اس بات کی تصدیق نہیں ہو پائی کہ دستگیر نے اپنے ماتحت افسر کی جانب سے بھیجا گیا یہ واٹس ایپ پیغام پڑھا یا نہیں لیکن ذرائع کہتے ہیں کہ آئی جی پولیس کا کہنا ہے کہ پنجاب پولیس چیف اس معاملے پر کوئی بھی سمجھوتا کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button