fbpx
سدا بہار

دنیا کی واحد مسجد جہاں اذان نہیں دی جا سکتی ۔۔ جانیں یہ کون سی مسجد ہے جہاں علامہ اقبال نے پہلی بار نماز پڑھی اور اذان بھی دی

مارچ 19, 2022 | 8:43 شام

 

دنیا میں ایسے کئی دلچسپ اور حیرت انگیز واقعات رونما ہوئے ہیں جو کہ سب کو حیران کر دیتے ہیں، تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ اس

خبر میں آپ کو اسپین کی ایسی مسجد کے بارے میں بتائیں جہاں اذان نہیں دی جا سکتی۔اسپین میں ایک وقت تھا جب مسلمانوں کی حکومت تھی، اس وقت میں مسلمان اسپین میں تعمیر و ترقی کو لے کر خاصے سنجیدہ تھے، یہی وجہ تھی کہ اس وقت کے بادشاہ عبدالرحمان اول الداخل نے 8 ویں صدی میں یعنی 786ء میں مسجد کی تعمیر شروع کی۔جنوبی اسپین میں مسلمانوں کی اہم علامت ہے جو کہ مسجد قرطبہ کے نام سے مشہور ہے۔ مسجد قرطبہ

 

دریاء الکبیر کے کنارے تعمیر کی گئی تھی، جہاں سینٹ ونسنٹ کا چرچ موجود تھا۔ چونکہ اس عمارت کے آدھے حصے میں مسلمان نماز پڑھا کرتے تھے، لیکن عبدالرحمان اول الداخل نے بھاری قیمت ادا کر کے عیسائیوں سے یہ عمارت مسجد کے لیے وقف کر دی تھی۔80 ہزار دینار سے تعمیر کی جانے والے مسجد دو سال میں تیار ہوئی جبکہ اس کے مینار اور اسٹرکچر کچھ اس قسم کا ہے کہ سب کی توجہ حاصل کر لیتا ہے۔ 1400 سے زائد

 

ستونوں پر مشتمل اس مسجد کی عمارت کے ستونوں پر دوہری نعلی محرابیں نصب کی گئی تھیں۔ مسجد کے مرکزی ہال میں فانوس موجود تھا جس میں بیک وقت ایک ہزار چراغ روشن ہوا کرتے تھے۔یہاں سنگ مرمر، ہیرے جواہرات کا بھی استعمال کیا جاتا تھا، درو دیوار اور فرش کو خوبصورت پتھروں سے مزین کیا جاتا تھا۔ جبکہ اس مسجد میں 21 دروازے موجود تھے۔ مسجد کا منبر خوشبو دار قیمتی لکڑی کے 36ہزار ٹکڑوں سے بنایا گیا

 

تھا،جنھیں جوڑنے کے لیے سونے اور چاندی کی کیلیں استعمال ہوئیں جبکہ مسجد کی دیواروں اور چھت پر خوبصورت خطاطی سے مزین قرآن مجید کی آیات مبارکہ کندہ کی گئیں۔لیکن 1326 مسلم حکومت کے خاتمے کے بعد جس طرح دیگر مساجد کے ساتھ سلوک کی گیا، اسی طرح اس مسجد پر بھی عیسائیوں کی نظریں پڑ گئیں۔ اور پھر 10 سال بعد 1246 میں اس مسجد کو بھی گرجا گھر میں تبدیل کر دیا گیا۔ مسجد کے وسط میں ایک کیتھولک

 

چرچ قائم کیا گیا جہاں عیسائی عبادت کرتے تھے۔ لیکن مسلمان وہاں اذان نہیں دے سکتے تھے اور نہ ہی نماز پڑھ سکتے تھے۔لیکن شاعر مشرق علامہ اقبال نے 1931 میں پہلی مرتبہ اذان دی تھی، یہ اذان اس مسجد کے در و دیوار پر 800 سال بعد سنائی دی تھی، صرف اذان ہی نہیں بلکہ نماز بھی ادا کی اور مسجد قرطبہ کے عنوان سے ایک نظم بھی لکھی، جو کہ اس منظر کو اور تاریخ کو عیاں کر رہی تھی۔مسلمانوں کی جانب سے 2006 میں پوپ

 

بینڈکٹ سے جامع مسجد قرطبہ میں عبادت کی اجازت مانگی جو کہ مسترد کر دی گئی۔ بلکہ اسپین کی حکومت نے 2014 میں اسے 30 یورو میں کلیسا کو فروخت کر دیا۔ ملک کے قانون کے مطابق اس مسجد کو چرچ کی ملکیت قرار دیا جا چکا ہے۔

Tags

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button